گل مراد خان حسرت 225

چترال، معروف محقق، مورخ اور ماہرِ تعلیم گُل مراد خان حسرت انتقال فرما گئے۔

نیوز ڈیسک


چترال سے تعلق رکھنے والے مشہورومعروف محقق، مورخ، ادیب اور ماہرِ تعلیم جناب گل مراد خان حسرت صاحب پشاور میں انتقال کرگئے۔ مرحوم کچھ دنوں سے کورونا کا شکار ہوکر ایل آر ایچ پشاور میں داخل تھے۔

مرحوم حسرت صاحب کا تعلق اپر چترال کے علاقے پرکوسپ سے تھا۔ انہیں نے پیشہ ورانی زندگی کا آغاز مھکمہ تعلیم سے کیا اور بطورِ میں ڈی ای او ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ وہ محکمہِ تعلیم چترال اور دیر میں خدمات سرانجام دے چکے تھے۔ مرحوم کو کھو تہذیب و ثقافت، ادب اور تاریخ پر دسترس حاصل تھا اور ان موضوعات پر ان کی تحریریں مختلف جریدوں میں شائع ہوئیں۔ وہ ایک علم دوست شخصیت تھے جنہیں چترال کی تاریخ اور ثقافت پر عبور حاصل تھا۔ پروفیسر ممتاز حسین کے مطابق حسرت صاحب ان دنوں داغستانی ادیب حمزہ رسول توف کی مشہورِ زمانہ کتاب "میرا داغستان” کے ترجمے میں مصروف تھے جس کی تکمیل کی زندگی نے انہیں اجازت نہیں دی۔

چترال اور وسط ایشیا کے تاریخی روابط پر ان کا ایک طویل خصوصی مضمون (کلک کریں) بامِ جہاں میں شائع ہوچکا ہے۔

بامِ جہان ک ٹیم مرحوم کی روح کی تسکین کیلئے دعاگو ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں ان کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ گل مراد خان حسرت صاحب جیسی علمی شخصیت کا گزر جانا چترال کیلئے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

مرحوم گل مراد خان حسرت کی تصویر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں