atta abad lake 100

عطا آباد حادثے کے 12 سال: ماحولیاتی نقصان کا خدشہ

سید اولاد حسین شاہ بشکریہ انڈپینڈنٹ اردو


عطا آباد جھیل کے متاثرین کے حق میں تحریک چلانے والے بابا جان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کو خبردار کیا گیا ہے کہ جھیل کے ہوٹلوں سے پانی کی نکاسی کا کوئی محفوظ نظام نہیں ہے اور گندا پانی جھیل میں جا رہا ہے۔

ایک قدرتی آفت کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں بننے والی عطا آباد جھیل کو وجود میں آئے 12 سال ہوگئے ہیں۔ اس دوران یہاں سیاحت کا بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے، جس سے ماحولیاتی آلودگی کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

یہ جھیل چار جنوری 2010 کو عطا آباد نامی گاؤں کے قریب پہاڑ سرکنے (لینڈ سلائیڈنگ) اور دریائے ہنزہ کے بلاک ہونے سے وجود میں آئی جس میں 20 افراد ہلاک اور چھ ہزار سے زائد بے گھر ہوگئے۔

اس حادثے میں گوجال سب ڈویژن سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 170سے زیادہ گھر اور 120 سے زیادہ دوکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں، جبکہ شاہرائے قراقرم کے بند ہونے سے خوراک اور دیگر ضروری ساز و سامان کی قلت پیدا ہو گئی تھی۔

مقامی رہائشی امجد علی بتاتے ہیں کہ اس حادثے میں ان کے دو گھر اور کئی ایکڑ زمین زیر آب آگئی، مگر معاوضہ اس لحاظ سے نہیں ملا۔

انہوں نے بتایا: ’جب یہ حادثہ پیش آیا اور یہ جھیل بن گئی، تو حکومت کی طرف سے ہمیں صرف چھ لاکھ روپے ملے تھے، باقی کچھ نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مختلف امدادی تنظیموں اور چین تک سے متاثرین کی امداد آئی، جس کے بعد لوگوں نے واپس اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق مقامی لوگ جھیل کے پاس اپنی زمینیں بیچ کر گلگت، اسلام آباد یا کراچی میں جائدادیں خرید چکے ہیں۔

حادثے کے بعد مقامی افراد نے سماجی کارکن بابا جان کی سربراہی میں متاثرین کے حق میں ایک مہم چلائی تاکہ انہیں ان کا حق اور معاوضہ مل سکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تھی جب 11 اگست 2010 کو علی آباد کے علاقے میں متاثرین کے ایک مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص اور ان کا 22 سالہ بیٹا ہلاک ہوگیا، جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے مقامی پولیس سٹیشن کو آگ لگا دی تھی۔

بابا جان نے اس قتل کے خلاف بھی ایک مہم چلائی تھی اور ذمہ داران کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم بابا جان کے خلاف ہی جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں دہشت گردی کے مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

انہیں مقامی عدالت نے دہشت گردی اور لوگوں کو بھڑکانے کے الزام میں 71 برس قید کی سزا سنائی، جسے قریب 10 سال بعد معطل کر کے بابا جان کو گذشتہ سال جیل سے رہائی ملی۔

عطا آباد حادثے کے 12 سال پورے ہونے پر انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں بابا جان نے خود پر درج مقدمات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’بے بنیاد ہیں۔‘

ان کے بقول جس دن احتتاج میں فائرنگ ہوئی وہ وہاں موجود ہی نہیں تھے بلکہ کہیں اور کسی جلسے میں خطاب کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا: ’باقی وقت ہی بتائے گا کون صیحیح تھا کون غلط۔‘

گلگت سے تعلق رکھنے والے بابا جان کا کہنا تھا: ’جو نقصان عطا آباد والوں کو ہونا تھا وہ ہو گیا، لیکن حکومت نے اس کے عوض چھ لاکھ روپے فی کس ادا کیے۔ باقی کچھ نہیں ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عطا آباد جھیل سے جو سیاح لطف اندوز ہو رہے ہیں اس کے نیچے لوگوں کی گھر بار، جائیداد اور یادیں سب کچھ دفن ہیں۔

’جن کے گھر ڈوبے تھے وہ تو بے گھر ہوگئے، اور جب حق مانگنے کی کوشش کی تو ان کے اوپر جھوٹے کیسز بنائے گئے، وہ بھی دہشت گردی کے۔ اپنا حق مانگنا کیا دہشت گردی ہوتا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومت مالی امداد دینے کے ساتھ ساتھ تربیت دیتی اور ہنر سکھاتی تو وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے۔ ’اب جو جھیل وہاں کا سیاحتی مرکز بن گئی ہے وہاں سے بھی مقامی لوگوں کو فائدہ ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ وہاں کی زمینیں سرمایہ داروں نے خریدی ہیں اور غریب لوگ وہاں سے ہجرت کرکے چلے گئے ہیں۔ دوسرے سرمایہ کار لوگوں نے عطا آباد کی زمینیں اونے پونے دام میں خرید لی ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاحتی مرکز بنی جھیل کی صفائی کا کوئی خیال نہیں کیا جا رہا۔ ’لوگ جو گند جھیل میں پھینک رہے ہیں وہ پانی میں شامل ہو رہا۔ ماحولیات پر کام کرنے والوں نے پہلی ہی اسے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ یہ پانی زہر سے کم نہیں ہے ‘

بابا جان نے بتایا کہ ڈبلیو ڈبلیو ایف نے گلگت بلتستان کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (ای پی اے) کو خبردار کر دیا ہے کہ عطا آباد میں ہوٹل تو بنے ہیں لیکن پانی کی نکاسی کا کوئی محفوظ نظام نہیں ہے۔ ہوٹلوں سے نکلا ہوا گندا پانی جھیل کے پانی میں شامل ہو رہا ہے، اور کئی کشتیاں وہاں چل رہی ہیں، جو ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہیں۔‘

اس سلسلے میں ای پی اے گلگت بلتستان سے رابطہ کیا گیا تو ایک عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے کو ڈبلیو ڈبلیو ایف کی رپورٹ مل چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’ماحولیات کے لحاظ سے ہم خود بھی محتاط ہیں کیونکہ عطا آباد جھیل سے جو پانی نکلتا ہے وہ نشیبی علاقوں میں پینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

عہدیدار کے مطابق: ’ہم کشتیوں کی باقاعدہ چیکنگ کرتے ہیں تاکہ آئل یا انجن آئل پانی میں نہ گرے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں سیورج لائن نہیں ہوتے بلکہ ٹینک ہوتے ہیں۔ گٹر کے پانی کا اخراج ان ٹینکوں میں ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’ہم ہوٹلوں اور کشتیوں کی باقاعدہ چیکنگ کرتے ہیں۔ جو کوئی بھی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے خلاف بھرپور کاروائی کرتے ہیں۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کئی ہوٹلز کئی کئی مہینے بند رہے ہیں۔‘

عہدیدار کے مطابق مقامی انتظامیہ کی نگرانی میں ایک کمیٹی بھی بنی ہے، جس کا ایک رکن ای پی اے سے بھی ہے۔ ’باقی جو بھی کوتاہیاں ہوتی ہیں، اس کے بھرپور آزالے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

ماحولیاتی نقصان پر رہائشی امجد علی نے کہا کہ سیاحت سے لوگوں کی روزی روٹی چل رہی ہے تو اسے مکمل طور پر نہیں ختم ہونا چاہیے۔ ’ہر کام پلاننگ کے تحت ہونا چاہیے۔ کام بھی ہو، سیاحت بھی ترقی کرے اور ماحول بھی خراب نہ ہو۔ اس سلسلے مقامی انتظامیہ کو سوچنا چاہیے۔ مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر لائحہ عمل ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔‘

موقف جاننے کے لیے مقامی انتظامیہ سے کئی بار رابطہ کیا گیا مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں