153

ہم نے ڈوگرہ کو بھگایا کا فریبی نعرہ…

شیر علی انجم


گلگت بلتستان میں جب کبھی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ہر کسی کو یہی کہتے سُنے گا کہ ہم نے ڈوگرہ کو بھگایا ہم نے آزادی حاصل کی ہم غیرت مند قوم ہے وغیرہ وغیرہ.
لیکن حقیقت کا اگر تاریخ کے اوراق پلٹ کر مطالعہ کریں تو کہانی بلکل مختلف ہے جس پر گزشتہ لگ بھگ 15 سالوں سے لکھ رہا ہوں. لیکن جہاں جھوٹ سچ والی کرسی سے بولا جائے تو سچ جھوٹ اور جھوٹ سچ بن جاتی ہے.
مختصر یہ ہے کہ ہم بیغرت قوم ہیں جس نے کبھی اپنے ہیروز کی قدر نہیں کی، اَن کو دیوار سے لگایا. اگر یکم نومبر کے بعد کی صورتحال کا ذکر کریں تو حسن خان تو گھنسارا سنگھ کی گرفتاری کے بعد بونجی میں مصروف تھا کیونکہ بونجی اُس وقت بھی اہم فوجی مرکز تھا جس طرح آج ہے. وہ تو گلگت میں عبوری کابینہ تشکیل دیکر مزید فتوحات کیلئے آگے بڑھنے کی تیاری کر رہا تھا، اٌنہیں کیا معلوم تھا کہ ریاست کا صدر صدارتی عہدے کو راشن ڈپو کے انچارج بننے پر قربان کرے گا. اُنہیں کیا معلوم تھا کہ بروان چونکہ گلگت لداخ کا لارنس آف عربیہ بننا چاہتا تھا اس خواب کو چکنا چور کرنے میں حسن خان ہی کا کردار تھا، اُس نے اردلی کو خرید کر کپٹن بنا کر تحصیلدار عالم خان کو گلگت پر مسلط کرایا تھا نہ صرف مسلط کرایا تھا بلکہ گلگت کے راجاوں کو نچوایا بھی تھا، دوسری طرف پاشا (قابض شنگھریلا) جن سے حسن خان کا ذاتی طور پر اختلافات تھے اور گریسی اس بات کو جانتا تھا اسے گلگت پہنچا دیا جنکا انقلاب گلگت میں کوئی کردار ہی نہیں تھا، بعد میں وہ فاتح بلتستان قرار پایا، حالانکہ 1948 میں جنگ بندی اقوام متحدہ کی مداخلت سے ہوئی تو اور اس سیز فائر کے نتیجے میں لداخ دو لخت ہو کر آدھا پاکستان کے زیر انتظام آیا اور اندھا ہندوستان کے زیر انتظام چلاگیا.
اب صاحبان منبر سے کوئی پوچھیں تو کہ آپ نے ڈوگروں کو بھگایا تو آپکے لداخ کا دو تکڑا کیسے ہوگیا؟ دوسری بات جس سٹیٹ سبجیکٹ کو آج ہم حلال سمجھ کو دن رات بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں یہ ڈوگرہ سرکار کا اپنی ریاست پر احسان تھا جس نے نہ صرف ریاست کی زمینوں کو اغیار کی دخل اندازی سے بچایا بلکہ ریاست کا جعرافیائی حدود کو بھی مضبوط کیا. یہ الگ بات تھا کہ مقامی سطح پر لگان لیا جاتا تھا جو آج ٹیکس کہلاتا ہے. جو خطے کی تعمیر اور ترقی پر خرچ ہوتا تھا. لیکن اندرونی طور راجہ میر عوام عوام پر ظلم کرتے تھے جس طرح آج ہوتا ہے.
حسن خان کیوں باغی بن گیا اور حسن خان کو بغاوت کا کیا صلہ ملا؟ یقینا صاحبان منبر اس بات سے بھی نابلد ہونگے اس وجہ سے بڑی پگڑی اور لمبی عبا پہن کر بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں.حسن خان جب جنگ عظیم دوم سے غازی بن کر لوٹا توبقول اَنکے ایسا لگ رہا تھا کہ اس ریاست کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے اور یہی وجہ تھی 1946 میں انہوں نے انقلابی کونسل بنا کر اپنے ہم خیالوں کو جمع کرنا شروع کردیا. جس کا بنیادی مقصد مہاراجہ کی جانب سے عوام کی مرضی کے خلاف کسی قسم کا اقدام اُٹھانے کی صورت میں اُن کی اقتدار کا تختہ پلٹ کر پوری ریاست کو پاکستان میں شامل کرنا تھا. مگر جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ قائد اعظم اور مہاراجہ کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوگیا تھا. جو دو صورتوں میں ہوسکتا تھا. مہاراجہ اپنی ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرے گا اور خود علامتی طور پر بادشاہ ہی رہے گا.

ریاست کی حیثیت اسی طرح برقرار رہے گا جو پاکستان کے مفادات کو اپنا ریاستی بیانیہ رکھے گا
لیکن ابھی معاملہ طے نہیں ہوا تھا جنرل گریسی نے قائد اعظم محمد علی جناح سے بغیر کسی مشاورت کے پشتون قبائل کو موجودہ آزاد کشمیر میں اُتار دیا، یہی وجہ تھی مہاراجہ کو اپنی ریاست بچانے کیلئے ہندوستان کی طرف دیکھنا پڑا، لیکن نہرو سے امداد کیلئے الحاق شرط رکھا یوں مہاراجہ نے ریاست بچانے کیلئے ہندوستان سے تین سبجیکٹ کی بنیاد پر الحاق کیا، یہی وجہ ہے کہ سلامتی کونسل میں جموں کشمیر میں ہندوستان کی موجودگی کو قانونی حیثیت حاصل تھی، جو 5 اگست 2019 کی جارحانہ کارروائی کے بعد ختم ہوگئی اور ہندوستان کے پاس آج جموں کشمیر پر قانونی دعویٰ کا کوئی جواز نہیں، کچھ زرائع کے مطابق مودی نے 5 اگست 2019 کے بعد ریاست جموں کشمیر گلگت بلتستان لداخ کا جو نقشہ بنا کر سلامتی کونسل سے منظور کرانے کی کوشش کی تھی وہ مسترد ہوچکی ہے، اس صورتحال میں حسن خان نے کو کیا بلکل درست اور بروقت تھا ورنہ عین ممکن تھا کہ آج لائن آف کنٹرول بھاشا ہوتے.
لیکن حسن خان کو کیا صلہ ملا؟ کچھ نہیں
اٌن کے بعد جدوجہد کرنے والوں کو کیا ملا؟ پریشانی دکھ غم.
آج کیا مل رہا ہے، فورتھ شیڈول، ایکش پلان، دہشتگردی ایکٹ، الزامات وغیرہ وغیرہ.
لہذا صاحبان منبر کو منبر رسول کا لاج رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ فریبی نعرے سیاسی جلسوں میں اچھا لگتا ہے منبر رسول ص سے نہیں.
آج اگر آخوند نعیم جیسے لوگوں کو مسلسل عوامی احتجاج کے باوجود ہمارے تعلیمی اداروں پر مسلط کر رہا ہے اس کے پیچھے ہماری منافقت اور کوفیانہ طرز سیاست اور کوفہ کی طرز کا منبر ہونا ہے.
لہذا اگر واقعی میں حسینی ہے تو سچ تلاش کرو سچ بیان کرو سچ کے ساتھ کھڑے رہو. یہی شعائر حسینی ہے، شعائر حسینی آہ بکاو، اور رسم کے طور پر اپنا سینہ پیٹانا نہیں.
سوشل میڈیا کو خیر باد کہنے کے باوجود دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے آج وقت نکالا ہے. کسی کو سمجھ آیا تو کاپی کرکے پوسٹ کرنے کی اجازت ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں