49

زبانوں کی اکیڈیمی


تحریر:ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی


پا کستان جر نل آف لینگو یجز مشکل نا م ہے اس کا اردو متبا دل بھی آسان نہیں ہو گا جریدہ السنہ ہائے پا کستان لکھا جا ئے تو انگریزی سے مشکل نظر آئے گا ۔

یہ گندھا را ہند کو اکیڈ یمی کا جریدہ ہے جو سال میں دوبار شائع ہو تا ہے اس کو ششما ہی یا بائی اینول کا نا م دیا جا تا ہے۔

 جریدے کا پہلا شمارہ آیا تو قارئین کو بہت اچھا لگا ایک جریدے میں ملک کی مختلف زبا نوں کو جگہ دینے کی روا یت بہت اچھی ہے اور یہ آج کی با ت نہیں یہ انیس نو مبردو ہزار پانچ کی بات ہے جب اکیڈ یمی نہیں بنی تھی ۔

گند ھا را ہند کو بورڈ نے پبلک لا ئبریری پشاور کے ہال  میں پہلی بین الاقوامی ہند کو کانفرنس    کے مو قع پر ہا ل کی دائیں اور با ئیں دیواروں پر ستائس زبا نوں میں خوش آمدید کے متبا دل جملے جیسے ”جی آیاں نوں“ ”پہ خیر را غلے“ وغیرہ لکھے ہوئے تھے ۔

اور پہلی بار ستائس زبا نوں کے ادیب، شاعر، دانشور، ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر ادب وثقا فت پر گفتگو کر رہے تھے۔

 صدر نشینوں میں ڈاکٹر ظہور احمد اعوان،سر دار خان فنا اور دیگر نا مور ادبی ما ہرین کندھے سے کندھا ملا کر بیٹھے ہوئے نظر آرہے تھے ۔

کا نفرنس کی آخری نشست میں قرار داد کے ذریعے صو بائی حکومت سے مطا لبہ کیا گیا کہ صو بے کی تما م زبا نوں کو تر قی کے یکساں مواقع فراہم کرنے  کے لئے گند ھا را ہند کو اکیڈیمی قائم کی جا ئے۔

 بعض لو گوں کو یہ شیخ چلی کا خواب لگ رہا تھا تا ہم ڈاکٹر صلا الدین، ڈاکٹر عد نا ن گل، صابر حسین  امداد  اور ضیا ء الدین کو پکا یقین تھا کہ گندھا را ہند کو اکیڈ یمی ضرور بنے گی ۔

گندھا را ہند کو بورڈ نے اپنی کو شش جا ری رکھی پشاور میں دس سا لوں کے اندر تین بین لاقوامی کا نفرنسوں کے بعد ڈیرہ اسما عیل خان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، سوات، چترال، گلگت، امریکہ اور کینڈا میں لسا نیا تی کا نفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔

 ان کا نفرنسوں میں مقا می ادبی تنظیموں کے ساتھ رابطے مضبوط ہو ئے نیز مقا می ادیبوں اور دا نشوروں کو بڑی تعداد میں آکر شریک ہو نے کا موقع ملا ۔

پا کستان سے با ہر جو لوگ پشاور اور صو بہ خیبر پختونخوا کی ثقا فت سے دلچسپی رکھتے ہیں ان کو بھی بڑی تعداد میں ایک جگہ جمع ہو نے کا مو قع ملا۔

 مقا می سطح پر ادب کی آبیاری کے لئے ادبی اکٹھہ اور خا ص موا قع پر ادبی مجا لس کا سلسلہ جاری رہا، اس میں احمد ندیم اعوان اور سکندر حیات سکندر کی کا وشیں لائق تحسین ہیں۔

 کانفرنسوں میں ڈاکٹر الٰہی بخش احتر اعوان، ڈاکٹر امجد حسین، اعجا ز احمد قریشی، اعجا ز رحیم، اور دیگر قدآ ور شخصیات کی شر کت سے مثبت اثرات مر تب ہوئے ۔

صو بائی حکومت نے کسی پبلک سیکٹر یونیور سٹی میں ہند کو اکیڈیمی کے قیا م سے اتفاق کیا دو ہزار چودہ میں قو می اسمبلی نے پا کستا نی زبا نوں کے بارے میں ماروی میمن کی قرار داد منظور کی۔

دو ہزار پندرہ  میں گندھا را ہند کو بورڈ اور صو بائی حکومت نے اشتراک کی بنیاد پر گندھا را ہند کو اکیڈ یمی قائم کی گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی کا قیا م ہند آریا ئی زبا نوں کی شنا خت، حفا ظت اور ترقی کے لئے نیک فال ثا بت ہوا۔

 مختصر مدت میں گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی نے تین سو کتا بیں شائع کیں ان میں قرآن پا ک کا منظوم ہند کو تر جمہ اور ہند کو اردو لغت قابل ذکر ہیں۔

  صوبے کی تما م زبانوں میں شائع ہو نے والی کتا بوں کو جگہ دینے کے لئے جدید لا ئبریری قائم کی۔

 اکیڈ یمی کے تحت در جن سے زیا دہ اخبارات و جر ائد شائع ہو نے لگے، ہند کو ان ٹیلی وژن چینل آن ائیر گیا بچوں کے لئے کا رٹون کہا نیوں کا دلچسپ سلسلہ شروع ہو۔

ا کھوار زبان کا ششما ہی مجلہ کھوار اور ما ہانہ رسا لہ کھوار نا مہ شائع ہونے لگا تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ گندھا را ہند کو اکیڈ یمی کے مجلے اور جریدے آن لا ئن دستیاب کر دئیے گئے ہیں۔

 ہر زبان کے پڑ ھنے والے امریکہ، بر طا نیہ، جر منی، روس، چین اور جا پا ن میں بیٹھ کر اپنی زبان کا رسا لہ پڑھتے ہیں۔

 وطن عزیز پا کستان میں گندھا را ہند کو اکیڈ یمی کو یہ اعزاز حا صل ہے کہ مختلف زبانوں کے ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر تی ہے اور گند ھا را ہند کو اکیڈ یمی کا یہ منفرد اعزاز ہے کہ اس کے اندر تما م زبا نوں کو یکساں تر قی کے موا قع دئیے جا تے ہیں ۔ اکیڈ یمی کے ساتھ وابستہ احباب اس کا کریڈٹ چیف ایگزیکٹیو ضیاء الدین کو دیتے ہیں جبکہ ضیا ء الدین اپنی کا میا بیوں کو ٹیم ورک کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں