Baam-e-Jahan

آخری لمحے وزیراعظم سے ملاقات کیلئے جانے والی "دو اہم شخصیات”

رشید یوسفزئی


سکندر مرزا صدرات سے استعفی نہ دینے پر بضد تھے. ایوب خان بمع دو اور جرنلز کے ایوان صدر گئے. ملاقات شروع ہوئی. سکندر مرزا نہیں مان رہے تھے. ایک جنرل نے اٹھ کر سر پر پستول رکھی. نیچے سے دو لات مارے، گالیاں دیئے اور استعفیٰ پر دستخط کراوئے. اسوقت میڈیا کی یہ حال نہ تھی مگر کل اخبارات میں یہی آیا کہ صدر مملکت سے تین اھم شخصیات کی ملاقات. صدر مملکت مستعفی. سکندر مرزا کے بیٹے ھمایون مرزا نے اپنی حالیہ کتاب
From Palassey to Pakistan: The Family History of Major General Sikandar Mirza

میں لکھا ہے کہ ایوب خان میرے والد کو قتل کرنا چاہتے تھے. 1948 میں ائی ایس ائی کے بنیاد رکھنے والے میجر جنرل جوزیف کاتھارن پاک ارمی سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد واپس پاکستان بطور آسٹریلیا کے سفیر کے ائے تھے. ایوب خان اور صدر مرزا کے دوست تھے. انہوں نے درمیان میں آکر صدر مرزا کو ایوب خان سے بچایا.

آج بلکل وہی ڈرامہ دھرایا گیا. بس ملاقات کی جگہ ایوان صدر کی بجائے وزیراعظم ہاؤس تھی اور ملاقات کیلئے جانے والے اشخاص تین کے بجائے دو تھے. بہادر و آزاد میڈیا نے صرف یہ فلیش نیوز چلائی کہ "دو اھم شخصیات وزیراعظم سے ملاقات کیلئے آئے”. کسی ایک چینل نے، کسی ایک صحافی و تجزیہ نگار، کسی ایک پنڈت و بزرجمہر نے باجوہ و ندیم دونوں "اھم شخصیات” کے نام لینے کی جرات تک نہ کی. عمران اخری دم تک اپنی بات پر قائم رہا…… اور پھر مجبوراً "دو اھم شخصیات” نے اندر جاکر اپنی طاقت کا جادو دکھایا. میں عمران کا طرفدار نہیں. مگر جتنا اس کا رویہ غلط تھا، اتنا اس کو نکالنے والوں کا بھی.

 جسٹس کیانی مرحوم نے ایک جگہ لکھا ہے کہ قوموں کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور پاکستانی قوم کا تو سرے سے حافظہ ہے ہی نہیں. لیکن کچھ یاد کریں اخری وقت میں کچھ اس سے ملتا جلتا رویہ نواز شریف کا بھی تھا. یہی سپریم کورٹ تھی اور اسی طرح ایک دو اھم شخصیات مستعد تھے جبکہ فرنٹ پر  آج کے زرداری و شہباز کی جگہ اج رخصت ہونے والا وزیراعظم اور سراج الحق .... ذرا اپنے تخیل کو جاگنگ دیں...... یہ پاکستانی سیاست کی عام رسم و ریت ہے. پارلیمنٹ منظر عام پر محض ایک ڈرامہ ہوتا ہے. کام اصل میں ایک دو "اھم شخصیات" ہی کرتے ہیں۔ 

اپنا تبصرہ بھیجیں