مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پیٹر سجن نو سال سے لا پتہ،اغواء برائے تاوان کی حاطر پشاور سے 2012 کو اغواء کیا گیا تھا

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پیٹر سجن نو سال گزرنے کے باوجود بھی گھر واپس نہ آسکے۔ اسے اغواء برائے تاوان کی حاطر پشاور سے 2012 کو اغواء کیا گیا تھا۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پیٹر سجن پشاور کے بھانہ مانڑی بازار میں سینیٹری کا کاروبار کررہے تھے۔ 4 جون 2012 کو چند نامعلوم اغواء کار اس کے دکان پر آکر اسے کام کے بہانے اپنے پاس لے گئے۔ گھر والوں نے شام تک انتظار کیا مگر جب وہ گھر واپس نہ لوٹے تو تھانہ بھانہ مانڑی میں ا س کی گمشدگی کا روزنامچہ درج کروایا۔ اس دوران اغواء کاروں نے پیٹر سجن کی ہی موبائیل فون سے اس کے اہل حانہ سے رابطہ کرکے بیس لاکھ روپے بطور تاوان مانگے۔ یہ غمزدہ خاندان یہ رقم دینے کو بھی تیار تھے مگر اغواء کاروں نے پہلے پیسوں کا مطالبہ کیا کہ اسے ایک حاص جگہہ میں رکھ دیا جائے اور بعد میں پیٹر سجن کو چھوڑ دیا جائے گا۔ تاہم اس کے گھر والوں کو اغواء کاروں پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ ایڈوانس میں تاوان کا رقم لیکر اسے چھوڑ بھی دیں گے یا نہیں۔
متاثرہ حاندان نے ا س کی گمشدگی کا روزنامہ پولیس اسٹیشن بھانہ مانڑی میں درج کروایا تھا اور 17 اگست 2012 کو باقاعدہ تعزیرات پاکستان کے دفعہ 365 کے تحت FIR کٹوایا۔ اس کے بیٹے جانگیر پیٹر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابھی تک اس کیس میں سوائے ہمیں تنگ کرنے کے اور ٹال مٹول سے کام لینے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا۔ پیٹر سجن کی بیوی نسرین پیٹر کا کہنا ہے کہ جب سے ان کی میاں اغواء ہوا ہے ہمارا پورا خاندان غم سے نڈھال ہے اور وہ اس کی غم میں بیمار پڑ چکی ہے۔ اس کی بیٹی شہلا پیٹر کا کہنا ہے کہ ہم روز ابو کی بازیابی کیلئے دعا مانگتے ہیں مگر ہم ابو کو دیکھنے کو بھی ترس گئے۔ عادل پیٹر اس کا چھوٹا بیٹا ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ ابو کے غم میں ڈپریشن کا مریض بن چکا ہے اور ہر روز ابو کے انتظار میں ان کی راہ تکتے ہیں۔


مناہم کی عمر چھ سال ہے جو اس کی پوتی ہے وہ صرف اپنے دا دا کی تصویر ہی سے پیار کرسکتی ہے جسے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسوں بھر آتی ہے۔ اس کے چھوٹے بھائی اعمانیول سجن کا کہنا کہ وہ پولیس کی کارکردگی سے نہایت مایوس ہے۔ پیٹر سجن کی بہو نداء جانگیر کا کہنا ہے کہ اس کی سسر کے اغواء کے بعد ا ن کی کوئی بھی دن خوشی سے نہیں گزرتی اور کوئی بھی اہم دن ہم نہیں منا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں تھانہ بھانہ مانڑی کے تفتیشی آفیسر انسپکٹر واجد شاہ سے جب پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کیس کاونٹر ٹیریریزم ڈیپارٹنمنٹ CTD کے پاس گیا ہے اور اس میں دو مشکوک بندے گرفتار بھی ہوئے تھے جو بعد میں ضمانت پر رہا ہوگئے۔ پولیس کا موقف جاننے کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن شہزادہ کوکب سے بار بار رابطہ کرکے ان کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بیٹے جانگیر پیٹر نے بتایا کہ اغوا ء کاروں نے میرے ابو کی موبائل نمبر 033391354197 سے ہی ہمیں پشاور کے محتلف مقامات سے اور ایک بار جہلم سے بھی فون کرکے بیس لاکھ روپے مانگے مگر ابھی کافی عرصہ گزرگیا کہ انہوں نے رابطہ نہیں کیا۔


پیٹر سجن کا غمزدہ خاندان وزیر اعظم پاکستان،چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی سٹاف سے اپیل کرتے ہیں کہ پیٹر سجن کو اغواء کاروں کی چنگل سے بازیاب کرایا جائے تاکہ اس کے گھر والے سکھ کا سانس لے اور ان کے ہاں بھی خوشیاں لوٹ آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے