GB war veteran 182

جنگ آزادی گلگت بلتستان کے ایک گمنام سپاہی علی رحمت شہید


تحریر: ڈاکٹر ستارہ پروین


سپاہی علی رحمت ان قابل فخر سپوتوں میں سے ہیں جنھوں نے گگت بلتستان کو آزاد کرانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا.

  گلمت گوجال سے تعلق رکھنے والے سپاہی علی رحمت نے تقریبا 1942 کو اپنے والد  علی پناہ اور بڑے بھائی  پانشمبی سے اجازت لے کر برطانوی فوج  میں شمولیت اختیار کر لی جو امبالا فورس کے نام سے پہچانا جاتا تھا- سپاہی علی رحمت نے تقریبا 5 سے 6 سال امبالا فورس کے توپ خانے میں اپنی خدمات سر انجام دی- 1947 کو وہ اپنے یونٹ سے چٹھی پر گھر جانے کے لئے گلگت پہنچ گئے اور اپنے بڑے بھائی پانشمبی کو اطلاع دینے کے لئے  تارگھر چلے گئے تو وہاں  ان کی ملاقات گلگت  اسکاوٹ کے انچارج  کیپٹن طفیل محمد سے ہوئی. سپاہی علی رحمت کے تجربے اور مہارت  کو مد نظر رکھتے ہوئے کیپٹن طفیل  نےان سے جنگ آزادی گلگت کے لئے ان کی خدمات طلب کی- سپاہی علی رحمت نے رضا مندی کا اظہار کرتے ہوئے ان کو جواب دیا کہ وطن کے لئے وہ ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہے۔ جس پر  کیپٹن طفیل نے میر آف ہنزہ کے گھر فون کر کے درخواست کی اور کہا کہ آپ کا ایک اہم اور ماہر سپوت سپاہی  علی رحمت سے میری ملاقات ہوئی جن کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے.  

یاد رہے کہ اس وقت صرف میر آف ہنزہ کے گھر پر ٹیلی فون کی سہولت موجود ہونے کی وجہ سے پورے علاقے میں انھی کے ذرئعے گھر والوں سے رابطے کئے جاتے تھے۔  جب سپاہی علی رحمت کے گھر والوں کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو میر آف ہنزہ کے ذرئیعے سے  کیپٹن طفیل کو پیغام دیا گیا کی  جنگ پر جانے سے پہلےان کو ملاقات کے لئے گھر آنے کی اجازت دی جائے- لہذا سپاہی علی رحمت کو 20  دنوں کے لئے ان کے گھر گلمت گوجال بھیج دیا گیا۔

سپاہی علی رحمت کی ایک نادر یادگار تصویر۔
ان کا نام آج بھی چنار باغ گلگت می شہداء کی یادگار پر کندہ کیا ہوا ہے۔

انتہائی مختصر وقت گھر پر گزارنے کے بعد سپاہی علی رحمت  کو گلگت سکاوٹ کی طرف سے دوبارہ  ٹیلی فون پر جلد از جلد گلگت پہنچنے کی ہدایت ملی جس پر ان کے بڑے بھائی پانشمبی نے ان کو گھوڑے کے ذرئعے سے گلگت پہنچا دیا- گلگت میں سپاہی علی رحمت کو گلگت سکاوٹ کا بیج لگا دیا اور یونٹ کا نمبر4737 دے دیا گیا- گلگت  اسکاوٹ میں باقاعدہ طور پر شمولیت حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے مشن پر روانہ ہوگئے- اور گلگت بلتستان کی آزادی کی جنگ انتہائی بہادری سے لڑتے رہے- جب وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ وطن کے لئے جنگ لڑ رہے تھے تو  دشمن فوج نے ان کے یونٹ کو زوجیلا کے مقام پر گھیرے میں لے لیا- دشمن کے خلاف آخری سانس تک لڑتے ہوئے سپاہی علی رحمت نے بالآخر 26 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کیا.

  اگرچہ سپاہی علی رحمت کی شہادت کی خبر ان کے گھر والوں کو فوج کی طرف سے ٹیلی فون پر ملی- لیکن ان کے جسد خاکی کو ان کے گھر والوں تک نہیں پہنچا سکے- یوں سپاہی علی رحمت وادی گوجال کا پہلا شہید بن گئے۔جس نے گلگت بلتستان کی آزادی کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا  

سپاپی علی رحمت کی تلوار جو انگریز فوج کی طرف سے دوران ملازمت ان کو ملا تھا

ڈاکٹر ستارہ پروین کا تعلق گلمت گوجال، ہنزہ ڈسٹرکٹ سے ہے۔ وہ گورنمینٹ ڈگری کالج برائے خواتین، گلگت میں جغرافیہ ڈپارٹمینٹ میں اسسٹینٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے ہایئڈل برگ یونیورسٹی سے  گلیشئرز  اور ثقافت  پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں