199

روبینہ سہگل اور کملا بھسین

ڈاکٹر نا ظر محمود


دو مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ،ایک ہی سوچ کی حامل خواتین۔ دونوں ہی آمرانہ رویّوں کے خلاف اورحقوقِ نسواں کی عَلم بردار تھیں۔ وہ فرسودہ، پُرانی روایات میں گُم رہنے کی بجائے مسائل کا حل پیش کرتیں۔ گرچہ دونوں ہی فیمینسٹ نظریات کی حامل تھیں، لیکن ان نظریات میں کبھی زہر کی آمیزش نہ جھلکتی ۔ ہم نے(پاک، بھارت نے) دونوں خواتین کویکے بعد دیگرے کھودیا۔

روبینہ سہگل 27 اگست 2021 ء کو لاہور میں کورونا وائرس سے لڑتے ہوئےاور کملا بھسین 25ستمبر 2021ء کو دہلی میں سرطان کے خلاف زندگی کی جنگ ہار گئیں۔ دونوں کی وفات سے جنوبی ایشیا میں دانش ورانہ حلقے اپنے دو اہم ستون کھو بیٹھے۔ ہماری دونوں ہی کے ساتھ اچھی یادیں وابستہ ہیں اور ان کے چلے جانے سے ایک ذاتی نقصان سا محسوس ہوتا ہے۔ ہمیں ان کے استدلال اور دلائل میں کوئی کم زوری نظر نہ آتی تھی۔

انہیں صنف کی بنیاد پر غلامی یا عاجزی پسند نہ تھی، وہ تمام خواتین کو بھی یہی مشورہ دیتیں کہ ’’اپنی صلاحیتوں میں اتنا اضافہ کریں کہ پدر سری سماج کو للکار سکیں۔‘‘ کملا اور روبینہ اپنے مدّمقابل آنے والے مَردوں کو علم و دانش میں پچھاڑ سکتی تھیں اور وہ چاہتی تھیں کہ تمام عورتیں ایسا کرنے کے قابل ہوں ۔

کملا بھسین اور روبینہ سہگل میں کئی باتیں مشترک تھیں۔ کملا نےستّر سال سے زائد عُمر میں 2017ء میں جنوبی ایشیا میں ون بلین رائزنگ کا آغاز نیپال سے کیا، یہ خواتین پر ہونے والے تشدّد کے خلاف ایک عالمی تحریک تھی۔ کملا بھسین 1946 ءکو منڈی بہاؤالدین کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئیں، جو اُس وقت متحدہ پنجاب کا حصّہ تھا۔ تقسیم کے بعد اُن کا خاندان بھارت منتقل ہوگیا۔

روبینہ اور کملا کے لیے ’’فیمینزم‘‘ صرف ایک لفظ، ایک نظریہ نہیں، ظلم وستم کے خلاف ایک ہتھیار تھا۔ جس کے ذریعے وہ معاشروں میں صنفی امتیاز کے خلاف جنگ لڑرہی تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کہ خواتین تخلیقی سرگرمیوں میں حصّہ لیں اور متّحد ہوجائیں۔ دونوں کئی سماجی تنظیموں کا بھی حصّہ تھیں۔ اُن میں ایک اور بات مشترک تھی کہ دونوں ہی کی جدّوجہد صرف خواتین کے مسائل تک محدود نہیں تھی، بلکہ وہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفّظ کو بھی اپنا نصب العین سمجھتی تھیں۔

گو کہ روبینہ ایک پاکستانی فیمینسٹ، اسکالر اور ماہرِ تعلیم تھیں، لیکن کملا کے ساتھ خواتین کی جدّوجہد میں برابر کی شریک رہیں۔ دونوں نے درجنوں کتابیں اور مقالے تحریر کیے، دونوں اردو یا ہندی کے علاوہ انگریزی اور پنجابی پر بھی مکمل عبور رکھتی تھیں۔ ان کے کام کا دائرہ تعلیم، صنفی شعور سے لے کر قومیت اور شناخت کے مسائل تک پھیلا ہوا ہے۔

برّصغیر میں تقسیمِ ہند کے بعد جو حالات رونما ہوئے،بالخصوص خواتین کو جن جرائم اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا، وہ روبینہ اور کملا دونوں ہی کا مرکزی موضوع تھے۔ دونوں ہی خواتین مذہبی، فرقہ وارانہ بنیاد پرستی سے نفرت کرتی تھیں۔ اس حوالے سے کملا اور روبینہ نے ریاست کے کردار پر تفصیلاً روشنی ڈالی کہ کس طرح خود ریاستی ادارے معاشروں میں بنیاد پرستی کی داغ بیل ڈالتے اور عوام میں نفرتیں پھیلاتے ہیں، جس سے دہشت گردی جنم لیتی ہے اور پھر ریاستیں اس سے مقابلے کا ڈھونگ رچاتی ہیں۔

جس طرح روبینہ اجوکا تھیٹر کے بانیوں میں سے تھیں اور خواتین محاذ عمل کے ساتھ سیمرغ تنظیم وغیرہ کی سرگرم رُکن بھی تھیں، اسی طرح کملا بھی مختلف فورمز اور پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی آواز دوسروں تک پہنچاتی تھیں، جن میں سنگت نامی تنظیم قابلِ ذکر ہے۔روبینہ سہگل نے کولمبیا یونی وَرسٹی سے نفسیات میں ماسٹرز اور یونی وَرسٹی آف روچیسٹر سے ایجوکیشن میں پی ایچ ڈی کی۔

نیز، انہوں نے گوناگوں موضوعات پر متعدّد کتابیں، سیکڑوں مضامین اور مقالے بھی لکھے۔ اُن کی بہترین کتب میں سے ایک ’’پاکستان پراجیکٹ‘‘ تھی، جس میں انہوں نے قومیت اور شناخت کو فیمینزم کےتناظر میں دیکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے تصوّرِ پاکستان پر سرسید احمد خان سے لے کر محمّد علی جناح تک صنفی تناظر میں روشنی ڈالی۔ اسی طرح کملا بھسین کا علمی کام بھی کسی سے ڈھکا چُھپا نہیں۔ ان کے مضامین کئی بین الاقوامی تحقیقی جریدوں میں شایع ہوتے رہے۔

روبینہ اور کملا جنوبی ایشیا میں خواتین کے حقوق و مسائل کی پُرزور آواز اور اپنے رفقا، دوستوں کے لیے رہ نما اور استاد کا درجہ رکھتی تھیں۔ تعلیم میں صنفی امتیازات کو دونوں نے اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔ دونوں کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ وہ بہت جلد لوگوں میں گُھل مل جاتیں، سیکھنے سکھانے میں گہری دل چسپی لیتی تھیں۔ کملا اور روبینہ نے اپنی زندگیاں بھر پور طریقے سے گزاریں اور اپنے اصولوں کو کبھی مفادات کی بھینٹ نہیں چڑھایا۔

دونوں تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال تھیں اور اظہار کے متنوّع ذرایع استعمال کرتیں، جن میں شاعری سے لے کر طنز و مزاح تک سب شامل تھا۔ان کے اندازِ تحریر میں سادگی ہوتی، جب کہ تنقیدی سوچ کا رنگ بھی نظر آتا۔روبینہ اور کملا کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ وہ اپنے پڑھنے، سُننے والوں کے چہروں پر مسکراہٹ لے آتیں اور دوسروں کی زندگیاں بہتر بنانے میں ہمہ وقت کوشاں رہتیں۔ انہوں نے اپنی زبان اور تحریر سے ہمت و جرأت کی ترویج کی۔روبینہ اور کملا نے وہ کام کیے، جو ہمارے معاشرے میں قابلِ تعریف نہیں سمجھے جاتے ۔انہوں نے اپنے معاشرے کی خواتین کو مَردوں کے جارحانہ رویوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہونا سکھایا۔

روبینہ اور کملا بار بار اس بات پر زور دیتی تھیں کہ ’’صنفی مساوات کی جدوجہد عورتوں اور مَردوں کے درمیان لڑائی یا جنگ نہیں ، یہ تو دراصل دو نظریات کا ٹکراؤ ہے۔‘‘ دونوں نے ہمیں سکھایا کہ صنفی امتیاز سے استحصال جنم لیتا ہے۔ وہ مرد کو اس بات کا ذمّے دار نہیں سمجھتی تھیں کہ وہ عورت کی حفاظت کرے کہ اس طرح مرد خود پر غیر ضروری بوجھ محسوس کرتاہے، جس سے معاشرے میں تشدّد کا استعمال بڑھتا ہے اور طاقت پر مبنی تعلقات وجود میں آتے ہیں۔

روبینہ اور کملا نے اپنی زندگیوں میں خواتین کی تحاریک کو کئی مراحل سے گزرتے دیکھا، اب تعلیم اور بنیادی حقوق سے آگے بڑھ کر بہت کچھ کا مطالبہ کرنے لگی ہیں۔ اور اگر ہم اُن کی جدوجہد کو آگے بڑھانا ، اُن کی آواز زندہ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں عورت دشمن رویّوں کے خلاف کُھل کر بولنا اور قانون ساز اداروں میں اُن کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کا مطالبہ کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں