گونگی دلہن گلگت بلتستان

آصف خان ناجی


تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے گلگت بلتستان کے عوام نے چند چھوٹے موٹے واقعات کے علاوہ ہمیشہ گونگی دلہن کا کردار ادا کیا ہے جس کو ہمیشہ یہ بتایا گیا ہے کہ تمہاری شادی کی جا رہی ہے یہ کبھی نہیں پوچھا گیا کہ کس سے شادی کرو گی ؟ یا شادی کرو گی بھی کہ نہیں !
جب 1846 میں انگریزوں اور سکھوں میں پنجاب کشمیر ملحقہ کوہستانی علاقوں کی حکمرانی کی جنگ ہو رہی تھی تب بھی یہ قوم اور اس کے نیم خود مختار راجواڑے اور عوام بے خبر تھے اور جب انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر 75 لاکھ نانک شاہی جنگی تاوان اور سالانہ خراج کے عوض ان علاقوں پر حکومت تسلیم کی تب بھی یہاں کے عوام بے خبر تھے اور جب راجوں یا ان کے بیٹوں کے بیچ تخت نشینی کی کھینچا تانی میں کسی کی مطلوبہ خواہش پوری نہیں ہوتی تھی وہ شکایت لے کر مہاراجہ کے دربار میں ہی پہنچ جاتا تھا اور مہاراجہ سرکار مداخلت کر کے اپنے وفادار کو تخت نشین كرواتی تھی تب بھی عوام بے خبر ہی ہوتی تھی آج گلگت بلتستان کے جتنے راجے میر ہیں جب تک 26 اکتوبر 1947 کو ڈوگرہ راج کا سورج غروب نہیں ہوا تقریباً سو سال ڈوگرہ راج کی وفادار ہی رہی ہے اور 26 اکتوبر 1947 سے پہلے 15 اگست 1947 کو گورنر جنرل پاکستان محمد علی جناح نے ریاست جموں کشمیر کو آگے بھی خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا تب بھی عوام بے خبر ہی تھی اس کے بعد جب 22 اکتوبر کو برطانوی سامراج کے طے شدہ منصوبے کے تحت جرنل گریسی لارڈ ماؤنٹ بیٹن برگیڈئیر بیکھنگم کرنل بیكن نے کشمیر پر حملہ کروا دیا اور اس کے تسلسل میں جب میجر براون ستارہ امتیاز پاکستان کے زریعہ يكم اور 16 نومبر 1947 کو گلگت میں اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا جا رہا تھا تب بھی عوام بے خبر ہی تھی 16 نومبر 1947 سے لے کر آج تک جتنے بھی معاملات گلگت بلتستان کے ساتھ ہوے ہیں اس میں گونگی دلہن کی طرح گلگت بلتستان کو یہ کبھی بتایا گیا کہ تمہارے ساتھ یہ ہو رہا ہے یا ہوا ہے اور بعض اوقات یہ بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا گیا ۔
آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے بارے میں مجھ سمیت بلتستان کے حق پرستوں کو 2019 کے فروری میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ لوگوں کے ساتھ یہ ہونے جا رہا ہے اس کو تسلیم کریں ہم نے اسی وقت اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا ۔
اور اس کی مارکیٹنگ کیلئے چند مزدوروں کے زریعہ سرکاری خرچے پر شہروں میں پروگرامز کرواے جا رہے تھے جب ہم نے بھانڈا پھوڑا تو وہ پیڈ پروگرامز تو بند ہو گئے مگر اندرون خانہ اس پر کام جاری رہا اور جب آج اس جعل سازی کو کوئی که رہا ہے کہ ہم نے ڈیمانڈ کیا تھا کوئی که رہا ہے ہم نے کیا تھا تو ہنسی آتی ہے ۔
تم لوگوں کے ساتھ کچھ کرتے پوچھنا تو دور کچھ کرتے ہوئے بتانا مناسب نہیں سمجھا جاتا کہ کیا کر رہے ہیں اور جو ابھی کچھ سہولت کاروں کو میدان میں اتارا گیا ہے اس کی حمایت میں یا اس کا کریڈٹ لینے کیلئے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ بہت پہلے ہی فرشتوں کو معلوم تھا کہ اس جعل سازی کو عوام تسلیم نہیں کریں گے اس لئے اس جعل سازی کیلئے راۓ عامہ ہموار کرنے کیلئے انہیں میدان میں اتارا گیا ہے لیکن جن کو یہ نوکری دی گئی ہے بہت نا لائق ثابت ہو رہے ہیں اندازہ لگائیں جب صدیوں سے اپنی راۓ نہ رکھنے والے معلومات اور سیاسی شعور نہ رکھنے والوں میں اس کا یہ حشر ہو رہا ہے تو سوچیں بین الاقوامی فورمز پر اس کی کس طرح سے دھجياں اڑنے والی ہے ۔
اندرونی طور پر گلگت بلتستان کے مفادات کو جتنا نقصان پہنچے گا اس سے کہیں زیادہ بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کو اپنے موقف کو لے کر سبکی اٹھانی پڑے گی۔
سو باتوں کی ایک بات یہ آئیڈیا تاریخ سیاسيات اور بین الاقوامی قوانین سے نا آشنا کسی بے وقوف کا آئیڈیا لگتا ہے اور اس میں کوئی تعجب بھی نہیں ہے کہ جہاں گلگت بلتستان کا کردار پچھلے تقریباً پونے دو سو سالوں میں گونگی دلہن کا رہا ہے وہی پر پاکستان کا استرا بھی 75 سالوں سے بندروں کے ہاتھوں میں ہی رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں