مجھے یاد ہے ایک بار میں حیدر آباد دکن میں ایک کالج کے ہال میں پانچ چھ سو طلبہ پر مبنی سامعین کے سامنے بیٹھی تھی۔ میرے بائیں جانب اس تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کر رہے تھے۔ میرے دائیں جانب شاعری کے ایک پروفیسر تھے۔ وائس چانسلر نے میرے کان میں سرگوشی کی، ”آپ کو فکشن پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کی سیاسی تحریریں ہی وہ چیزیں ہیں جن پر آپ کو توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔“ دوسری جانب بیٹھے شاعری کے پروفیسر نے سرگوشی کی، ”آپ فکشن لکھنے کی جانب واپس کب آئیں گے؟ آپ کا اصل ہنر تو یہی ہے۔ یہ دوسرا کام جو آپ کرتی ہیں وہ تو وقتی ہے۔ میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ میرا فکشن اور نان فکشن دو متحارب فریق ہیں، جو حاکمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں یقینی طور پر ایک سے نہیں، لیکن دونوں کے درمیان تفریق کی وضاحت کی کوشش در حقیقت اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا میں تصور کر سکتی تھی۔ حقیقت اور فکشن ایک دوسرے کے حریف نہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے لازمی طور پر زیادہ سچا، زیادہ درست اور زیادہ حقیقی نہیں۔ اور بلکہ میرے معاملے میں تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ایسا نہیں جس کے لیے دوسرے کی بہ نسبت زیادہ مطالعے کی ضرورت ہو۔ میں تو بس یہی کہہ سکتی ہوں کہ جب میں لکھ رہی ہوتی ہوں تو اپنے جسم اور اپنے لہو میں ایک تغیّر محسوس کر لیتی ہوں۔ دونوں پروفیسروں کے درمیان بیٹھے میں ان کے متضاد مشوروں سے محظوظ ہوئی۔ میں وہاں بیٹھی مُسکراتی رہی اور اس پہلے پیغام کو سوچتی رہی جو مجھے جون برجر کی جانب سے موصول ہوا تھا۔ وہ ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خوبصورت خط تھا، اس مصنّف کی جانب سے جو کئی برسوں سے میرے ہیرو رہے تھے۔ ”آپ کا فکشن اور نان فکشن، یہ آپ کو دنیا کے گرد ایسے لیے پ 147

میرا فکشن اور نان فکشن

اروندھتی رائے


مجھے یاد ہے ایک بار میں حیدر آباد دکن میں ایک کالج کے ہال میں پانچ چھ سو طلبہ پر مبنی سامعین کے سامنے بیٹھی تھی۔ میرے بائیں جانب اس تقریب کی صدارت یونیورسٹی کے وائس چانسلر کر رہے تھے۔ میرے دائیں جانب شاعری کے ایک پروفیسر تھے۔ وائس چانسلر نے میرے کان میں سرگوشی کی، ”آپ کو فکشن پر مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ آپ کی سیاسی تحریریں ہی وہ چیزیں ہیں جن پر آپ کو توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔“ دوسری جانب بیٹھے شاعری کے پروفیسر نے سرگوشی کی، ”آپ فکشن لکھنے کی جانب واپس کب آئیں گے؟ آپ کا اصل ہنر تو یہی ہے۔ یہ دوسرا کام جو آپ کرتی ہیں وہ تو وقتی ہے۔
میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ میرا فکشن اور نان فکشن دو متحارب فریق ہیں، جو حاکمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ دونوں یقینی طور پر ایک سے نہیں، لیکن دونوں کے درمیان تفریق کی وضاحت کی کوشش در حقیقت اس سے زیادہ مشکل ہے جتنا میں تصور کر سکتی تھی۔ حقیقت اور فکشن ایک دوسرے کے حریف نہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے لازمی طور پر زیادہ سچا، زیادہ درست اور زیادہ حقیقی نہیں۔ اور بلکہ میرے معاملے میں تو ان دونوں میں سے کوئی ایک ایسا نہیں جس کے لیے دوسرے کی بہ نسبت زیادہ مطالعے کی ضرورت ہو۔ میں تو بس یہی کہہ سکتی ہوں کہ جب میں لکھ رہی ہوتی ہوں تو اپنے جسم اور اپنے لہو میں ایک تغیّر محسوس کر لیتی ہوں۔
دونوں پروفیسروں کے درمیان بیٹھے میں ان کے متضاد مشوروں سے محظوظ ہوئی۔ میں وہاں بیٹھی مُسکراتی رہی اور اس پہلے پیغام کو سوچتی رہی جو مجھے جون برجر کی جانب سے موصول ہوا تھا۔ وہ ہاتھ سے لکھا ہوا ایک خوبصورت خط تھا، اس مصنّف کی جانب سے جو کئی برسوں سے میرے ہیرو رہے تھے۔ ”آپ کا فکشن اور نان فکشن، یہ آپ کو دنیا کے گرد ایسے لیے پھرتے ہیں جیسے یہ آپ کی دو ٹانگیں ہوں“، ان کے اس فرمان نے میرے لیے یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے طے کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں