Baam-e-Jahan

مشال خان کا لہو قرض ہے!

mashal khan

اویس قرنی


اپریل 2017،13 ایک تاریخی المیے کا دن ہے۔ اس درندگی اور وحشت کے مناظرسے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر دل میں تکلیف تھی۔ ہر ماں کی آنکھ اشکبار تھی۔ ایک بے بس باپ کے سامنے پورا معاشرہ شرمندہ تھا۔ مشال خان کے والد اقبال لالہ ہمت و استقامت کا استعارہ بنے۔ اس طرح شیرین یار یوسفزئی کی غیر معمولی بہادری و جرات نے بربریت کے سامنے ڈٹ جانے کی بھی تاریخ رقم کی کہ جب وحشت کی کالی آندھی معاشرے پر آسیب کی طرح چھائی تھی تو شیرین یار نے اپنی خاندانی رائفل کے زور پر مشال خان کا جنازہ کروایا۔ یہ ایک غیر معمولی اقدام تھا جو نہایت اہمیت کا حامل تھا۔ وہ مشال خان سے کبھی ملا نہیں تھا۔ شاعری کے شغف کی وجہ سے اس کے والد سے معمولی واقفیت تھی۔ لیکن اس کو یہ اندازہ بہرحال ضرور تھا کہ ذاتی اور سیاسی رنجشوں کی بنیاد پر گستاخی جیسے سنگین الزام کو استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ شیرین یار جب جنازے کی غرض سے صوابی کے قریب ایک گاؤں میں مشال خان کے گھر پہنچا تو یہ قیامت زدہ گھر بالکل اجڑا ہوا اور سنسان تھا۔ علاقے کے مولویوں نے اعلان کر رکھے تھے کہ جو جنازہ کرائے گا یا پڑھے گا کفر کا مرتکب ہو گا اور نکاح ٹوٹ جائیں گے۔ وہی سارے اعلامیے جو رجعتی اور وحشی ملائیت ہمیشہ دیتی آئی ہے۔ صرف چار لوگوں پر محیط مشال خان کا جنازپڑھا گیا۔ جس کی حفاظت پر عقیدتاًسر جھکائے اور مضبوطی سے رائفلیں تھامے شیرین یار اور ان کے ایک دوست معمور تھے۔ جس کی امامت کے لئے کوئی میسر نہ تھا۔ ایک اجنبی شخص، شاہ ولی، نجانے کیسے اور کیونکر اس فریضے کے لئے تیار ہوا۔ گلی کی کسی نکڑ پر ایک بے گھر انسان یہ سب دیکھ رہا تھا جو اچانک اٹھا اور گلیوں میں ایک طرف سے دوسری طرف دوڑتے ہوئے اعلان کرتا گیا اور لوگوں کو جنازے میں شرکت کی دوہائی دیتا رہا جس سے لوگوں کی ہمت بندھی اور وہ اس جنازہ میں شریک ہونے لگے۔ شیرین یار کہتے ہیں کہ ”کہا جاتا ہے میرے اقدام نے لوگوں کی ہمت بڑھائی۔ مجھے اس کا نہیں پتہ! لیکن میں اس دن ایک جنازے میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ سو میں نے کی۔“ تاریخ میں افراد کا کردار اس طرح اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ بعض اوقات افراد کی غیر معمولی جرات معاشروں کو جھنجوڑ دیتی ہے۔

اس دن کے دلسوز کے واقعات تعلیمی اداروں میں ٹھونسی گئی رجعت کو آشکار کرتے ہیں۔ مشال خان کے اندوہناک قتل میں شریک افراد کسی اور سیارے سے اچانک نمودار نہیں ہوئے تھے۔ ان میں ہم جماعت بھی شامل تھے اور دوست احباب بھی۔ سینکڑوں بلوائیوں کی موجودگی میں تین درجن مرکزی کردار مشال خان کو کمرے سے گھسیٹ کر سیڑھیوں پر روندتے ہوئے لاٹھیوں کی برسات کرتے رہے۔ اس کے سرپر گملے پھوڑے گئے۔ نیم مردہ کیفیت میں بھی مشال خان ان درندوں کے سامنے اپنی بے گناہی کا مقدمہ لڑتا رہا۔ پانی مانگتا رہا اور ہسپتال لے جانے کی استدعاکرتا رہا۔ تحریک انصاف کے مقامی لیڈر نے پستول کی گولی داغ کر اس کو ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔ جس پر تقریباً سبھی کی غیر اعلانیہ رضامندی شامل تھی۔ اور ویڈیوز بنتی رہیں۔ ضیائی آمریت کے وقتوں سے جو زہر اس معاشرے کی رگوں میں اتارا گیا تھا یہ اسی کا اظہار تھا جس کے اثرات آج پانچ سال بعد کہیں زیادہ شدت اختیار کر چکے ہیں (بالخصوص عمران خان کے انتہائی رجعتی دورِ حکومت کے دوران) اور آج سیالکوٹ سے سندھ تک ایسے واقعات مسلسل دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

مشال خان کا استاد ضیا الدین ہمدرد اپنی بے بسی پر آج بھی شرمندہ ہے۔ اس واقعہ کے ایک ہفتے کے اندر ہیں وہ مستعفی ہو گیا۔ لیکن وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ مشال خان تو نہیں رہا لیکن اس کے قتل کے گواہ اور اس کا خاندان آج بھی خوف و ہراس میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ضیا الدین نے گواہی دی لیکن پھر اپنی جان بچانے کے لئے آج ملک بدر ہے۔ کیس کی رپورٹ اور ضیا الدین کی گواہی نے واضح کیا کہ کرپٹ یونیورسٹی انتظامیہ مشال کے قتل کی منصوبہ بندی میں شریک جرم تھی۔ سماعت کے وقتوں میں بھی ضیا الدین کو اپنا ایمان بار بار ثابت کرنے کے لئے الہامی حوالہ جات دینے پڑتے۔ مشال کے ساتھ کے دوطلبہ عبداللہ اور زبیر کے لئے بھی زمین تنگ کر دی گئی۔

اس میں اب کوئی دوسری رائے نہیں کہ مشال خان کا قصور ادارے میں انتظامیہ اور ایک قوم پرست سیاسی جماعت اور اس کے طلبہ ونگ کی ملی بھگت سے ہونے والی کرپشن اور اقربا پروری کو بے نقاب کرنا تھا۔ وہ ہمیشہ طلبہ کے حقوق کی آواز اٹھاتا تھا۔اس جرم کی پاداش میں جمعیت جیسی رجعت پسند طلبہ تنظیم کی قیادت میں تحریک انصاف کے فسطائی ٹولے اور عوامی نیشنل پارٹی جیسی نام نہاد سیکولرپارٹی کے طلبہ ونگ کے کارکنان نے انتظامیہ کی ملی بھگت سے مشال خان پر گستاخی جیسا سنگین لیکن جھوٹا الزام لگا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔ یہی وہ بنیادی محرکات ہیں جن کی وجہ سے ایک ہونہار طالب علم کو دن دیہاڑے اس درندگی کا نشانہ بنایا گیا کہ اس کی ماں کے بقول اس کی انگلیوں کی ہڈیاں تک توڑ دی گئیں اور سکیورٹی اہلکار وں سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بلوے میں خاموش تماشائی بنے رہے۔بلکہ ان میں سے کئی تو اس کے سہولت کار بھی تھے۔

اس کے بعد سے یو نیورسٹی پر آسیب کا سایہ ہی رہا۔ ایک ماہ کے لئے تعطیلات کر دی گئیں۔طلبہ کی نام نہاد غیر نصابی سرگرمیوں کے لئے 20 کلب بنائے گئے جن میں 120 طلبہ پر ادارے کا نظم و نسق بہتر بنانے کی ذمہ داریاں عائد کی گئیں۔ لیکن 13اپریل2017ء اور مشال خان سے متعلق بات کرنے پر پابندی آج بھی بدستور جاری ہے۔ مشال خان کی شہادت کے بعد تشدد کا تدارک کیا ہونا تھا بلکہ انتظامیہ نے کئی ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دھونس و طاقت میں اضافہ ہی کیاجبکہ طلبہ حقوق کو مسلسل کچلا گیا۔طلبہ کے مطابق ادارے کی انتظامیہ یا اساتذہ کی نااہلی و بد کرداری سے متعلق شکایت کرنے کی اب کسی میں جرات نہیں۔ خاص طور مشال خان سے متعلق بات کرنا تو حد سے تجاوز کرنے کے مترداف ہے۔ ادارہ دوبارہ کھلنے کے بعد خاص طور پر کئی طالبات واپس اس تعلیمی ادارے میں داخل نہ ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد اظہار رائے کا تو قلع قمع ہی کر دیا گیا۔ ہر کسی پر گستاخی کے الزام کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایک طالبہ کے مطابق تو مذہبی جنونیوں کی جکڑ بندی اتنی سخت ہو گئی تھی کہ مشال خان کے بہت سے قریبی دوستوں کو اس سے خود کو جدا ظاہر کرنے کے جواز گھڑنے پڑتے۔

مشال خان کے بہیمانہ قتل کے پاکستان بھر کے سماج اور خاص طور پر طلبہ تحریک پر ہمیشہ کے لئے ان مٹ نقوش رہیں گے۔ پاکستان کی طلبہ سیاست کے حالیہ ابھار میں مشال کالہونہ صرف شامل ہے بلکہ طلبہ سیاست پر ایک قرض ہے۔اس دلخراش واقعے سے یہاں کی عوام اور بالخصوص طلبہ میں ایک دکھ اور تکلیف تھی جس کو یہا ں کے حکمران طبقات نے شاطرانہ انداز میں مختلف حیلے حربوں سے وقتی طور پر دبا دیا لیکن بعد کے واقعات نے اس تکلیف کو نفرت میں بدلا جس کا اظہار ملک بھر کے طلبہ احتجاجات کی صورت میں برآمد ہوا۔ طلبہ تحریک پر چھائے دہائیوں پر محیط جمود پر کاری ضربیں لگیں۔ سماجی سائنس رسمی منطق کے تابع نہیں ہوتی اور نہ ہی واقعات سیدھی لکیر میں رونما ہوتے ہیں۔ سطح کے نیچے کی حرکت لازمی نہیں کے افق پر فوراً آشکار بھی ہو۔ لیکن لاشعور میں پنپنے والی ذلتیں اور تکالیف کسی ایک واقعے کی صورت میں تمام دکھوں اور اذیتوں کے ساتھ منظر عام پر آشکار ہوتی ہیں۔

پانچ سال قبل شعبہ صحافت کے جس 23 سالہ طالبعلم مشال خان کوعبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے احاطے میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا‘ اس کی ایک اور شناخت بھی ہے۔ وہ کوئی روایتی نوجوان نہیں تھا۔ اس کا نظریہ اور مکتبہ فکر اس کے ہاسٹل کمرے کی دیواروں اور وہاں موجود کتابوں سے آشکار ہوتا ہے۔ جہاں کارل مارکس اور چے گویرا کے پوسٹر آویزاں تھے۔ مشال خان کا جھکاؤ مارکسی نظریات کی جانب واضح تھا۔ اور وہ محض کتابی فکر کا حامل بھی نہیں تھا بلکہ انتظامیہ و منظور نظر طلبہ تنظیم، جس سے اس کا اپنا واسطہ بھی تھا، کی ملی بھگت سے ہونے والی کرپشن کے خلاف عملی طور پر مصروف عمل بھی تھا۔ یہی تو اس کا اصل جرم تھا کہ وہ باغیانہ نظریات کا حامل بھی تھا، سوچتا بھی تھا اور عملاً جدوجہد بھی کرتا تھا۔ اسی لئے رجعتی عناصر اور ان کی رکھوالی انتظامیہ کو کھٹکتا بھی تھا۔ اسی وجہ سے مشال خان کا قتل محض مذہبی درندگی کا ایک المناک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس قسم کی سوچ کے حامل نوجوانوں کے خلاف سوچی سمجھی اور منظم قسم کی یلغار کا اقدام ہے۔ مشال خان یہاں کے انقلابی نوجوانو ں کا ساتھی تھا۔ مشال خان ظلم و بربریت کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے ہر سرکش نوجوانوں کا کامریڈ تھا۔ رجعت کی یہ بربریت کسی فرد واحد کے خلاف نہیں ہے۔ اس کا نشانہ مشال خان ضرور بنا لیکن یہ انقلابی سوچ اور نظرئیے کے خلاف درندگی تھی۔ اس لئے مشال کا لہو بھی اس نظرئیے، اس پر چلنے والے سرکش نوجوانوں اور مشال خان کے کامریڈوں پر قرض ہے۔

سرمائے اور استحصال کے اس نظام میں مشال خان کے ساتھ انصاف ممکن نہیں۔ یہ درندگی‘ انقلابی سوچ اور طرزِ عمل کے خلاف تھی جس کا حساب بھی پورا مظلوم اور محکوم طبقہ لے گا۔ یہاں ملزمان کی بریت اور سزائیں ہوتی رہیں۔ کچھ بھاگ گئے۔ کچھ کو دبوچ لیا گیا تاکہ سماجی غیض و غضب سے بچا جائے۔ لیکن بنیادی طور پر بنیاد رپرستی کی سوچ اور اس کی سماجی و مالی بنیادوں کا خاتمہ کیے بغیر مشال خان کے ساتھ انصاف نہیں ہو سکتا۔ اور محنت کشوں کی سرکشی کے بغیر بنیاد پرستی کی ان بنیادوں کو اکھاڑ ناممکن نہیں ہے۔ مشال خان کے لہو کا قرض یہاں کے انقلابی نوجوانوں اور محنت کش طبقے کی فتحیاب سرکشی ہی چکا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں