ASIM SAJJAD 198

حکومت وقت آئی ایم ایف،منافع خوروں اور اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہے، عوام کو”آسٹیرٹی“ کے نام پر سماجی معاشی بدحالی کی طرف دکھیل ، رہی ہے، عاصم سجاد

ویب ڈیسک


عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ عاصم سجاد نے کہا ہے کہ حکومت وقت آئی ایم ایف،منافع خوروں اور اسٹیبلشمنٹ کے تابع ہے، عوام کو”آسٹیرٹی“ کے نام پر سماجی معاشی بدحالی کی طرف دکھیل رہی ہے اور آئی ایم ایف کی ایماء پر ”آسٹیرٹی“ پیکج کے اعلان سے عوام کے حقوق اور جمہوریت پر ایک اور شب خون مارا جا رہا ہے۔ پیٹرول اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل ضافوں نے محنت کش اکثریت کی زندگیاں اجیرن بنا دیا ہے۔ جبکہ لینڈ اور دیگر قبضہ مافیہ اور بشمول ریاستی اہلکار امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ تمام بڑی جماعتیں سامراجی قوتیں اور اسٹیبلشمنت کے سامنے بے بس ہیں اور عوام دشمن نظام کو چلانے میں برابر کے شریک ہیں، صرف بائیں بازو کی قوتیں ہی عوام کو نجات دلا سکتے ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما عاصم سجاد نے کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے فوجی/عدالتی اداروں کے ساتھ ملک کو معاشی بدحالی اور نفرت انگیز سیاست میں ڈبا دیاہے۔ مجموعی طور پر، حکمران طبقہ غیر ملکی طاقتوں کے مفادات کی خاطر،وسائل کی بندر بانٹ میں مصروف نظر آتا ہے۔ ساتھ ساتھ یہ حکمران طبقہ، معاشرے میں ہر سطح پر لوٹ مار کرنے والے گروہوں، ٹھیکیداروں اور پدرسرانہ نمائندوں کو عوام کی مشکلات سے فائدہ اٹھانے کے لیے کھلی آزادی دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘تبدیلی’ اور ‘نیا پاکستان’ کی تمام تر بیان بازیاں،پوری طرح سے بے نقاب ہو چکی ہیں جس کا ثبوت حالیہ ہی، 2018 کے عام انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ جج صاحبان اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے سامنے آنے والے جھوٹ ہیں، ایک اور ثبوت، گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے والے 30 بلوں کی نامنظوری اور ای وی ایم کا استعمال شامل ہے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے بدعنوانی کے خاتمے اور احتساب کے نام پر اٹھائے گئے تمام اقدامات ایک مذاق بن رہے ہیں۔ عوامی ورکرز پارٹی کا ماننا ہے کہ حقیقی احتساب اور ٹھوس جمہوریت صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اقتدار غالب اداروں اور ملکیتی طبقوں سے چھین لیا جائے جو زمین، صنعت اور تقریباً تمام دیگر معاشی اثاثوں پر غالب ہیں اور پاکستان کے عوام کو دے دیے جائیں تاکہ تمام محنت کش عوام اس قابل ہوسکیں کہتعلیم، صحت، رہائش اور باعزت ذریعہ معاش حاصل کر سکیں۔
پارٹی کی رہنما عالیہ امیر علی نے کہا کہ طبقاتی، ریاستی اور سامراجی طاقت کا بوجھ زیادہ تر پسماندہ علاقے اٹھا رہے ہیں جس میں سب سے واضح بلوچستان کی مثال ہے، جہاں طلبہ کو غائب کر دیا جاتا ہے اور مقامی اور غیرملکی اشرافیہ کی خاطر، مقامی لوگوں کے جان و مال کی پرواہ نہیں کی جاتی، جس کی مثال گوادر میں ماہی گیروں کے حالیہ مظاہروں سے ملتی ہے۔ جبکہ مذہب کو ہتھیاروں سے لیس کر کے تحریک طالبان پاکستان اور تحریک لبیک پاکستان جیسی قوتوں کو طاقتدی جا رہی ہے۔ لاہور جیسے میٹروپولیٹن علاقوں میں بھی صورتحال سنگین ہے جہاں مناسب منصوبہ بندی کی سراسر کمی کے باعث خوفناک سموگ کی صورت میں ماحولیاتی تباہی جنم لے رہی ہے۔
عوامی ورکز پارٹی کے رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ پیٹرولیم، بنیادی سہولیات اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی روک تھام ہی نظر نہیں آتی ہے کیو۔ قرضہ لینے کے باوجود، عوام کے لیے کوئی سہولت نہیں، موسم سرما کے عروج سے پہلے ہی گھروں کو گیس کی فراہمی معطلی کا شکار ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی نے ترقی پسند قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ، مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں اور مختلف قبضہ گیر مافیاؤں کو روکنے کے لیے متحد ہو جائیں جو محنت کش عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رہے ہیں۔ ایک حقیقی ترقی پسند متبادل کی غیرموجودگی میں، پہلے سے ہی تنازعات کا شکار پاکستانی معاشرہ اور سیاست مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں