Baam-e-Jahan

گلگت جیپ حادثہ میں دریابرد ہونے والے 5افراد کو تا حال بازیاب نہیں کیا جا سکا

امدادی کوشیشوں پر سماجی حلقوں سے عدم اطمینان کا اظہار۔ ریسکو اور صحت کے بنیادی سہولتوں اور سڑکوں کو بہتر بنانے کا مطالبہ

رپورٹ: مہتاب الرحمٰن

 

 

 

 

 

 

گلگت: تین دن گزرنے کے باوجود ہنزل ہرپون کے مقام پر جیپ حادثہ کے نتیجے میں دریا برد ہونے والے پانچ افراد کو نکالنے کی کوشیشیں پیر کے روز بھی ناکام رہیں۔
جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے لا پتہ افراد کے بچنے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
ہفتہ کی شام ہرپون کے مقام پر اس المناک حادثے میں دریا برد ہونے والے امیر علی، ان کی بیوی حاجی بی بی اور تین بچوں کو دریا سے نکالنے کی کوشیشیں پیر کے روز بھی ناکام رہیں ۔

ریسکیو 1122 کےآفس سے رابطہ کرنے پر ایک اہلکار نے ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہان کو بتایا کہ جس جگہ جیپ گری ہے وہ گہری کھائی ہے اور کرین سے کوشش کے باوجود گاڑی کو نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں.

امدادی کاروائی میں فوج، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمینٹ اتھارٹی ( جی بی ڈی ایم اے ) سمیت پولیس کے جوان اور پرائیویٹ غوطہ خور بھی تلاش میں حصہ لے رہے ہیں اتوار کے شام 6 بجے امدادی کام بند کیا گیا جو پیر کے روز دوبارہ شروع کیا گیا ۔

اس کاروائی کی نگرانی گلگت بلتستان اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر جعفراللہ سمت فوجی حکام کررہے ہیں۔

درین اثنا وزیراعلی نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئےمقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو تمام وسائل بروئے کارلانے کی ہدایت کردی ہے۔

دوسری جانب سماجی حلقوں نے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر تلاش اور بچاؤ کے انتظامات اور امدادی کاروائیوں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوۓ متعلقہ اداروں کوشدید تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

سوشل میڈیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت نے لاپتہ افراد کی تلاش اور بازیابی کے لئے بروقت کوشیشیں نہیں کیں۔

ایک سوشل میڈیا کارکن رضوان قلندر نے عالمی وباء اور اس قسم کے حادثات کے دوران حکومتی ناقص انتظامات اور نجی اداروں کی بے حسی پر سوال اٹھایا ہے ۔ انھوں نے اپنے فیس بک پیج پہ لکھا ہے کہ "وہ نام نہاد سماجی و مذہبی ادارے جو حکومت اور ریاست سے غیر مشروط محبت اور وفاداری کا دم بھرتے نہیں تھکتے اور ہر وہ کام جو ریاست کی ذمہ داری ہے اپنے ذمہ لیتے ہیں، آج وہ کہاں ہیں؟۔”

رضوان گلگت بلتستان کے مجموعی صورتحال پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ، "اس عالمگیریت کے دور میں ایک ایسے خطے میں جہاں پندرہ لاکھ افراد کو کوئی پوچھنے والا نہیں اور انہیں فطرت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، جہاں انسان کو اپنی بقاء جیسے بنیادی حق مانگنے پرعمر قید کی سزا سنا کر جیل میں ڈال دیا جاتاہے وہاں انصاف اور انسانی زندگی کی قیمت کیا ہوگی؟”

لاپتہ امیر علی کے بارے میں مشہور لکھاری اور حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے گلگت بلتستان میں نمائندے اسرارالدین اسرار لکھتے ہیں. "وہ گورنمنٹ ہائی اسکول مناور میں پڑھاتے ہیں اور میرے ہم زلف ہیں۔ ان کی اہلیہ حج بی بی بھی تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ وہ آغا خان ایجو کیشن سروسز میں ٹیچر ایجوکیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔

اسرار کے بقول امیر علی اور حاجی بی بی کی دو بیٹیاں شمس ا لنہار (آٹھ سال) اور اتباع (پانچ سال) اور امیر علی کے جڑواں بھائی پیار علی کی اہلیہ افشین اور ان کے دو بچے بروز ہفتہ (چاندارت) مورخہ23 مئی کی شام کو شیر قلعہ غذر سے گلگت آتے ہوۓ شہر کے مضافات میں واقع ہرپون کے مقام پر حادثے کا شکار ہوگئے۔

ان کی پوٹھوہار جیپ تقریباً 100 فٹ کی بلندی سے لڑکتے اور پتھروں سے ٹکراتے ہوئے دریائے گلگت میں جاگری تھی۔

موقع پر موجود ایک نوجوان نے پیار علی کی اہلیہ کو زخمی حالت میں دریا سے نکال لیا تھا جبکہ ان کی چار سالہ بیٹی کی لاش بھی جا ئے حادثہ کے قریب سے ملی تھی۔
امیر علی اور ان کی اہلیہ حج بی بی اور دو بچیوں کے علاوہ پیار علی کا نو ماہ کا بیٹا گاڈی سمیت دریا برد ہوگئےتھے اور تا حال لاپتہ ہیں۔

اسرار کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں نا کافی آلات، ٹیکنالوجی سمیت ہنر مند افراد کی کمی کی وجہ سے ریسکیو کارروائی تسلی بخش نہیں ہے جس کی وجہ سے پنتیس گھنٹوں سے زائد وقت گزرنے کے باوجود گاڑی سمیت پانچ افراد کا سراغ تاحال نہیں مل سکا ہے۔

انہوں نے متعلقہ حکام سے موثر امدادی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

سیاسی و سماجی کارکن صفی اللہ نے موجودہ عالمی بحران اور اس حادثہ کے حوالے سے ہائی ایشیاء ہیرالڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اس قسم کے حادثات اور ناگہانی آفت سے جو سبق ملتا ہے وہ یہ ہے کہ حکومتوں اور اداروں کو اپنے ترجیحات کو بدلنا ہوگا؛ غیر پیداواری اخراجات پر پبلک فنڈ کو خرچ کرنے کی بجائے گلگت بلتستان جیسے دشوار گزار علاقوں میں صحت، تعلیم، روزگار، خوراک، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور حادثات اور آفت زدہ لوگوں کے بچاؤکے لئے زیادہ فنڈ مختص کرنے اور جگہ جگہ ٹراما سنٹر اور مو بائل ایمبولینسوں کا انتظام کرنا ہوگا۔تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے.

علاوہ ازین ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سڑکوں کو کشادہ اور جدید ٹریفک انجینئرنگ کے اصولوں کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے