سینگل دھرنا ختم، اپنے ملکیتی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی، عوامی کمیٹی

ویب ڈیسک


سینگل ریسٹ ہاؤس میں جاری گوہر آباد سے تھنگداس تک کی عوام کا دھرنا انتظامیہ کی طرف سے انسداد دہشت گردی و دیگر دفعات پر بنائے گئے مقدمات کے مکمل خاتمے کے بعد ختم کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ مہینے سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان جاری عوامی ملکیتی حقوق اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ پر جاری ڈیڈ لاک عوامی کمیٹی کے سات افراد پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا۔ جس کے بعد عوام نے 15 جنوری کو اس ضمن میں اگلا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے گرینڈ عوامی جلسہ طلب کیا تھا۔ عوام نے مشترکہ طور پر 16 جنوری بروز اتوار سے غیر معینہ مدت کے لیے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

انتظامیہ اور امن کمیٹی نے دھرنے کے اعلان کے بعد عوامی کمیٹی گوہر آباد تا تھنگداس کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت تمام دیگر مقدمات ختم کرنے کے وعدوں کو حقیقت میں تبدیل کر کے دکھا دیا۔ سات عوامی کمیٹی کے نمائندوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کو مکمل ختم کر دیا گیا۔ دیگر دفعات پر لگے مقدمات کو بھی تین دنوں کے اندر ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

عوامی کمیٹی نے اس اہم کامیابی کو تھنگداس، گیچ، سینگل، اور گوہر آباد کی عوام کی فتح قرار دیا۔ یہ فتح بنیادی طور پر چاروں گاؤں کے عوام، عمائدین اور نوجوانوں کی دلیر، باشعور اور مستقل مزاج جدوجہد سے ہی ممکن ہوئی ہے۔ یہ فتح عوامی قوت کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔

اس دوران عوامی کمیٹی نے حلقے کے منتخب نمائندے ڈپٹی سپیکر نذیر احمد صاحب کو اس مسلے پر عوام کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہنے اور اپنا مثبت کردار ادا کرنے پر بھرپور شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے ایک غیر مند سپوت کو اپنا نمائندہ چنا ہے۔

ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد نے دھرنے کی شرکاء سے ٹیلی فونی خطاب کیا اور عوام کو پرامن احتجاج پر خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں انسدا دہشت گردی کے قوانین کا غلط استعمال ہوتا آیا ہے جس کے خلاف میں نے ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ اور عوام کے شانہ بشانہ یہ جدوجہد ہمیشہ جاری رہے گی۔

اس گفتگو کو احسن طریقے سے آگے بڑھانے پر ضلعی انتظامیہ، بالخصوص اسسٹنٹ کمشنر کا شکریہ ادا کیا گیا۔ امن کمیٹی کے ممبران کو اس مسلے کو حل کرنے کی مسلسل کوشش پر بھی سراہا اور شکریہ ادا کیا گیا۔ اس کے علاؤہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے پونیال کے عوام کے حق میں بلند ہونے والی تمام آوازوں، میڈیا کے دوستوں، اور تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا۔

عوام نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ اپنے ملکیتی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی، اور جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہوگا جہاں عوامی ملکیت کو تسلیم نہ کرنے یا ہضم کرنے کی کوشش ہوگی تو اسی طرح ہمیشہ پرامن مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے علاؤہ عوام نے معاہدے کی شق کو دہراتے ہوئے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ آئندہ شجر کاری کے موسم میں عوام نالے کا پانی اپنی زرعی ضروریات اور ایفاد پراجیکٹ کے تحت اپنی زمینیں آباد کرنے کے لئے استعمال کرے گی، جس سے بجلی کی پیداوار کو مسلہ درپیش ہوسکتا ہے۔

دھرنا عوامی طاقت زندہ باد اور نوجوان طاقت زندہ باد کے نعروں سمیت جشن کی حالت میں اختتام پذیر ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں