چترال اور وسط ایشیا کے تاریخی روابط-1

تحریر: گل مراد خان حسرتؔ

وسط ایشیا ء کا خطہ ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغزستان پر مشتمل ہے جبکہ اس کی عمومی تعریف میں مذکورہ چار ممالک کے علاوہ قزاقستان، مغربی چین(سنکیانگ)، افغانستان اور منگولیا کا مغربی حصہ بھی شامل ہے۔ اس علاقے کو ماضی میں ترکستان بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے مشرق میں واقع سنکیانگ وغیرہ کو مشرقی ترکستان اور مغربی علاقوں کو مغربی ترکستان بھی کہتے تھے۔

چترال جو زمانہ قدیم میں بلور کے نام سے موسوم تھا، وسط ایشیا کے جنوب اور جنوب مغرب میں واقع ہے جسے کوہ ہندوکش وسط ایشیا سے جدا کرتا ہے۔ لیکن اس پہاڑی سلسلے میں کچھ ایسے درے ہیں جو چترال کو وسط ایشیا سے ملاتے ہیں۔ لیکن ان دروں میں زیادہ تر آمدورفت درہِ بروغیل (بروغول) اور درہِ دوراہ سے ہوتی رہی ہے۔ قدیم زمانے سے یہ درے وسط ایشیا ءسے آنے والے مسافروں، تاجروں، حاجیوں اور حملہ آوروں کی گزرگاہیں رہ چکی ہیں۔ درہِ بروغیل (بلندی: 3798 میٹر) چترال کے علاقے بروغیل سے افغانستان کے علاقے واخان میں داخل ہونے کا راستہ ہے جس کو وسط ایشیا ءمیں داخل ہونے کا دروازہ بھی کہا جاسکتا ہے اور اس دروازے سے داخل ہوکر چند ایک راستے پامیر سے گزر کر یارقند اور کاشغر کی سمت نکل جاتے ہیں ۔ دوسرا راستہ واخان سے تاجکستان اور آگے اُزبکستان کی طرف جاتا ہے۔ اسی طرح درہِ دوراہ (بلندی: 4300 میٹر) لوٹکوہ چترال کو بدخشان سے ملاتا ہے اور آگے بہت کم یعنی 178 کلومیٹر کے فاصلے پر جاکر دریائے آمو اور اشکاشم تک پہنچتا ہے۔

جغرافیائی ساخت کے لحاظ سے چترال اور وسط ایشیا ءکے درمیان کئی خصوصیات مشترک ہیں۔ وسط ایشیا ءکے مشرق میں تیان شان ،کون لون اور پامیر اور جنوب میں ہندوکش کے پہاڑوں کا ایک بہت بڑا سلسلہ ہے۔ ان سلسلہِ کوہ کے لوگ پہاڑوں کے دامن میں بکھری وادیوں میں رہتے ہیں جو ندی نالوں اور دریاؤں سے سیراب ہوتی ہیں۔ دونوں علاقوں کے طبعی اور موسمی حالات ان کے رہن سہن میں یکسانیت کا سبب بنتے ہیں۔ ان بستیوں کی جغرافیائی ساخت، فنِ تعمیر، روایتی لباس، زراعت اور خوراک ، موسیقی، کھیل، دستکاری اور آرٹ میں گہری مماثلت ہے۔
جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تو اسلام سے پہلے دونوں علاقوں میں مظاہر پرستی، آتش پرستی اور بدھ مت کے ادوار گزرے ہیں۔ اب یہاں کے لوگ اسلام کے سُنی، شیعہ اور اسماعیلی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس علاقے میں اسلام کی ترویج بدخشان، بلخ اور بخارا سے آئے ہوئے علماء کے ہاتھوں سرانجام پائی۔ اسماعیلیوں کے داعی اور پیر بدخشان، شغنان، زیباک اور اشکاشم سے آکر اس مذہب کوفروغ دیا۔

ہندوستان کے ساتھ تجارت کے لئے وسط ایشیا ءکے تاجر چترال کا راستہ اختیار کرتے رہےہیں۔ قدیم شاہراہ ریشم کا ایک ذیلی راستہ یہاں سے گزرتا تھا۔ یہ شاخ پامیر سے واخان اور آگے درہِ بروغیل کے راستے چترال آتا تھا۔ حاجی کاشغر سے حج کو جانےکے لئے یہی راستہ اختیار کرتے تھے۔ یہ قافلے کی شکل میں جاتے اور ساتھ ساتھ تجارت بھی کرتے تھے۔ 1948 میں چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد آمدورفت کا یہ سلسلہ موقوف ہوا۔ ان حاجیوں کی قبریں جگہ جگہ پائی جاتی ہیں۔ ان کو مقامی لوگ "تُرکو گمبد” یعنی ترکوں کی قبر کہتے ہیں۔ درہِ بروغیل اور دوراہ سے تاجر قافلے قالین، برتن، سلاجیت، چینی ، سلک اور اون سے بنے کپڑے وغیرہ لے کر ہندوستان جاتے اور وہاں سے چائے، مصالحہ اور کپڑے وغیرہ لے کر واپس آجاتے تھے۔

جہاں تک زبان کا تعلق ہے تو فارسی اور ترکی وسط ایشیا ءکی بڑی زبانیں ہیں۔ تمدنی روابط کی وجہ سے چترال میں بولی جانے والی زبان "کھوار” پر ان کا گہرا اثر پڑا ہے۔ کھوار کے سینکڑوں الفاظ ترکی سے اخذ کیے گئے ہیں۔ قدیم زمانے میں فارسی چترال کی سرکاری اور ادبی زبان بھی تھی۔ چترال میں اس زبان کے نامور ادبا ءاور شعرا ءموجود رہے ہیں۔ یہاں کی درسی زبان بھی فارسی تھی۔ چترال میں قران پاک، احادیث اور اسلامی علوم کی تعلیم فارسی میں دی جاتی تھی۔ علم کی پیاس بجھانے کے لئے علماء دور دراز کا سفر طےکرکے چترال سے بدخشان ،بخارا اور سمرقند جاتے اور دینی درس گاہوں میں نامور علماء کے آگے زانوئے تلمذ باندتے تھے۔ چترال میں سے وسط ایشیا ءکے لوگوں کی آمدورفت کے نتیجے میں عام لوگ اور اشرافیہ بھی فارسی میں تکلم کرتے تھے۔

نسلی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ تعلق 1500 قبل مسیح سے چلا آرہا ہے جب آریہ وسط ایشیا ءسے نکل کر مغرب اور جنوب مغرب کی طرف پھیل گئے تھے۔ تقریباً 1000 قبل مسیح میں ان کا ریلا ہندوستان کی طرف بڑھا تو ان کے کچھ جتھے چترال کی وادیوں میں پہنچ کر یہی آباد ہوگئے۔ ان کے آثار چترال میں گریو کلچر کی صورت میں ملتے ہیں اور چند مقامات پر کھدائی کرکے ان پر تحقیق بھی کی گئی ہے۔ آریائی نسل کی باقیات ہمیں چترال کی تین وادیوں میں کیلاش قبیلہ کی صورت میں ملتی ہیں جو آریائی تہذیب پر اب بھی عمل پیرا ہیں۔ ان کے علاوہ چترال میں وہ خاندان بھی ہیں جو نہایت قدیم ہیں اور "بومکی” یعنی اصل باشندے کہلاتے ہیں۔ یہ بھی انہی آریائی سلسلے سے ہیں۔ آریہ کے بعد چترال میں ایسے خاندان آباد ہوتے رہے جن کا تعلق وسط ایشیاء کی مختلف اقوام سے تھا۔ یہ مغل، ترک اور تاجک تھے یا ان کا تعلق گورنو بدخشان کی اقوام سے تھا۔ یہ اکثر رئیس دور میں آئے اور دس بارہ نسلیں گزارنے کے بعد اپنی نسلی ابتدا بھول چکے ہیں اور اپنے آپ کو "کھو” یعنی چترالی کہتے ہیں۔ (جاری ہے)

گل مراد خان حسرت کا تعلق چترال سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔

2 تبصرے “چترال اور وسط ایشیا کے تاریخی روابط-1

اپنا تبصرہ بھیجیں