153

ڈریسنگ اور فحاشی

شہزاد مغل


قراقرم یونیورسٹی انتظامیہ نے کیا سوچ کر یہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں صاف لکھا ہے کہ طلبہ و طالبات کس قسم کی ڈریسنگ کریں گے؟
اگر انتظامیہ نے یہ سوچ کے یہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے اس طرح کی ڈریسنگ سے فحاشی اور بے حیائی کم کرنا ہے تو سب سے پہلے انہے بتاتا چلوں فحا شی بے حیائی لوگوں کی سوچ اور نظر میں ہوتی ہے ڈریس کوٹ میں نہیں۔ اگر ڈریس کوٹ میں ہوتا تو 3 ماہ کی معصوم بچی کے ساتھ اس معاشرے میں زیادتی نہیں ہوتی یا قبر میں دفنائے گئے لاش کو قبر سے نکال کر اس کے ساتھ زیادتی بلکل بھی نہیں کرتے۔
چلو آتے ہیں دوسرے پوائنٹ کی طرف اگر انتظامیہ نے یہ سوچ کر یہ ڈرس کوٹ جاری کیا ہے کہ اس سے طلبہ و طالبات میں تعلیمی قابلیت آئے گی قراقرم یونیورسٹی سے یہ ڈرس کوٹ کرنے والے کل یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد ملک اور دنیا میں اپنی اس ڈرس کوٹ کی قابلیت سے اپنا لوہا منوا لینگے تو زرا کوئی ایک ایسا مثال بنا دو کہ مدرسوں سے نکلنے والے طلبہ و طالبات نے کیا ایسا کارنامہ سر انجام دیا ہے؟ میں مدرسے کے طلبہ و طالبات کے تعلیم کے خلاف نہیں ہوں ان کا اپنا ایک مقام ہے مگر اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اگر اچھے اور معیاری تعلیم فراہم کرنے پر توجہ دیں طلبہ و طالبات معاشرے میں بہتری لا سکتے ہیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ اپنے جو وہشی اساتذہ ہیں اس کی ذہنی تربیت کرے یونیورسٹی انتظامیہ کا کام طلبہ و طالبات کے پہناوے دیکھنا یا اس کو مونیٹر کرنا نہیں ہے بلکہ طلبہ و طالبات کی بہتر تعلیم پر توجہ دینا ہے۔ ڈرس کوٹ ہر ایک انسان کی زاتی چوائس ہے۔ مہبربانی کر کے اس طرح کے نان ایشوز کو اشو بنا کر اپنی ناکام کارکردگی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش نہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں