شجرکاری مہم کا حصہ بننا باشعور قوم کی علامت ہے

محمد عالم


پہلے ایک حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہونگا ۔ ہم سب جانتے کہ دنیا گلوبل ولیج بن چکا ہے اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ دنیا سکڑ کے یا کلوز ہو کے ایک گاؤں (ولیج) بن گیا ہو۔ یہ ذہنی طور پر، معلوماتی طور پر اور ٹیکنالوجی کے طور پر ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں ۔ جیسے کہ آپ دنیا کے کسی ایک کونے میں بیٹھ کے دوسرے کونے کی خبر لینا ہو تو آپ کو چند منٹوں میں خبر مل جائے گی۔ اگر آپ کو ایک ملک دوسرے ملک جانا ہوا تو آپ فضائی جہاز کے زریعے یا بحری جہاز کے ذریعے آسانی جا پائینگے۔
اب میں جو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر آپ اسے ایک گاؤں ہی سمجھ رہے ہیں تو غلط سمجھ رہے ہیں۔ گاؤں کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک آپ پیدل چل کے ایک دن میں پہنچ جائے گی۔ جبکہ دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیدل چلیں تو آپ کی عمر لگ جائے گی لیکن پہنچ نہیں پائینگے۔ مطلب اللّٰہ تعالیٰ نے دنیا کو بہت وسیع بنایا ہے۔ مصنوعی ترقی سے دنیا کی رقبے اور احاطے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ اگر دنیا کے ایک کونے میں ترقی ہو رہی ہو تو ضروری نہیں دوسری کونے میں بھی ترقی ہو۔ ایک کونے میں قدرتی آفات آئیں تو ضروری نہیں کہ دوسری کونے میں بھی آئیں۔ اسی طرح دنیا کے ایک کونے میں جنگل ہو تو ممکن نہیں دوسرا حصہ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔
اسی لئے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر کے دوران یہی کہا تھا کہ پوری دنیا شجرکاری مہم کا حصہ بنیں، ہمارا ساتھ دیں۔ کیونکہ یہ صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں ہے یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے پہاڑوں پر بڑے بڑے گلیشئیرز بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ پگھل گیا تو یہ ایک بڑا آفات بن کر ٹوٹ پڑے گی۔ اس کا واحد حل جنگلات میں اضافہ ہے۔
افریقہ میں بہت سارے جنگلات ہیں لیکن یہ باقی دنیا کو مستفید نہیں کر سکتے۔ پانی اور برف کے علاوہ پوری دنیا میں صرف چار فیصد جنگلات پر مشتمل ہیں۔ کچھ سائنسدانوں کے ریسرچ کے مطابق دنیا کے پچیس فیصد جنگلات پر مشتمل ہونا چاہئیے۔ جبکہ پوری دنیا میں جنگل صرف چار فیصد ہیں۔ اور پاکستان کا کل 2.2 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے۔ جنگلات کے نہ ہونے کی وجہ آج پوری دنیا قدرتی آفتوں کے زد میں ہیں۔ جنگلات قدرتی آفتوں کو روکتا ہے۔
اور یہی بات جب وزیراعظم عمران خان نے کھل کر ساری حقیقت بیان کی تو دنیا کے کچھ باشعور لیڈروں نے حامی بھر لی۔ جس میں برطانیہ کے صدر جارنسن، ترکی کے صدر طیب اردوگان اور چینی صدر شی جنپنگ وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے شجرکاری مہم کو سراہا۔
وزیراعظم عمران خان نے 2015 کو بلین ٹری سونامی کے نام سے اس مہم کا آغاز خیبر پختونخوا سے شروع کیا۔ بعد میں اسے ٹین (10 ) کو ایڈ کر کے ٹین (دس) بلین ٹری سونامی کیا۔ اور اس کا سلوگن "ایک نفر دو شجر” جس کا مقصد پورے ملک میں تین سال کے اندر دس ارب درخت لگانا ہے۔ پہلے تین سال میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت کا پروجیکٹ مکمل کیا۔
جب عمران خان 2018 کو پاکستان کا وزیراعظم بنا تو انہوں نے یہ مہم پورے ملک میں چلایا۔ لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ لوگ اب بھی جاگنے کو تیار نہیں ہے۔ جنگلات کو اب بھی بے کٹا رہے ہیں ۔ اس کا ایک مثال گلگت بلتستان میں چلغوزے کے درخت کا نایاب ہونا ہے۔ سنا تھا چلاس میں چلغوزے کا جنگل ہوا کرتے تھے۔ مگر افسوس یہ اب کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ لوگ اس درخت کو کاٹ کر فرنیچر بناتے ہیں۔ اسی آج کے نسل نہ صرف اسکے پھل کھانے سے قاصر ہے بلکہ قدرتی آفتوں کے زد میں بھی ہیں۔ جنگلات کی تحفظ نہ صرف انسان بلکہ حیوانات اور نباتات کے لئے بھی مفید ثابت ہوتے ہیں۔
جنگلی جانوروں کا ناپید ہونا بھی اسی جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ہے۔ کیونکہ جب جنگل ہی نہیں رہینگے تو جنگلی جانور کہاں رہیں گے۔ ڈان نیوز کے ایک رپورٹر کے مطابق گلگت بلتستان میں ٹورزم کو فروغ بھی اس وقت ملے گا جب تک جنگلی جانور حیات ہو۔ جب ٹورزم کو فروغ ملے گی تو معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔
حقیقت میں دنیا کا سارا نظام ایک دوسرے سے انٹرلنک ہے۔ ( ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔) جب تک ہم بحیثیت قوم ان حقائق کو نہیں سمجھیں گے ہم لا شعوری کے عالم میں رہیں گے اور اسی طرح فناء ہو جاؤ گے۔
میرا یہ پیغام پوری دنیا سمیت خاص طور پر گلگت بلتستان کی عوام کے لئے ہے، اس امید میں نہ رہیں کہ دنیا کے دوسرے کونے میں جنگلات ہیں تو ہم محفوظ ہیں ۔ ہم پہاڑی علاقے میں رہتے ہیں یہاں پہاڑی آفات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ آئے دن پہاڑ کا گرنا سڑکوں کا بلاک ہونا۔ گرمیوں میں گلیشئیرز کا پگھل کر کھیتوں اور گھروں کو تباہ کرنا یہ سب جنگلات کی کمی وجہ سے ہوتی ہے۔
جنگلات آپ کونہ صرف قدرتی آفتوں سے بچاتے ہیں بلکہ آپ کے علاقے اور آپ کی زندگی کو حسین بھی بناتے ہیں اور ہمیں درخت خریدنے کی بھی ضرورت نہیں ہیں۔ بس تھوڑا محنت کی ضرورت ہے۔ باقی حکومت کے لئے آپ کے اس جنگل سے کوئی فائدہ نہیں ہے پھل آئے تو ہم اور آپ نے کھانا ہے۔
تو آئیے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اس مہم کا حصہ بنیں۔ درخت لگائیں زندگی بچائیں ۔ ایک نفر دو شجر پر عمل کریں۔ انشاءللہ اللّٰہ ہمیں ہر قسم کی آفات دور رکھیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں