سرمایہ 126

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل: پاکستان میں بدعنوانی میں اضافہ، دس سال میں سب سے ’بُری درجہ بندی‘

بی بی سی اردو


بدعنوانی پر نظر رکھنے والی عالمی تنظیم ’ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل‘ نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی تین پوائنٹس کم ہونے کے بعد 124 سے گِر کر 140 تک پہنچ گئی ہے۔

گذشتہ 11 برسوں میں یہ پاکستان کی سب سے بُری درجہ بندی رہی ہے۔

منگل کو سال 2021 کی رپورٹ کے اجرا کے بعد پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گل نے ٹوئٹر پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ساکھ پر تنقید کی اور کہا کہ ’اس (رپورٹ کو) آپ شریف خاندان کی لکھی (رپورٹ) سمجھیں۔‘

شہباز گل نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستانی چیپٹر کے سربراہ عادل گیلانی کے خلاف ماضی میں کی گئی مختلف تحقیقات کا حوالہ دیتے لکھا کہ ’یہ پڑی ہیں خبریں ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کو بنانے والوں کی۔‘

وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے بھی رپورٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس پر واویلا کرنا بلاجواز ہے۔

انھوں نے لکھا: ’اپوزیشن کا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر واویلا، بلاجواز ہے۔ آٹھ میں سے سات رپورٹس میں کوئی فرق نہیں ہے صرف ایک رپورٹ کے باعث CPI کی ٹوٹل رینکنگ میں تنزلی ہوئی ہے۔ اس رپورٹ میں حکومتی سطح پر کسی قسم کی مالی کرپشن کا ذکر نہیں ہے۔‘
فرخ حبیب کی ٹویٹ پر وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’رپورٹ کو پورا پڑھنے کے بعد مٹھائی کے ٹوکرے واپس کرنے پڑیں گے‘ کیونکہ آٹھ میں سے سات ذرائع نے سابقہ ریٹنگ تقریباً برقرار رکھی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال کی رپورٹ آنے کے بعد شہباز گل نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک پرانی رپورٹ کے سکرین شاٹس اپنے ٹوئٹر پر پوسٹ کیے جن کے ذریعے انھوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس ادارے نے اپنی حالیہ رپورٹ کے لیے پرانا ڈیٹا استعمال کیا۔

تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اس وقت بی بی سی کے سوالات پر جواب دیا تھا کہ سنہ 2020 کی رپورٹ کی تیاری میں جو ڈیٹا استعمال کیا گیا تھا وہ اس وقت کا تھا جب پاکستان تحریک انصاف ملک میں برسرِ اقتدار تھی۔

موجودہ رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان چیپٹر نے رپورٹ کے اجرا کے بعد اپنی پریس ریلیز میں بتایا کہ پاکستان میں بدعنوانی جانچنے کے لیے آٹھ ذرائع استعمال کیے گئے ہیں جن کا دورانیہ سال 2020 اور سال 2021 کے درمیان ہے۔

جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سکور 31 سے گر کر 28 تک پہنچ گیا ہے اور اس کی وجہ سے درجہ بندی میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ 124 سے 140 تک پہنچ گئی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی نائب چئیرپرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ اقبال نے اس رپورٹ کے بارے میں کہا کہ ’قانون اور ریاست کی بالادستی کی عدم موجودگی پاکستان کے کم سکور کی وجہ بنی ہے۔‘

اس کے علاوہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چئیرپرسن ڈیلیا فریرا روبیو نے بھی اس رپورٹ کے بعد کہا کہ ’آمرانہ سوچ بدعنوانی کو روکنے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔‘

درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟
اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لیے بدعنوانی جانچنے والے 13 مختلف سروے اور کم از کم تین مختلف ڈیٹا ذرائع کو استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معلومات اکٹھا کرنے والے ادارے عالمی طور پر معتبر سمجھے جاتے ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک اور ورلڈ اکنامک فورم وغیرہ۔

پاکستان کے اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم، اکنامک انٹیلیجنس یونٹ وغیرہ جیسے اداروں کی رپورٹس کا استعمال کیا گیا ہے۔

درجہ بندی اور سکور میں کیا فرق ہے؟
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ممالک کے لیے ان کا انفرادی سکور شمار کیا جاتا ہے جس کے بعد ان کی درجہ بندی مرتب کی جاتی ہے۔

سکور کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ملک کے پبلک سیکٹر میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں عوامی تاثر کیا ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی ملک کا سکور صفر ہے تو وہ انتہائی کرپٹ ملک ہے اور اگر 100 ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہاں بدعنوانی بالکل نہیں ہے۔

اسی سکور کی بنیاد پر ملکوں کی درجہ بندی طے کی جاتی ہے اور اگر فہرست میں ممالک کی تعداد میں اضافہ ہو تو درجہ بندی تبدیل ہو سکتی ہے۔

چناچہ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجہ بندی سے زیادہ کسی بھی ملک کے سکور کی زیادہ اہمیت ہے جو کسی بھی ملک میں ہونے والی بدعنوانی میں اضافہ یا کمی کو جانچتا ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کے لیے گذشتہ سال کافی بُرا رہا ہے اور سنہ 2015 کے بعد پہلی بار پاکستان کا سکور 30 سے بھی کم ہو گیا ہے۔

پاکستان کے پڑوسی ممالک میں کیا حالات ہیں؟
جاری کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سکور 31 سے گر کر 28 تک پہنچ گیا ہے اور اس کی وجہ سے درجہ بندی میں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے جو کہ 124 سے 140 تک پہنچ گئی ہے۔

پاکستان کے پڑوسی ممالک پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ انڈیا نے اپنی گذشتہ سال کی درجہ بندی اور سکور کو برقرار رکھا ہے۔ انڈیا کا سکور 40 جبکہ درجہ بندی میں وہ 85ویں نمبر پر ہے۔

بنگلہ دیش نے بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھی جس کے بعد اُن کا سکور 26 جبکہ درجہ بندی 147 ہے۔

چین نے البتہ ملک میں کرپشن کے خلاف جنگ کو جاری رکھا اور گذشتہ برس کے مقابلے میں اُن کے سکور میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

پچھلے سال کی رپورٹ میں 42 پوائنٹس کے بعد ان کی درجہ بندی 78 تھی جبکہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق چین کا سکور بڑھ کر 45 ہو گیا ہے جس کے بعد درجہ بندی میں وہ 66ویں نمبر پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں