دھمکی آمیز خط 139

پاک امریکا تعلقات اور دھمکی آمیز خط

محمد اشفاق


اسد مجید خان چند روز پہلے تک امریکا میں ہمارے سفیر تھے۔ آپ کوئی ریٹائرڈ جرنیل یا ڈی ایم جی سے فارن آفس میں آنے والے پیرا ٹروپر نہیں، ایک کیرئیر ڈپلومیٹ ہیں۔ ان کا سفارتی کیرئر تین عشروں پہ محیط ہے۔ اور جناب کی سپیشیلٹی امریکا ہے۔

اسد صاحب فارن آفس میں امریکی ڈیسک کے ڈائریکٹر بھی رہے ہیں۔ امریکا میں ڈپٹی چیف آف مشن کے فرائض بھی انجام دے چکے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مختلف فورمز پہ نمائندگی کے ضمن میں بھی امریکا رہ چکے۔ جاپان میں سفیر کے فرائض انجام دے رہے تھے، جب علی جہانگیر صدیقی کی سبکدوشی کے بعد 2019 میں انہیں امریکا میں سفیر تعینات کیا گیا۔

جناب وزیراعظم کے پہلے دورہ امریکا سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں جو گرم جوشی پیدا ہوئی تھی وہ عارضی تھی۔ جب تک اسد مجید امریکا پہنچے، ٹرمپ انتظامیہ ہم پر افغانستان کے معاملے میں شدید دباؤ ڈال رہی تھی۔ ٹرمپ دھمکی بھی دے چکا تھا۔ خیر ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے مذاکرات میں سہولت کاری مہیا کی، معاہدہ کروایا۔ اس دوران ٹرمپ کی جگہ جو بائیڈن لے چکے تھے۔

امریکی صدر عہدہ سنبھالنے کے بعد دوست ممالک سے جو رابطے کرتا ہے، اس میں ہمارے وزیراعظم کو نظر انداز کیا گیا۔ ہم نے اس پر شکوے کرنا شروع کر دیے۔ پاکستانیوں کیلئے یہ کچھ سبکی کا باعث بھی تھا کہ وہ کال نہیں کرتا نہ کرے، پبلک فورمز پر گلے شکوے کر کے ہم کیوں اپنی عزت خود خراب کر رہے؟

خیر اسی دوران امریکی افواج کا کابل سے انخلاء عمل میں آیا۔ امریکیوں نے اپنے فوجیوں کو عملاً ٹوپی جوتیاں چھوڑ کر بھاگتے دیکھا تو انہیں شاک لگا کہ بیس سال قیام کے بعد ایسا کیوں؟

امریکی انتظامیہ نے اس کیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا۔اور ہم نے بھی سفارتی سطح پر نہیں تو عوامی سطح پر ہنسی خوشی یہ کریڈٹ اپنے سر لے لیا۔ اس سے بھی باہمی تعلقات متاثر ہوئے۔

علاوہ ازیں معاہدہ اور انخلاء کروانے کے ضمن میں ہمیں جو سراہے جانے کی توقع تھی، اس کی بجائے الٹا ہمیں ہی مطعون کیا گیا۔

انہی دنوں ایک امریکی چینل کے نمائندے نے جناب عمران خان سے مفروضے پہ مبنی یہ سوال پوچھا کہ امریکیوں کو اگر اڈے درکار ہوں تو کیا پاکستان مہیا کرے گا؟ جناب نے اس کا نہایت معقول جواب دیا کہ ایبسولوٹلی ناٹ۔

ہوا یوں کہ اب جناب کے ڈیڑھ درجن بھر ترجمانوں، ان کے حامی یوٹیوبرز اور بلاگرز نے پاؤں میں گھنگرو باندھے اور اس ایبسولوٹلی ناٹ کی دھن پر والہانہ تھرکنے لگے۔ اسی سامبا ڈانس کے دوران انہوں نے امریکی صدر کے کال نہ کرنے کا تعلق بھی ایبسولوٹلی ناٹ سے جوڑ دیا۔

تاثر یہ بنایا گیا کہ چونکہ ہم نے اڈے دینے سے انکار کیا ہے اس لئے جو بائیڈن کال نہیں کر رہا۔ امریکیوں نے اس تاثر کو زائل کروانے کیلئے معید یوسف اور شاہ محمود قریشی کے سامنے یہ اڈے مانگنے والا سوال رکھوایا۔ ظاہر ہے دونوں نے تردید کی، کیونکہ ایسا تھا ہی کچھ نہیں۔ مگر اس سے ناچنے والوں کے سٹیپس ذرا بھی متاثر نہ ہوئے۔

اسی دوران الگ الگ وجوہات کے تحت امریکا کے چین اور روس سے تعلقات بگڑ رہے تھے اور الگ الگ وجوہات کے تحت ہی ہم ان دونوں ملکوں کے قریب آ رہے تھے۔ اس سے بھی ہمارے باہمی تعلقات متاثر ہوئے۔

دسمبر سے روس اور یوکرین کا باہمی تنازع بگڑنے لگا۔ فروری آتے آتے روس اپنی دو لاکھ فوج یوکرین کے بارڈر پر لے آیا۔ امریکا اور یورپی یونین یوکرین کی پشت پناہی کر رہے تھے اور اس کے حق میں عالمی رائے عامہ ہموار کرنا چاہ رہے تھے۔ ایسے میں ہمارے وزیراعظم کا دورہ روس آ گیا۔

چین اور روس کے ساتھ ساتھ امریکا سے دوستی کی بھی ہمارے لئے بہت اہمیت ہے جس کی بہت سی وجوہات آپ سب جانتے ہی ہیں۔ اس لئے اسٹیبلشمنٹ کو بھی امریکا سے بگڑتے تعلقات پر تشویش تھی۔ آپ کو یاد ہوگا کہ خان صاحب کے دورہ روس سے پہلے کئی پرو اسٹیبلشمنٹ تجزیہ کاروں نے اس دورے کی ٹائمنگ اور افادیت پر سوال اٹھائے تھے۔

مگر جانا بنتا تھا، اس پر میں پہلے لکھ چکا۔ پیوٹن نے مگر انتہائی خباثت کا مظاہرہ کیا اور سفارتی آداب بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمارے وزیراعظم کے دورے کے دوران ہی یوکرین پہ چڑھ دوڑا۔

خان صاحب کو مگر وہ پروٹوکول دیا گیا جس سے وہ اور ان کے عشاق پگھل جایا کرتے ہیں، تو وہ پگھل گئے۔ ہم نے روس کے خلاف قرارداد پر بھی رائے شماری سے اجتناب کیا۔

اب اس سب پر اسٹیبلشمنٹ اور فارن آفس میں یہ تشویش پائی جاتی تھی کہ کہیں ہمارے اور امریکا کے تعلقات میں کوئی گہری دراڑ نہ پڑ جائے۔ اسد مجید خان صاحب کو کہا گیا کہ وہ سن گن لیں کہ امریکی کیا سوچ رہے ہیں؟

اسد صاحب نے اپنے تعلقات بروئے کار لاتے ہوئے کچھ جنوبی ایشیائی امور کے ماہرین جیسا کہ ولسن سنٹر کے ایک ڈائریکٹر صاحب، کچھ امریکی محکمہ خارجہ کے لوگ، ایک آدھ پاکستان اور جنوبی ایشیا میں دلچسپی رکھنے والے سینیٹر اور کانگریس مین وغیرہ کو اکٹھا کیا۔

یہ ایک غیررسمی اور کسی حد تک خفیہ میٹنگ تھی جس میں یوں کہہ لیں کہ سفارتی آداب یا احتیاطوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے فرینک ڈسکشن ہوئی۔ ہر کسی نے اپنی رائے کا کھل کر اظہار کیا۔ پاکستان کے داخلی معاملات پر بھی ظاہر ہے بات ہوئی۔ عدم اعتماد بھی زیر بحث آئی۔

اسد صاحب نے اس میٹنگ کی جامع روداد تھرو پراپر چینل فارن آفس کو بھجوا دی۔ فارن آفس سے وہ معمول کے مطابق عسکری قیادت اور شاہ محمود قریشی کو بھیج دی گئی۔ اس سے اگلے روز عدم اعتماد کی تحریک پیش ہو گئی۔

تاریخ، نیوز چینل، اخبارات گواہ ہیں کہ عدم اعتماد کی کہانی دسمبر سے چل رہی تھی۔ جنوری میں حامد میر اس کی پیشنگوئی کر چکے۔ فروری میں اپوزیشن نے باقاعدہ اس کا اعلان کیا۔ اور پورا فروری کا مہینہ یہ موضوع ٹاک شوز کی زینت بنا رہا۔ تحریک پیش ہونے کے بعد آپ سب جانتے ہیں، مارچ کے مہینے میں کیا ہوا۔

مگر مارچ ہی میں اسد مجید خان کا امریکا سے برسلز تبادلہ کر دیا گیا۔ اس سے متعلق جو کہانی سننے کو ملی ہے، وہ میں نہیں بتا رہا۔ مگر پچیس کو انہوں نے الوداعی پارٹی اٹینڈ کی اور ستائیس کو وزیراعظم نے جلسے میں کاغذ لہرا کر فرمایا کہ "ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔”

جبکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ اسے دھمکی کے بجائے وہی سمجھ رہی، جو یہ ہے۔ یعنی ہمارے سفیر کی ایک اسیسمنٹ کہ امریکی ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہیں؟

وزیراعظم کے اس بلنڈر پر بھی اسٹیبلشمنٹ خاموش بیٹھنے کو تیار تھی مگر پچھلے دو دن میں کچھ ایسا ہوا کہ اسے ایکٹولی انوالو ہونا پڑا ہے۔

کیا ہوا؟ یہ جاننے سے پہلے یہاں ذرا رک کر یہ دیکھیں کہ پچھلے ساڑھے تین برس میں، خارجہ محاذ پر، خان حکومت کے کون کون سے بلنڈرز اسٹیبلشمنٹ برداشت کر چکی ہے؟

1- انہیں پانامہ کیس میں قطر کے شاہی خاندان پر غصہ تھا۔ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے ایل این جی ڈیل پر یہ غصہ نکالا۔

2- حکومت سنبھالتے ہی ان کے وزیر تجارت نے کہا کہ ہمیں سی پیک ایک سال کیلئے بند کرنا پڑے گا۔ بجلی کے وزیر نے کہا کہ چینی کمپنیوں کو مہنگے ریٹوں پر کانٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ مواصلات کے وزیر نے سی پیک منصوبوں میں حسب عادت اربوں کی کرپشن نکالنا شروع کر دی۔ جب تک امریکا سے کچھ ملنے کی آس رہی، سی پیک پر کام عملاً بند رہا۔ چینی صدر کو بلانے کی ڈھائی سال سے کوشش ہو رہی، وہ آ نہیں رہا۔

3- سعودیہ کے پہلے دورے پر خان صاحب کو غیرمعمولی عزت دی گئی۔ آپ وہاں سے نکل کر ایران پہنچے۔ سعودی انٹیلیجنس کو پتہ چلا کہ زلفی بخاری نے کچھ اہم باتیں ایرانی قیادت کو بتا دیں۔ اس پر وہ خاموش رہے۔ خان صاحب کو اپنا ذاتی طیارہ دے کر امریکا بھیجا۔ طیارے میں دوران سفر سعودی طرز حکومت اور شاہی خاندان کا مذاق اڑایا گیا۔ انہوں نے طیارہ واپس لے لیا۔ نیویارک پہنچ کر ملائشیا اور ترکی سے مل کر نیا اتحاد بنانے کا اعلان کر ڈالا۔

4- اس نئے اتحاد کو خلیجی عرب ممالک نے او آئی سی کے مدمقابل بلاک کی تشکیل سمجھا۔ وہ ناراض ہوئے تو ان کے دباؤ پر ہم اس اتحاد سے باہر نکل آئے۔ اس پر ملائشیا اور ترکی کو مایوسی ہوئی۔

5- کشمیر کے معاملے پر اپنی ناکام سفارتکاری کا غصہ عرب ممالک پہ اتارا۔ انہوں نے اپنے پیسے واپس مانگ لئے تو سعودی عرب کے خلاف خان صاحب کی یوٹیوب سپاہ نے غلیظ ترین اور گھٹیا مہم چلائی۔

6- جنرل قمر باجوہ نے دورے کر کر کے دوبارہ سعودیہ اور یو اے ای سے تعلقات نارمل کروائے تو انہی یوٹیوبرز نے "گھٹنے ٹیک دیے” قسم کے ٹرینڈز چلائے۔

یہ سب کچھ اسٹیبلشمنٹ سہتی رہی کہ یہ انہی کا لگایا جہنم کا پیڑ تھا۔
اس مراسلے والے معاملے کو بھول جانے کو بھی وہ تیار تھے۔ ان کی صرف یہ خواہش تھی کہ اسے مزید پبلک میں مت اچھالا جائے۔ کیونکہ ….

یہ امریکیوں کیلئے ناقابل برداشت ہوگا کہ ہمارے ہی سفیر کی دعوت پر ان کے لوگوں نے جو فیڈبیک دیا، اسے انہی کے خلاف استعمال کیا جائے۔

جو لوگ اس میٹنگ میں شریک تھے، انہیں اپنے اپنے اداروں اور حکومت کو جواب دینا پڑے گا کہ آپ کس سے پوچھ کر، کس کو بتا کر میٹنگ میں گئے اور یہ باتیں آپ نے کس لئے وہاں کیں؟

وزیراعظم اور اسد عمر نے یہ تاثر دیا کہ خط غیرملکی حکومت نے لکھا ہے جو سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔

عدم اعتماد کا اس مراسلے یا امریکی حکومت سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ کئی ماہ پہلے سے یہ معاملہ چل رہا تھا۔ وزیراعظم نے اس پر بقول ان کے شکرانے کے دو نفل بھی پڑھے تھے۔ اپنی ہر تدبیر الٹی ہوتے دیکھ کر کرسی بچانے کیلئے امریکا سے تعلقات داؤ پر لگا دیے گئے۔

مگر ان دو دنوں میں فوجی قیادت کی کوششوں کے باوجود ہر حد پھلانگ لی گئی تو ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے چین جا کر شکایت کی کہ امریکا ہمارا تختہ الٹنا چاہتا ہے۔ چینی قیادت نے دوستی کا حق ادا کرتے ہوئے ایک سخت بیان جاری کر دیا۔ اب خدشہ ہے کہ انہیں اصل بات پتہ چلے گی تو ہمیں شدید خفت اٹھانا پڑے گی۔

معاملہ حد سے گزرتا دیکھ کر امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو بھی بیچ میں کودنا پڑا۔ انہوں نے خط کی واضح اور دو ٹوک تردید کر دی ہے۔ ہم اپنے جھوٹے موقف کے دفاع کے قابل بھی نہیں رہے۔

جیسے وزیراعظم نے کچھ چنیدہ صحافیوں کو بلا کر مراسلے کے کچھ چنیدہ حصے بتائے۔ بالکل ویسے ہی کل قوم سے خطاب میں بھی وہ کچھ عوام سے شئیر کرنے جا رہے تھے۔ آدھے سچ میں پورے جھوٹ کا تڑکہ لگا کر وہ جو تقریر کرتے، اس نے آنے والے مہینوں میں ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا دینا تھا۔

اس لئے کل آرمی چیف اور سپائی چیف نے دو مرتبہ وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں تقریباً مجبور کر کے ان کے بیہودہ ارادے سے باز رکھا ہے۔

میں نے دو ڈھائی سال سے ایک بات گرہ سے باندھ رکھی تھی۔ ہماری آپس میں بات ہو رہی تھی تو مرشدی ریحان اصغر سید نے فرمایا تھا کہ پچھلے وزرائے اعظم صبر کر جاتے تھے، خان صاحب اقتدار سے نکلے تو پتہ نہیں کون کون سا قومی راز سڑکوں پہ اگلتے پھریں گے۔

جو بات ہم دو منجی توڑ دانشوروں کو برسوں پہلے سے پتہ تھی، ہماری مسخری، سوری عسکری قیادت کو کل شام اس کا ادراک ہوا ہے۔

آج تحریک عدم اعتماد کو مزید لٹکانے کیلئے جناب پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے چلے ہیں۔ دیکھیں اب کیا ہوتا ہے؟

انصافی جو مرضی سمجھتے رہیں، انہیں چھوڑ کر باقی سب کو بتا رہا کہ کل شام سے جناب عمران خان صاحب کو نیشنل سکیورٹی تھریٹ سمجھا جانے لگا ہے۔ اور اب انہوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو ان سے شاید تھریٹ ہی کی طرح نبٹا جائے۔

یہ بندہ کبھی بھی وزیراعظم بننے کے لائق نہیں تھا، جنہوں نے بنایا اب وہی بھگتیں اور وہی نبٹیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں