مفلوج ذہن

عزیز علی داد


جب ذہن ہی مردہ ہو جائے تو مردہ خیالات ہی ہمارے حکمران بن جاتے ہیں۔ جب ہمارے ذہن سے دوسرے حسیات لاتعلق ہوجاتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو آقا سمجھتے ہیں اور یوں ہماری شخصیت کو تشکیل دینے لگتے ہیں۔ آج کے اس پاکستانی معاشرے میں غیر عقلی عناصر کا اتنا تسلط ہے کہ وہ ہمارے ذہن کو مفلوج کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم اس مفلوج اور خرد دشمن ذہنیت کو عقل سمجھ بیٹھے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری ذہنی نشوونما سے پہلے ہماری زبان بولنے لگتی ہے۔ یوں وہ دماغ سے آزاد ہوکر اپنی بکواس کرنے لگتی ہے۔ اسی طرح جیسا ننھا پروفیسر حماد صافی تو مقبول ہوجاتا ہے لیکن پروفیسر مہدی حسن اور حمزہ علوی گمنام ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر ہود بائی مشہور نہیں ہوتا پاتا ہےمگر پانی سے کار چلانے والا بندہ انجنئیربن کر قومی ہیرو بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال احمد گمنامی میں ہوتا ہے مگر زید حامد مقبول عام تجزیہ نگار بن جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایم ایم شریف گمنام مگر حسن نثار مفکر ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان کو کوئی نہیں پہچناتا ہے مگر مولانا فضل الرحمان زبان زد عام ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالسلام غیر مسلم مگر جنات سے بجلی نکالنے والے مسلمان سائنسدان بن جاتے ہیں۔
افلاطون نے کہا تھا کسی قوم کی ذہنی صلاحیت پہچانی ہو تو ان کے آئیڈیلیرز یعنی مثالی لوگوں کو دیکھیں۔ آپ صرف اپنے آپ کو اپنے مثالی لوگوں کے آئینے میں دیکھیں، پھر آپ کو اپنا بدصورت چہرہ خود بخود نظر آئیگا۔ آج میں نے اپنے آپ کو دیکھا، مگر مجھے اپنے آپ کو دیکھ کر اپنے آپ سے بہت ڈر لگا۔ آپ جرات کریں پھر پتہ لگے گا کہ ہم کتنے خوفناک ہیں۔ ہم خوب سیرت اور خوبصورت نہیں، بلکہ خوخصورت ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں