aziz ali dad 89

گلگت کی باہمت عورتیں جنہیں چڑیل قرار دیا گیا

عزیز علی داد


انگلستان میں زمانہ طالب علمی کے ابتدائی ایام کے دوران میں آکسفورڈ یونیورسٹی دورہ کرنے کا موقع ملا۔ دورے کے دوران ٹور گائیڈ نے یونیورسٹی کے مرکز میں ایک جگہ دکھائی جہاں پہ چار سو سال پہلے عورتوں کو چڑیل قرار دیکر ایک ستون کے ساتھ باندھ کے آگ میں جلایا جاتا تھا۔ ان عورتوں کو انگلستان میں پادری یا چڑیلوں کی تلاش پر معمور سرکاری اہلکار چڑیل ہونے کی سند جاری کرتے تھے۔ اس قبیح رسم کی آگ میں ازمنہ وسطی کے یورپ میں ہزاروں عورتیں جل گئی تھیں۔ تب سے اب تک گلگت بلتستان کے تناظر میں چڑیلوں پر میری ذاتی ریسرچ جاری ہے۔ یورپ میں چڑیلوں کے نام سے جو ظلم ہوا اس کا عورتوں کے متعلق ہمارے عصری رویوں سے بہت قریبی ذہنی مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ مضمون میں عورت دشمن رویوں پر روشنی ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔

جب سے پاکستان میں عورت مارچ آغاز ہوا ہے، تب سے پاکستان میں پدرشاہی نفسیات کے مارے ہوئے مردوں کے اندر پوشیدہ خوف اور خدشات نمایاں ہونے لگے ہیں۔ چونکہ عورت مارچ کی حامی عورتیں مروج پدرشاہی نظام، اخلاقیات اور پابندیوں سے اپنی آزادی کی بات کرتی ہیں، اس لیے پدرشاہی نظام کے محافظوں کے دل و دماغ میں خوف اور ارتعاش کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر ہے۔ پاکستان میں ہر سال عورت مارچ کے حوالے سے ایک سخت بحث چھڑ جاتی ہے۔

اس بحث کا تجزیہ ہمارے معاشرتی نفسیات کے اندر رونما ہونے ذہنی الجھنوں، بیماریوں اور خدشات کو عیاں کرنے میں مدد دیتا ہے۔ گو کہ عورت مارچ کی بحث نئی ہے مگر اس کی مخالفت میں جو آوازیں اٹھتی ہیں، ان کی ذہنی جڑیں صدیوں تک پیچھے چلی جاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ صدیوں سے منجمد عورت دشمن نظریات کا انبار ہمارے اجتماعی لاشعور کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی اجتماعی لاشعور عورتوں کے متعلق ہمارے آج کے رویوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔

عورت دشمن اور پدر شاہی رویے تو سارے پاکستان میں موجود ہے، مگر میں اس مضمون میں گلگت بلتستان کے تناظر میں اس رویے پر تاریخی، بشریاتی و نفسیاتی نقطہ نظر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ سب سے پہلے جو بات سننے کو ملتی ہی وہ یہ ہے کہ آزادی کے لئے آواز اٹھانے والی ہر عورت بدچلن ہوتی ہے اور یہ آزادی کے دعوے اپنی بے راہ روی کے لئے جواز پیدا کرنے کے لئے کیے جا رہے ہیں۔ لہذا اس بے راہ روی کے سمندر کو روکنے کے لئے مردہ و منافق اقدار کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اور غیرت مند مرد اس کو روکنے کے لئے کمر کس کے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
درحقیقت ان روایتی اقدار کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کو اقدار سے زیادہ اپنے ہاتھ سے عورتوں کے اوپر جو اختیار ہے اس کے جانے کا خوف ہوتا ہے۔ ورنہ اگر اس مرد کو اقدار اور اخلاقیات کی اتنی پرواہ ہوتی تو وہ کبھی بھی اخلاقیات کا ہر دن دن دھاڑے دھجیاں نہیں اڑاتا۔ چونکہ اس مرد میں اتنی ہمت نہیں کہ اپنے اندر جھانک سکے اس لئے وہ ہمیشہ قربانی کے بکرے اور بکریاں ڈھونڈتا رہتا ہے۔ تاریخی اور معاشرتی طور پر قربانی کی بکریوں میں نمایاں عورت رہی ہے۔ چلو اس کو ہم اپنی ثقافتی روایت/رویے اور تاریخ سے لی گئی مثالوں سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر کیوں گلگت کا مرد عورت کی آزادی سے اتنا خوفزدہ ہے۔

جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ گلگت کے مردوں کا عورت سے خوف صدیوں پرانا ہے۔ گلگت میں چڑیل کا تصور بہت پرانا ہے۔ چڑیل کو شینا میں ”روئی“ بروششکی میں ”بللس“ اور کھوار میں ”گور“ کہا جاتا ہے۔ روایتی طور پر گلگت کے معاشرے میں چڑیل کا تصور عورت پر تسلط قائم رکھنے کے لیے ایک بہت ہی طاقتور مگر مہلک ہتھیار کے طور پر اپنایا گیا۔ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی عورت سوال زیادہ کرے یا زبان زیادہ چلائے تو اسے چڑیل کہا جاتا ہے۔

اگر کوئی عورت اپنی جنسیت اور محبت کا اظہار کرے تو وہ بھی چڑیل قرار دی جاتی تھی۔ حد یہ تھی کہ بچوں کو بھی ان چڑیلوں سے بچایا جاتا تھا۔ جبکہ اصل میں مرد بچوں کو شری بدت کی طرح کھا رہا ہوتا تھا، لیکن بری مخلوق چڑیل یعنی عورت ہی قرار دی جاتی تھی۔ تشدد کی نفسیات یہ بتاتی ہے کہ کسی بھی انسان پر ظلم و ستم کرنے سے پہلے اس کو اس کی انسانیت سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اب چڑیل ہے ہی بدی کی علامت، تو ایسی ہستی کے وجود کو انسانیت سے عاری قرار دینا لازمی ٹھرا۔

اس لئے چڑیل کو گلگت کے معاشرے میں مافوق الفطرت خصلتوں کی حامل ایک غیر انسانی مخلوق تصور کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت کے ریاستوں کے روایتی قوانین میں چڑیلوں کے قتل پر کوئی سزا مقرر نہیں تھی۔ یوں لوگ ہر آواز اٹھانے والی عورت کو چڑیل قرار دیکر بغیر کسی خوف کے قتل کرتے تھے اور اس طرح پدرشاہی معاشرتی کنٹرول کے نظام و انصرام کو دوام پہنچاتے تھے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ چڑیل قرار دی جانے عورتیں کون تھیں؟ اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ یہ گلگت کی وہ باہمت خواتین تھیں جنھوں نے سب سے پہلے پدرانہ نظام، رسومات اور اقدار کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ اس لیے ان کو گلگت کی تانیثی تحریک کے سرخیل بھی کہا جاسکتا ہے۔ آپ سوال کریں گے کہ وہ کس طرح؟ وہ اس طرح کے جبری شادیوں کی وجہ سے عورت کا دل کہیں کسی اور کے پاس رہ جاتا تھا اور جسم کسی اور کے پاس۔

اس جسم اور دل کی تقسیم عورت کو ایسی نفسیاتی کیفیات اور الجھنوں میں مبتلا کر دیتی تھی جن کے متعلق مردوں کو نہ ہی احساس اور نہ ہی فہم ہوتا تھا۔ عورتوں کا میرا جسم میری مرضی کا نعرہ بنیادی طور پر پدرشاہی معاشرے کی پیدا کردہ نفسیاتی بیماریوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اس چیز سے شفا حاصل نہیں کر سکتے جو ہمارے اندر مرض کا باعث بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح عورتوں کے مسائل کا حل بیمار پدر شاہی نظام و اقدار میں نہیں ہے، بلکہ اس کے خاتمے میں ہے۔ پدرشاہی ذہنیت ایک مرض ہے اور اس کا علاج عورت کی آزادی ہے۔

جن عورتوں کو گلگت میں چڑیلیں کہا گیا یہ وہ خواتین ہیں جنھوں نے اپنے جذبات اور جنسیت کا اظہار کیا۔ اس گناہ کبیرہ کے نتیجے میں ان کو ڈنگ لٹھس ( مہا چڑیل) کے القابات دیے گئے۔ اسی طرح پرانے زمانے میں پدر شاہی نظام، ثقافتی رسوم اور معاشرتی قیود سے بیزار خواتین ایک خفیہ طرز کی سوسائٹی تشکیل دیتی تھیں اور مل کر صرف خواتین پر مشتمل ایک محفل کا انعقاد کرتی تھی جہاں پر وہ کھل کر اپنے خوابوں، خوف، غصے، مایوسی، امنگوں، جنسیت، خواہشات، احتیاجات اور خدشات کا کھل کر اظہار کرتے تھے اور جشن مناتے تھے۔

یہ نسوانی محفل ایک طرح سے پدر شاہی ذہنیت سے ڈی ٹوکسیفیکیشن یا تطہیر جذبات اور عورت سے مردم بدری کا ایک ذریعے فراہم کرتی تھی۔ گلگت میں شہر کاری سے پہلے ہر سال دیہاتوں میں لڑکیاں مل کر صرف لڑکیوں کی ایک بیٹھک کرتی تھیں جو کئی دنوں تک جاری رہتی تھی۔ اس رسم کو شینا میں ملایوچ بیوک ( لڑکیوں کی محفل) اور بروششکی میں ”شکرو ہروٹس“ کہتے ہیں۔ اس بیٹھک میں طعام و قیام، ناچ گانا، دل کی باتیں اور دیگر چیزیں ہوتی تھیں جن کو عام زندگی میں کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس طرح یہ رسم ایک ایسا سپیس مہیا کرتی تھی جہاں پر عورت اپنی نسائیت کی شناخت کا دعوی کر سکتی تھیں۔ لڑکیوں کی یہ بیٹھک چڑیلوں کی بیٹھک کی ہی باقیات ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں میں گلگت بلتستان کے بعض طبقات میں گلگت کے قدیمی بادشاہ شری بدت کو ہیرو بنانے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شری بدت کو ایک آدم خور بادشاہ تصور کیا جاتا تھا جس کو ایک غیر مقامی شہزادے آذر جمشید نے اس کی بیٹی میو خائی کی مدد سے قتل کیا گیا اور یوں لوگوں کو بادشاہ کی آدم خوری سے نجات دلائی۔ یہ سوال کہ شری بدت آدم خور تھا یا نہیں الگ بحث ہے، لیکن اس قوم پرستانہ نوتشریحی دلیل میں کہانی کی واحد کردار میو خائی کو ایک غدار کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔ اگر اس واقعے کو دوسرے نقطہ نظر سے دیکھیں تو نور بخت وہ واحد بہادر خاتون نظر آتی ہیں جو اس انسانیت سوز اور انسانیت خور برائی کو نہ صرف پہچانتی ہے بلکہ اتنی جرات پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی طاقتور والد کا سامنا کرسکے۔

جو معاشرہ کمزور ہوتا ہے وہ سچ کو بیان کرنے کی جرات کھو دیتا ہے۔ یوں اپنی کمزوری کا مداوا کرنے کے لیے نئے طریقے اپناتا ہے جو اظہار کے جھوٹے ذراٰئع فراہم کرتا ہے۔ ایسا معاشرہ جب بھی سچائی کو بیان کرتا ہے تو کمزور استعارہ جنم دیتا ہے۔ یوں وہ سچ سے آنکھیں ملانے کی جرات نہیں کر پاتا ہے اور کنایوں میں باتیں کرنے لگتا ہے۔ نتیجے کے طور پر معاشرہ وجودی طور پر ابلاغی ابہام اور انتشار ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ سے پرانے نظام کی عمرانی معاہدے کی بنیادیں ڈھے جاتی ہیں۔

شری بدت کے معاملے میں بھی مسئلہ سچ کو بولنے کی جرات اور اس کی ابلاغ کا ہے۔ گلگت میں مردوں کے سب کلچر میں ایک اصطلاح مممشو استعمال ہوتی ہے۔ مممشو کے لفظی معنی میمنے کے ہیں مگر عمرانی طور پر اس سے مراد ایک ایسے نوخیز بچے کے ہیں جو مرد کے لیے جنسی اپیل رکھتا ہو۔ ہمارے کلچر میں بچہ باز مرد کو اس کے مرد دوست شری بدت کہتے ہیں۔ اور مشہور بچہ باز مرد کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ بچے کھاتا ہے۔ اب کھا جانے کا لفظ حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ استعاراتی طور پر استعمال ہوتا ہے۔

شہزادی نور بخت کا اپنے والد کے خلاف بغاوت کہیں اس گھناونے معاشرتی بیماری کے خلاف تو نہیں تھی جس کو گلگت والے بتانے سے ڈرتے تھے؟ اگر یہ بغاوت اس قبیح حرکت کے تھی تو میو کھائی ایک غدار نہیں بلکہ ایک جرات مند خاتون کے طور پر ابھرتی ہے۔ مگر مردوں کے بیانیے میں وہ غدار ٹھہرتی ہے کیونکہ اس نے مرد کے خلاف بغاوت کی اور اپنی پسند کی شادی کی۔ اگرچہ یہ بات الگ ہے کہ اس نے شادی ایک عام گلگتی سے نہیں بلکہ شہزادے سے کی۔ گلگت بلتستان کی خواتین کو چاہیے کے وہ مقامی تاریخ کے کرداروں کو اٹھائیں اور ان کو اپنے نسائی بیانیے کی تشکیل مقامی استعاروں کی مدد سے کریں ورنہ تاریخ میں جو بچی کچی خواتین ان کو بھی بدی کی علامت بنایا جائے گا۔

اب ایسی بات نہیں کہ چڑیلوں اور آدم خوری کی باتیں قدیم زمانے کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری ذہنیت آج بھی آدم خوری اور اپنے آپ سے مختلف لوگوں کو بدی کا نمائندہ قرار دینے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی بچہ بازی عام ہے اور جرات مند خواتین کو غلیظ القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اب تو اس پدرشاہی ذہنی بیماری مزید ابتر ہو گئی ہے اور بات جان لینے تک پہنچی ہے۔ آج کل خواتین کے خلاف جو اعلانات اور غلیظ القابات دیے جا رہے ہیں، وہ اس پدرشاہی دنیا کی ختم ہونے کے نوحے ہیں۔

عورت دشمن ذہنیت کی بنائی ہوئی دنیا کا ڈھانچہ اس کے سامنے زمین بوس ہو رہا ہے۔ اب جو بھی اس ملبے سے نئی دنیا بنانے کی کوشش کریں گے وہ پرانے قبروں سے صرف مردے ہی نکال پائیں گے۔ پدرشاہی ذہنیت ایک ایسی زمین ہے جہاں پر صرف، تسلط، دھونس، منافقت، فسطائیت، عورت دشمن، نظربند معاشرہ اور یک رخا ذہن ہی اگ سکتا ہے۔ نئی دنیا کی تشکیل کے لیے نئی زمین کی آبیاری کرنی ہوگی جہاں پہ ہزاروں نئے پھول کھل سکیں اور ہزاروں خیالات پنپ سکیں۔

یہ جو چڑیل، غدار، ایجنٹ، واحیات، طوائف، فاحشہ، نسائیت پسند، سماج دشمن، بے غیرت اور دیگر غلیظ القابات ہیں، وہ اس مرتے ہوئے ذہن کی علامات ہیں۔ آپ خواتین کو ان القابات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کو چڑیل قرار دیا جاتا ہے تو اس کے پیچھے مرد کا خوف ہے کہ کہیں اس کا تشکیل دیا ہوا خوفناک معاشرہ اور اس میں اس کا ارفع مقام ختم نہ ہو جائے۔ آپ چڑیل بننے پر فخر کریں نہ کہ منافق پدر شاہی اقدار میں اپنی شناخت ڈھونڈیں۔ پاکستان کا مرد ویسے بھی اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ آپ جتنے بہادر ہونگی، مردوں میں اتنا ہی خوف پیدا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں