ماہنامہ شندور 306

ماہنامہ شندور

اعجاز احمد اعجاز


چترال کے مقامی مسائل کو اجاگر کرنے اور کھوار ادب کی ترویج میں ” ماہنامہ شندور ” کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ اس وقت جب میں صرف اردو عبارت مشکل سے پڑھ سکتا تھا اور کتاب کی اہمیت سے بے خبر تھا تو اس زمانے میں ماہنامہ شندور ہی چترال کا واحد رسالہ تھا ۔۔۔ بعد میں پتہ چلا کہ کہ حکومت کے سرپرستی میں کسی زمانے میں” جمہور اسلام کھوار ” شائع ہوا کرتی تھی ۔۔ لیکن وہ بھی کسی نا معلوم وجوہات کی بناء پر بند ہوگئی تھی ۔۔ نوے کی دہائی میں انٹرنیٹ وغیرہ کی سہولیات نہیں تھے ۔۔اوپر سے لواری ٹاپ کی وجہ سے چترال پاکستان کے باقی شہروں سے چھ مہینے کٹ کے رہ جاتا تھا اس لیے ایسی صورت میں کسی مقامی رسالہ یا اخبار کا ہونا پڑھے لکھے صاحبان کے لیے کسی نعمت خداوندی سے کم نہ تھی ۔۔۔ چترال کے مسائل اور ادب کے حوالے سے ذاتی طور پر یا تنظیمی طور پر کسی نے رسالہ شائع کی ہمت نہیں کر رہے تھے لیکن ایک مرد درویش جناب محمد علی مجاہد سود و زیان سے بے پرواہ ہو کر اپنی جنم بھومی کی مسائل کو حکام بالا تک پہنچانے اور کھوار ادب کو ترقی دینے کے لیے ایک رسالہ ماہنامہ شندور کے نام سے انیس سو ستانوے میں شائع کیا ۔۔۔۔ یوں اس رسالے کی وساطت سے چترال کے مسائل کے متعلق چترال کے باسیوں کے علاؤہ چترال سے باہر رہنے والے لوگ بھی با خبر ہوتے رہے۔
انیس ستانوے میں ہی محمد علی مجاہد صاحب چترال کی سطح پر ایک بہت بڑا کلچرل شو کا انعقاد بھی کیا ۔۔۔ جس کی وجہ سے ثقافت اور ادب سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ۔۔۔ اور مقامی شعراء اور ادباء کو اس رسالے کی بدولت اپنے تحاریر کو دوسروں تک پہنچانے کا ایک بہترین موقع ملا۔
” ماہنامہ شندور ” کئی سال چترال کے لکھاریوں اور قارئین کی ذوق کو پورا کرتا رہا لیکن حکومتی سرپرستی اور دوسرے اہل ثروت حضرات کی عدم توجہ کی وجہ سے آخرکار یہ رسالہ بھی بند ہوا۔
لیکن چترال کی تاریخ میں ” ماہنامہ شندور ” اور اس کے بانی چیف ایڈیٹر محمد علی مجاہد کی خدمت کو سنہرے حروف میں لکھا جائے گا ۔۔۔۔
ماہنامہ شندور پر کچھ پیراگراف لکھنے کی ضرورت اس لیے محسوس کی تاکہ چترال کے نوجوان نسل کو اس کے متعلق بتایا جائے ۔۔۔ یوں تو فخرے ے چترال اور دوسرے کئی ایوارڈز مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے حضرات کو دی گئیں لیکن محمد علی مجاہد کو اس کی صحافتی خدمات پر ایک سرٹیفیکیٹ بھی نہیں دیا گیا جو کہ بہت بڑا المیہ ہے۔
لیکن بحثیت ادب کے طالب علم اور اہل ذوق میں محمد علی مجاہد صاحب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔۔ اور اس کی اس عظیم خدمت پر سلام پیش کرتا ہوں اور یہ دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت محمد علی مجاہد صاحب کو اس کی خدمت کا صلہ عطاء فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں