انھیں بی جے پی کی مرکزی حکومت کے ذریعے سنہ 2019 تک کھلے میدان میں رفع حاجت کی رسم کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ایک سکیم کا فائدہ ہوا۔ ’سوچھ بھارت ابھیان‘ نامی اس پرگرام کے تحت حکومت غریبوں کو ٹوائلٹ کی تعمیر کے لیے معاوضہ فراہم کرتی ہے 105

ٹوائلٹ اور گیس کنکشن جیسے منصوبے جنھوں نے نریندر مودی کو عورتوں کے ووٹ دلوائے

نیاز فاروقی بی بی سی اردو


فروری اور مارچ کے مہینوں میں پانچ ریاستوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات میں نریندر مودی کی پارٹی بی جے پی کی موثر کارکردگی کے بعد وزیر اعظم نے خواتین ووٹروں کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ان کی دعائیں (ہمارے ساتھ) ہیں۔ ہم نے ان علاقوں میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے جہاں خواتین ووٹروں کا غلبہ ہے۔ ناری شکتی (خواتین کی طاقت) اس جیت میں ہماری شراکت دار رہی ہے۔‘

’ناری شکتی‘ اور بی جے پی کی کامیاب شراکت داری کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں خاص طور پر غریب گھروں میں ٹوائلٹ تعمیر کروانا، کھانا بنانے کے گیس سلنڈرز فراہم کرنا اور امن و امان میں بہتری شامل ہے۔

حالانکہ اترپردیش میں روایتی طور پر ذات پات کی بنیاد پر ووٹ ڈالا جاتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے ذات پات کو ترجیح دینے کے بجائے واضح طور پر بی جے پی حکومت کی فلاحی سکیموں پر مہر لگائی ہے جو کہ پارٹی کی کامیابی کی ایک اہم وجہ بنی ہے۔

سشیلہ دیوی اترپردیش کے مشرقی علاقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے گھر کے پیچھے بیت الخلا بنانے سے پہلے وہ کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جایا کرتی تھیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہمیں گھر سے کافی دور جانا پڑتا تھا تاکہ ہم آبادی والے علاقے سے دور جا سکیں۔‘ اس کے علاوہ انھیں یہ یقینی بنانا پڑتا تھا کہ وہ صبح کی روشنی آنے سے پہلے رفع حاجت کے عمل سے فارغ ہو جائیں۔

تین سال پہلے حالات بدل گئے جب حکومت نے انھیں ٹوائلٹ بنانے کے لیے معاوضہ دیا۔

انھیں بی جے پی کی مرکزی حکومت کے ذریعے سنہ 2019 تک کھلے میدان میں رفع حاجت کی رسم کو ختم کرنے کے لیے شروع کی گئی ایک سکیم کا فائدہ ہوا۔ ’سوچھ بھارت ابھیان‘ نامی اس پرگرام کے تحت حکومت غریبوں کو ٹوائلٹ کی تعمیر کے لیے معاوضہ فراہم کرتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اب مجھے اس کی فکر نہیں کہ مجھے کب جانا ہے یا کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے۔

الیکشن سے متعلق موضوعات کے ماہر یشونت دیش مکھ کے مطابق ریاست میں بنائے گئے بیت الخلا نے بی جے پی کی کامیابی میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشن انڈیا میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کو رفاع حاجت کے لیے کھیتوں میں جانا پڑتا ہے

انھوں نے کہا کہ ’ملک کے کسی بھی حصے میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے جو سب سے زیادہ واقعات ہوتے ہیں، ان میں ایک بڑا حصہ ان خواتین کا ہوتا ہے جو صبح سویرے اور شام کو کھیتوں میں رفع حاجت کے لیے جاتی ہیں۔ بیت الخلا کی تعمیر خواتین کے لیے ہے۔

ان کے لیے یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں تھا، یہ ان کی سلامتی، ان کی شناخت کا مسئلہ تھا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ خواتین مسائل پر ووٹ دیتی ہیں نہ کہ کسی مرد یا خاتون امیدوار کے چہرے پر۔ وہ کہتے ہیں کہ ’آپ اسے صرف اتر پردیش میں نہیں دیکھیں گے، آپ اسے اتراکھنڈ میں بھی دیکھیں گے۔ وہاں بی جے پی نے تین تین وزرائے اعلیٰ کو تبدیل کیا لیکن اس کے باوجود بی جے پی کی برتری نظر آرہی ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں ریاستی حکومت اور لیڈروں کے خلاف غصہ تھا لیکن وزیر اعظم مودی اور ان کے منصوبوں نے کام کیا اور ان منصوبوں کی کارکردگی کے حساب سے ان پر مہر لگی۔

جیسے سشیلہ کے لیے بیت الخلا ایک اہم وجہ تھی، ویسے ہی وسطی یو پی کے بندیل کھنڈ علاقے سے تعلق رکھنے والی گیتا کماری کے لیے حکومت کے ذریعے فراہم کیا گیا گیس کنیکشن وجہ تھا۔

2019 کے پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم مودی کی جیت بڑی حد تک ان کی مقبول ’اجولا (روشن) سکیم‘ سے منسلک تھی۔ اس میں غریب اور دیہی خواتین کو گیس سلنڈر فراہم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کی نظر میں اس سکیم نے مودی حکومت کے لیے خواتین کی حمایت میں اضافہ کرنے کا کام کیا تھا۔

2019 کے انتخابات اور اس سے پہلے آسام، کرناٹک، اتر پردیش اور گجرات کے اسمبلی انتخابات میں بھی بی جے پی کو مردوں کے مقابلے خواتین کے زیادہ ووٹ ملے تھے۔

کولکتہ
،تصویر کا کیپشن انتخابات میں خواتین نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا

گیتا بتاتی ہیں کہ ’اس سے چولہا جلانے کے لیے لکڑی جمع کرنے کا میرا سر درد ختم ہو گیا۔’ حالانکہ ان کے خاندان کے لیے اکثر حکومت کے ذریعے فراہم کی گئی گیس ناکافی ہوتی ہے لیکن پھر بھی وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ بھی نہ ہونے سے کچھ ہونا تو بہتر ہے نہ۔‘

سینیئر صحافی پورنیما جوشی بتاتی ہیں کہ ’راشن کے معاملے میں یوپی میں لوگوں میں یہ بات پھیلائی گئی کہ مودی کا نمک کھایا ہے۔ اس کے علاوہ گیس، پردھان منتری سمان ندھی سکیمیں (جس کے تحت ہر کسان کو سال میں 6 ہزار روپے فراہم کیا جاتا ہے)، بیت الخلا اور اس جیسے اور بھی کئی مسائل ہیں جن پر لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔‘

یشونت دیش مکھ کے مطابق اسے ترقی کی جیت سے بہتر حکمرانی کی جیت کہا جانا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’راشن مل گیا، چھت مل گئی، بیت الخلا بن گئے اور کھاتے میں پیسے آگئے۔‘

ضلع علی گڑھ کی جیوتی چوہان، جو کہ اپنے شوہر کے ساتھ میڈیکل سٹور چلاتی ہیں، کہتی ہیں کہ ریاست میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں وہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔

جیوتی کے شوہر نے ایودھیا میں رام مندر بنانے کے بی جے پی کے اعلان کی وجہ سے پارٹی کو ووٹ دیا تھا لیکن جیوتی کا ووٹ بی جے پی کے اقتدار میں ’عورتوں کی حفاظت‘ کی وجہ سے اس پارٹی کو گیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرا ماننا ہے کہ اس سرکار میں لڑکیاں بہت محفوظ ہیں۔ میری عمر 29 سال ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ دوسری سرکاروں میں لڑکیاں محفوظ نہیں تھیں لیکن اس سرکار میں لڑکیاں محفوظ طریقے سے گھر سے نکل سکتی ہیں، چاہے دن ہو، رات ہو، کھبی بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ انکے گاؤں میں اکثر عورتوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے، کیوں کہ وہ پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ ’آج اگر کوئی چھیڑتا ہے تو آب سیدھے جا کر کیس کر سکتے ہیں۔۔۔ مفت میں سیلنڈر تقسیم ہوئے ہیں، سرکار کسانوں کو پیسے بھی دے رہی ہے، اور کیا چاہیئے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ بی جے پی کے اقتدار میں جہیز کے مطالبے میں بھی کمی آئی ہے، کیونکہ لوگ مطالبے کو اب فون پر ریکارڈ کر لیتے ہیں جو کہ لڑکے والوں کے لیے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔

آبادی کے لحاظ سے اتر پردیش ہر سیاسی پارٹی کے لیے ایک اہم ریاست ہے۔ 1989 سے تاحال وہاں کوئی بھی پارٹی مسلسل دو بار اقتدار میں نہیں آئی ہے، لیکن حالیہ اانتخابات میں بی جے پی کی کارکردگی نے اس روایت کو توڑ دیا ہے۔ بی جے پی کے لیے مودی کا اثر و رسوخ، فرقہ وارانہ سیاست، ذات پات کی بنا پر امیدواروں کو ٹکٹ دینے جیسی وجوہات کے علاوہ قومی سطح پر مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا زیادہ ووٹ ملنا ایک موثر طریقہ کار ثابت ہو رہا ہے۔

دیش مکھ کہتے ہیں کہ ’ریاست کے مردوں نے بنیادی طور پر ذات پات کی مساوات اور فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ ڈالے۔ یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ خواتین ووٹرز کی وجہ سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی جیتی ہے۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں