"مرد بنو مرد”

احسان شہابی


عورت ماں ہے، بہن ہے، بیوی ہے، اس کے پاؤں تلے بہشت ہے….. مگر افسوس! وہ انسان نہیں ہے. اور یہ ٹائٹل مرد کی زورآوری نے اس سے چھین لیا ہے. اس بات کو سمجھنے کے لیے معاشرتی رویوں کو محدّب عدسے سے ٹٹول ٹٹول کر پرکھنا ہوگا…… نوزائیدہ بچی کی کچی کھوپڑی اُڑانے والا باپ لائقِ دُشنام سہی مگر وہ اکیلا اس گناہ کا ذمے دار نہیں ہے. اسے تو معاشرتی رویوں نے اس پاپ پر اُکسایا ہے.
جس معاشرے میں جوان ہوتی بچی کو باپ کے کندھوں کے جھکنے کا سبب گردانا جاتا ہو، جہاں روزگار، کمائی اور خوشحالی کے سارے خواب بیٹے کے ساتھ نتھی ہوں، جہاں عورت کو کمزور، نازک، ڈرپوک ، پائے شکستہ جانا جاتا ہو، جہاں بیٹی کمزوری، شرمساری اور بزدلی کی وجہ جانی جاتی ہو وہاں کے باپ کبھی بیٹی کی آمد پر چراغاں نہیں کرتے اور نہ ہی ڈھول پیٹتے ہیں. بیٹی کے ساتھ نا انصافی اس دن شروع ہوتی ہے جس دن باپ بیٹے سے مکا لہرا کر کہتا ہے "مرد بنو، مرد”….. اس دن بیٹی باپ کا منہ تکتی رہ جاتی ہے اور سوچتی ہے "میں تو مرد نہیں بن سکتی” پھر وہ ساری زندگی مردوں کے معاشرے میں دوسرے درجے کی کم زور اور سہمی سہمی انسان بن کر بیتا دیتی ہے. کہیں کاروکاری کی شکار ہوتی ہے، کہیں بلی چڑھائی جاتی ہے، کہیں بے گناہی ثابت کرنے کے لیے دہکتے انگاروں پر چلائی جاتی ہے . کہیں جراتِ انکار کی پاداش میں چہرے پر تیزاب کے زخم لیے نشانِ عبرت بن جاتی ہے. ہمارا معاشرہ منافقت کے خوش نما رنگ سے مرصع ہے. یہاں عورت کی عزت، عورتوں کے حقوق کے سارے دعوے محض ڈھونگ ہیں. یہاں لوگ بیٹے کی تلاش میں غلطی پانچ سات بیٹیاں جنتے ہیں اور پھر ان کی کچی کھوپڑیوں میں پگھلتا سیسہ اتار دیتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں