پنیال احتجاج 242

عوامی ورکرز پارٹی گگت بلتستان نے بجلی اور پانی کے بحران کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر مقدمات قائم کرنے کی مذمت کی ہے۔

ویب ڈیسک


عوامی ورکرز پارٹی گگت بلتستان نے گذشتہ دنوں پونیال میں بجلی اور پانی کے شدید بحران کے خلاف پر امن مظاہرہ کرنے والوں پر انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کے تحت مقدمات قائم کرنے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور حکومت اور غذر کے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جھوٹے الزامات کی بنیاد پر ایف آئی آر کو فوراً واپس لیں۔ ایک بیان میں عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما بابا جان، اختر امین، اکرام جمال، آصف سخی آور دیگر نے کہا ہے کہ ایک طرف بجلی کی عدم دستیابی کے خلاف پر امن احتجاج کرنے پر سیاسی کارکنوں کو دہشت گرد قرار دئے جاتے ہیں جب کہ دوسری طرف حکومت دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرتی ہے۔ انہوں نے ریاستی اداروں کی اس دوغلی پالیسی اور نو آبادیاتی رویئے کی مذمت کیں۔ گزشتہ دنوں سینگل کے مقام پر پونیال کے چار گاؤں گیچ ، گوہر آباد ، تھنگداس اور سینگل کے عوام نے بجلی کی غیر منصفانہ تقسیم اور لوڈشیڈنگ کے خلاف دھرنہ دیا تھا۔ منگل کے روز مظاہرین کے ساتھ ضلعی انتظامیہ نے مذاکرات کرکے دھرنا ختم کروایا تھا۔ اب ان مظاہرین پر حکومت نے دہشت گردی کے دفعات کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جو ناقابل فہم ہے۔ انتظامیہ اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کیا جا سکتا ہے تو یہ ان کی بھول ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی جی بی کے رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ سیاسی اور سماجی کارکنوں کے خلاف مقدمات واپس لیا جائے اور لوگوں کے جائز مطالبات غیر مشروط طور پر منظور کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں