49

بلدیات کا مستقبل


ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی


اچھی خبر ہے کہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے بلدیاتی اداروں کے لئے 20ارب کا فنڈ جا ری کر دیا ہے اس کے ساتھ دوسری بڑی خبر ہے کہ بلدیاتی اداروں کے ملازمین کی ہڑ تال ختم ہو گئی ہے۔

 سکرٹری بلدیا ت کے ساتھ میٹنگ میں ڈبلیو ایس ایس پی اور آل میونسپل ورکرز یونین کے معاملات طے پا گئے ہیں کسی کی ملازمت متاثر نہیں ہوگی نئی بھرتیوں سے پہلے پرانے ورکرز کو مستقل کیا جائے گا۔

 دونوں خبروں کا تعلق بڑے شہروں سے ہے چھوٹے شہروں سے لے کر دیہات تک جو تحصیل کونسل ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل بنائے گئے ہیں ان کے مسائل بالکل الگ ہیں وزیر اعلیٰ محمود خان ان مسائل سے آگاہ ہیں کیونکہ وہ خود دیہاتی پس منظر رکھتے ہیں۔

 وطن عزیز پا کستان میں خیبر پختونخوا کو یہ اعزاز حا صل ہے کہ یہاں عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے اور عوامی خوا ہشات کے مطا بق صاف شفاف طریقے سے تر قیا تی عمل کو جا ری رکھنے کے لئے 4ہزار کی آبادی کے لئے ویلج کونسل اور نیبر ہڈ کونسل بنا ئے گئے ہیں۔

گاؤں کی سطح پر جو فنڈ آتا ہے سب کو پتہ لگتا ہے اور جس طریقے سے فنڈ خر چ ہو تا ہے وہ بھی سب کے سامنے نظر آجا تا ہے تر قیا تی کا موں کی تر جیحات مقرر کرنے میں سب شریک ہوتے ہیں 15ہزار یا 20ہزار کی آبادی والے یونین کونسل میں یہ شفافیت ممکن نہیں تھی۔

 خیبر پختونخوا کو یہ اعزاز بھی حا صل ہے کہ 2021میں یہاں بلدیاتی انتخا بات کرائے گئے دیگر صوبوں میں انتخا بات نہیں ہوئے، بلو چستان اور سند ھ کا بھی یہی حال ہے کرا چی میں بلدیہ کے انتخا بات بار بار ملتوی کئے جا رہے ہیں۔

 یہ بات اخبار بین حلقوں کو معلوم ہے کہ دنیا میں جہاں بھی جمہوری نظا م ہے یا کمیو نسٹ طرز حکومت ہے دونوں جگہوں پر لو کل گورنمنٹ کو سب سے زیادہ اختیار ات حا صل ہو تے ہیں اور سب سے زیادہ وسائل بھی لو کل گورنمنٹ کے پا س ہو تے ہیں۔

 امریکہ اور بر طا نیہ کا لو کل گورنمنٹ پوری دنیا میں مشہور ہے، عوامی جمہوریہ چین اور جنو بی کوریا کے بلدیاتی نظا م کو مثا لی نظا م کا در جہ حا صل ہے۔

 شنگھا ئی کی میو نسپیلٹی کے پا س اپنا ریل، اپنی ائیر لا ئن اور اپنا بحری جہاز ہے اکثر مما لک میں محکمہ صحت، محکمہ تعلیم اور پو لیس بھی بلدیا تی اداروں کے پا س ہو تے ہیں لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے،

یہاں جب مار شل لاء آتا ہے بلدیا تی ادارے وجود میں آتے ہیں جب منتخب اسمبلیاں آتی ہیں بلدیاتی اداروں کو کھڈے لائن لگا یا جا تا ہے۔

 خیبر پختونخوا ہ کی حکومت نے وقت پر بلدیاتی الیکشن کرواکر ایک اچھا کام کیا اور اس کی تحسین و ستائش بھی ہوئی تا ہم بڑے شہروں میں آل میو نسپل ورکرز اور ڈبلیو ایس ایس پی کی چپقلش کی وجہ سے عوام کی خد مت میں رکا وٹ پیدا ہو ئی چھوٹے دیہات میں ویلیج کونسلوں اور نیبر ہڈ کونسلوں کو فنڈ نہ ملنے کی بناء پر مسائل نے جنم لیا با خبر حلقوں کی طرف سے دو تجا ویز آرہی ہیں۔

 پہلی تجویز یہ ہے کہ پراونشل فنانس کمیشن ایوارڈ کو فعال بنا کر فنڈ کی بر وقت تقسیم کو یقینی بنا یا جا ئے تو مسا ئل پیدا نہیں ہو نگے، دوسری تجویز یہ ہے کہ ای ٹینڈرنگ کے نئے نظام کو ختم کر کے منصو بوں پر عمل در آمد کا پرا نا نظا م بحا ل کیا جائے۔

 1980ء میں 10لا کھ روپے کا فنڈ آتا تھا تو مقا می ٹھیکہ دار یا پرا جیکٹ کمیٹی کے ذریعے معیا ری کام وقت پر مکمل کر وایا جا تا تھا جو تسلی بخش ہوتا تھا ای ٹینڈ رنگ کے تحت شلبانڈی بو نیر میں اگر 15لا کھ روپے کا منصو بہ ہے تو اس کا ٹھیکہ اٹک، اسلام اباد یا بنوں میں بیٹھا ہوا شخص لے لیتا ہے۔

 وہ ٹھیکہ لینے کے بعد پشاور یا سوات کے کسی شخص کو فروخت کر تا ہے، وہ بھی کام نہیں کرتا بلکہ کسی تیسرے شخص کو فروخت کر کے چلا جا تا ہے اس طرح کام کی ذمہ داری کوئی نہیں لیتا اور فنڈ ختم ہونے کے بعد کام ادھورا رہ جا تا ہے۔

منتخب نما ئیندوں کے پاس اس مسئلے کا کوئی حل نہیں اگر مستقبل میں بلدیاتی اداروں کو فعال بنانا ہے تو پی ایف سی ایوارڈ اور کا موں کے ٹینڈر یا پرا جیکٹ لیڈر کا پرا نا طریقہ بحال کر کے بلدیات کا مستقبل محفوظ کیا جا ئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں