glgit baltistan govt assembly 163

گلگت بلتستان حکومت کی ترجیحات

آظہر علی


گلگت بلتستان میں موجودہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت زیادہ تر شہرِ اقتدار اسلام آباد میں قیام کرتی ہے اور سیر سپاٹے کے لیے کچھ دن گلگت بلتستان میں بتاتی ہے۔ دو تین مہینوں سے عبوری صوبہ نامی استعماری منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت خالد خورشید خان وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی قیادت میں تگ و دو کررہی تھی لیکن جب سے عمران خان کے خلاف حزب اختلاف نے عدم اعتماد کا بل جمع کروایا ہے اس کے بعد عبوری صوبے کا منصوبہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت 27 مارچ کو اسلام آباد میں عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے جلسہ منعقد کرنے جارہی ہے اس لیے گلگت بلتستان کی کٹھ پُتلی حکومت نے اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھیں ہیں لیکن تحصیل روندو گزشتہ دو ماہ سے مسلسل زلزلے کی زد میں ہے ، جس وجہ سے غریب عوام کے گھر مسمار ہوچکے ہیں لیکن حکومت زلزلہ متاثرین کے لیے متبادل رہائش کا کوئی انتظام نہیں کررہی نہ کمپنسیشن مہیا کررہی ہے۔ آئے روز گلگت سکردو روڈ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے بند ہوجاتا ہے لیکن انتظامیہ روڈ کھولنے میں سستی کا مظاہرہ کررہی ہے جس سبب مسافر اذیت ناک صورتحال سے دوچار ہیں۔ گلگت میں پھنسے بلتستان کے مسافروں نے آج گلگت بلتستان اسمبلی کے سامنے احتجاج کیا۔ مسافروں کا مطالبہ ہے کہ فلفور سی ون تھرٹی طیارے میں انھیں سکردو لے جایا جائے لیکن ابھی تک اس حوالے سے حکومت و انتظامیہ خاموش ہے اس لیے 22 مارچ کو عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے چیئرمین نجف علی کی قیادت میں مسافروں نے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ہاؤس کے سامنے دھرنہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت عمران خان کے جلسے کو کامیاب بنانے کے لیے جوش و خروش کے ساتھ کام کررہی ہے لیکن روندو کے آفت زدہ عوام کے لیے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ اس نظامِ زر کے خلاف جب تک عوام ایک جڑ ہوکر جدوجہد نہیں کرتے تب تک اس طرح کے انسان کش سرمایہ داروں کے بغل بچے ہم پر حکمرانی کرتے رہیں گے اور اسی طرح عوام کو بے یار و مددگار چھوڑ کر عیاشیوں میں مصروف رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں