ordinance 2021 254

بنام جناب چئیر مین و ممبران سینیٹ

ضیاء خان یوسف زئی ,ترجمان فیڈل گورنمنٹ ایجوکیشن جوائنٹ ایکشن کمیٹی، وفاقی نظامت تعلیمات اسلام آباد


گزشتہ ماہ اسلام آباد کے لیے لوکل بلدیاتی آرڈیننس 2021 کے ذریعے وفاقی تعلیمی اداروں, تعلیم, اساتذہ کو ان کے ڈائریکٹوریٹ سمیٹ سینیٹ اور قومی اسمبلی دونوں ایوانوں کو بائی پاس کر کے وفاق سے نکال کر لوکل بلدیہ (MCI) کے حوالے کر دیا گیا، جس میں دونوں ایوانوں کے ساتھ ساتھ مطلوبہ وزارت، وفاقی نظامت تعلیمات اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔

اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے 423 وفاقی تعلیمی اداروں, 3 لاکھ بچوں کے مستقبل، وفاقی تعلیمی نظام، 20 ہزار اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین اور وفاق میں 1973 کے آئین کے تحت صوبائی کوٹہ پر مرتب ہونے والے دور رس منفی اثرات قابل ذکر ہیں۔

اس آرڈیننس کے سیکشن 138 تحت بننے والا سب سے اھم اور طاقتور ادارہ لوکل گورنمنٹ کمیشن ہوگا جس کے سات ممبران میں تین مقامی قومی اسمبلی ممبران اور ایک مقامی سینٹرہو گا۔
اس کمیشن کو کورٹ کے بعض اختیارات بھی حاصل ھونگے۔
یہ کمیشن میئر کو ہٹا سکتا ھے۔
انکوائریاں آرڈر کرسکتا ھے

Sec 20(2)a.a Metropolitan corpration shall be responsible for the following functions and offices.
(iii)management of primary,elementary and secondary education facilities;
(iv) school enrolment and universal education;
(xxxvi)any other function which shall be prescribed in rules under this ordinance;
(v)monitoring and supervision of primary health care facilities;

دیکھیں ہیلتھ کے حوالے سے صرف سپروجن ھے جبکہ ایجوکیشن کے لیے مینیجمنٹ کا لفظ استعمال کیا ھے۔

Monitoring is a part of management.
Management includes direction and control of all kind of resources

Monitoring is only watching over and collection of information۔

Sec 21(1)g.universal education including enhancing enrolment and attendance of students.
(m) construction,maintenance and repair of local assets including minor repair of public schools۔

یہ بھی سوالیہ نشان ہے کہ
سیکشن 22 کے تحت حکومت تعلیم کے حوالے سے مزید ایسی ذمہ داریاں نوٹیفیکیشن کے ذریعے لوکل گورمنٹ کو دےسکتی ھے جو اس آرڈیننس میں مذکور نھیں ھیں۔

سیکشن 23 کے تحت لوکل گورنمنٹ وزارت تعلیم کے ساتھ ایک ایگریمنٹ کرکے جملہ انتظام اپنے ھاتھوں میں لے لےگی۔

سیکشن 25 کے تحت ایف ڈی ای تعلیمی سروس فراھم کرے گی جس کے اخراجات لوکل گورنمنٹ فراھم کرے گی۔

جبکہ لوکل گورنمنٹ کی یہ حالت ہے کہ اس کا کوئی مئیر ہی نہیں ہے، گزشتہ دنوں فنڈ نہ ملنے پر مئیر احتجاجاً استعفیٰ دے چکے ہیں، اسلام آباد کا بلدیہ نظام انتہائی کمزور ہے مطلوبہ مئیر صاحب کو منتخب ہونے کے باوجود ایک سال تک نوٹیفکیشن نہیں جاری کیا گیا، جہاں فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے آئے روز صفائی کے چند سو عملے کو تنخواہوں کی ادائگی ممکن نہیں ہوتی اور وہ احتجاجاً کام چھوڑ دیتے ہیں اور پورا شہر کچرا کندی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جہاں MCI کے تحت ایک ادارہ ہے جس میں 5 ہزار فیس کی جاتی ہے جبکہ ایکٹ 25 اے کے تحت اسلام آباد کے تمام تعلیمی اداروں میں میٹرک تک تعلیم، کتابیں اور ٹرانسپورٹ فری ہے۔

سیکشن 26
کے تحت ایف ڈی ای کے جملہ اختیارات میئر کے پاس آجائیں گے۔

سیکشن 28(3) کے ذریعے وفاقی حکومت ایک نوٹیفیکیشن کے ذریعے اپنے کوئی سے بھی ایسیٹ یا بلڈنگ لوکل گورنمنٹ کو ٹرانسفر کرسکتی ھے۔یعنی وفاق کے سارے سکول اور ماڈل کالجز کو اس دفعہ کے تحت کسی بھی پرائیویٹ اسکول مافیا کے حوالے کر سکتی ہے۔

سیکشن 31(1) کے تحت کسی بھی سرکاری آفیشل کے خلاف نیرھوڈ کونسل متعلقہ محکمہ کو یا میئر کو تحریری شکایت ارسال کرسکتی ھے۔

آرٹیکل 166
تو واضح ھے۔ اگر وفاق کے ملازمین MCI کو دیے جاتے ہیں تو یہ صوبائی کوٹہ کی خلاف ورزی ہو گی۔
دوسری بات یہ کہ آئین کے تحت وفاق کے سول ملازم بلدیہ کے ملازم نہیں ہو سکتے۔

آرٹیکل 169

اس آرٹیکل کے مطابق ملازمین کو آپشن دی جاۓ گی کہ وہ اپنی سابقہ شرائط برقرار رکھیں مگر MCI کے ملازم کہلائیں گے۔ یہ بھی خلاف آئین و قانون ہے کہ شرائط وفاق کی مگر ملازم بلدیہ کے۔

اسلام آباد بلدیہ ایکٹ 2015

اسلام آباد بلدیہ کے مذکورہ ایکٹ کے مطابق بلدیہ کے لیے لازم تھا کہ وہ "لوکل باڈیز ملازمین ایکٹ” نافذ کرے یا دوسری بلدیہ سے ضرورت کے ملازم ہائر کرے۔ لہذا موجودہ آرڈیننس بھی اسلام آباد بلدیہ ایکٹ 2015 کے خلاف ہے۔

خلاصہ:
آرڈیننس 2021 کی شرائط سول سرونٹس ایکٹ 1973, ایکٹ 25 اے 2012ء (مفت و لازمی تعلیم)، فیڈریشن کی روح , وفاق میں صوبائی کوٹہ اور حاضر سروس ملازمین کی تقرری کی شرائط کے خلاف ہے۔

اسلام آباد ایک چھوٹا سا ضلع ہے جس کو اس صدارتی آرڈیننس 2021 کے ذریعے 50% کوٹہ دے دیا گیا ہے کیا یہ وفاقی دارالحکومت ہے یا کہ لوکل دارالحکومت؟؟
جیسا کہ آبادی کے لحاظ سے تمام صوبوں کے کوٹے مختص ہیں اسی طرح اسلام آباد کا بھی آبادی کے لحاظ سے کوٹہ ہو تو کسی کو اعتراض نہیں ہو گا اور کسی کی حق تلفی بھی نہیں ہو گی.

صوبوں کے کوٹے کم ہوئے ہیں جو سرا سر صوبوں کے ساتھ زیادتی ہے۔
ایسا کرنا لا قانونیت ہے، 1973 کے آئین کے خلاف ہے۔

وفاق میں صوبوں کے لیے مخصوص کوٹے کی خلاف ورزی انتہائ حساس معاملہ ہے۔ یہ ہمارے عمرانی معاہدہ یعنی 1973 کے آںٔین اور متعلقہ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

گزشتہ 60 سالوں سے اسلام آباد کا تعلیمی نظام 423 اداروں پر مشتمل ملک پاکستان کا بہترین تعلیمی نظام ہے، اس کی کوالٹی اتنی عمدہ ہے کہ اس کے بچے ہمیشہ بورڈ میں ٹاپ کرتے ہیں، پوری دنیا کی یونیورسٹیوں میں داخلے میرٹ کی بنیاد پر حاصل کر کے ملک و قوم کا وقار بلند کرتے ہیں۔

اس تعلیمی نظام میں 1973 کے آئین کے تحت پورے پاکستان سے پڑھے لکھے ترین و اعلی تربیت یافتہ افراد اساتذہ بھارتی ہو کر آتے ہیں۔ اسلام آباد وفاق کی علامت ہے، یعنی پورے پاکستان کے لوگوں نے آئین و قانون کے ذریعے جاب حاصل کر کے اسلام آباد کو آباد کیا ہے اور یہ وہ گلدستہ ہے جس کی خوشبو اور علم و نور سے پوری دنیا مستفیض ہو رہی ہے۔

3 لاکھ بچوں کی حق تلفی کرنا قانون، اخلاق اور اچھی روایات کے خلاف ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ لوکل گورنمنٹ اپنے نئے سرے سے تعلیمی ادارے بنائے اور ان کو رول ماڈل بنا کر دکھائے۔

راتوں رات دونوں ایوانوں کو بائی پاس کر کے، تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیے بغیر فرد واحد کی من مانی خواہش پورا کرنے کے علاؤہ کچھ بھی نہیں۔

اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بہترین تعلیمی نظام، لاکھوں بچوں کے مستقبل، شہر کے 22 لاکھ عوام و 20 ہزار ملازمین میں انتشار پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام بے چین ہیں اور ان سب کا احتجاج جاری ہے، اس سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہو رہا ہے، یہ تعلیم دشمنی ہے، بہترین تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی پارٹیوں کو کئی دن کی بحث ومباحثہ کے بعد کوٹہ کے حوالے سے متفقہ طور پر منظور کردہ 1973ء کے آئین کے منافی پریشان کرنے اور وفاق پر عدم اعتماد کی سازش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں