تحریک انصاف کا بیانیہ امریکی سازش سے اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی تک! 128

تحریک انصاف کا بیانیہ امریکی سازش سے اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی تک!

سید انور شاہ


تحریک انصاف کا بیانیہ روز یو ٹرن لیتے ہوئے یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ اب سابق حکومت کے خلاف سازش نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ سے ناراضی کی وجہ سے گئے ۔ جس کا دعوی اس جماعت کا ایک اہم رہنما فواد چوہدری نے کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کی ناراضگی کی وجہ سے گئی۔ بقول ان کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کچھ عرصے سے تعلقات خراب تھے ۔ اور یہ سب کچھ ایک دم نہیں بلکہ بتدریج ہوا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد اب اس جماعت کی توپوں کا رخ امریکہ کی بجائے ریاست کے بقا کی ضامن اسٹیبلشمنٹ کی جانب موڑ چکا ہے ۔ کیونکہ امریکی خط کا چورن بازار میں پاک فوج کے وضاحت کے بعد ناقابل فروخت ہوچکاتھا۔ جس کے بعد اس جماعت کو اپنے رویہ تبدیل کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر ریاست کی جانب کردیا ہے ۔ اس تبدیلی کی وجہ مارکیٹ میں دستیاب ایک آڈیو ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کا نیا بیانیہ پر محسوس کیا جارہے ہے کہ بیانیہ کی تبدیلی میں اب واقعتا امریکی سازش ہے ، کیونکہجہاں اسوقت عمران خان اور اس کے ساتھی یا بیرون ملک اس جماعت کے کارکن امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگانے کے لئے تیار نہیں۔ کیونکہ امریکی ڈیموکریٹ کانگریس ممبر الہان عمر نے ملاقات کرکے اس بیانیے کو منوں مٹی تلے دفن کردیا ہے ۔ اس محترمہ نے دورے کے آغاز پر بنی گلا میں عمران خان سے ملاقات کی اس موقع پر اس جماعت کی اعلی قیادت موجود تھی۔اس ملاقات کے موقع پر بذات خود عمران خان یا جماعت کے کسی بھی پارٹی رہنما نے ان سے تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف امریکی سازش کے بارے میں سوال تک کرنے کی جرات نہیں کی۔ اس ملاقات کے بعد ہر میڈیا پربیانیہ سے انحراف پر انتہائی سخت ٹویٹ شروع ہوئے ۔ مگر جواب جو آنا چاہیے تھاج نہیں آیا۔ دیکھا جائے تو پاکستان میں جو تبدیلی آئی ہے وہ اچانک نہیں بلکہ کافی عرصے سے جاری ملاقاتوں کے نتیجے میں آوی ہے ۔ یعنی یہ سب کچھ اچانک نہیں بلکہ کئی ماہ سے خراب تعلقات تھے ۔ جہاں تک امریکی کانگریس ممب کے دورے کا تعلق ہے تو اس نے ملکی سیاست کو نئے دائرے میںداخل دیا کیونکہ عمران خان سے ملاقات کے بعد جہاں حکومت کی جانب سے عمران خان کو بیلٹ پروف گاڑی میں سفر کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔تو ساتھ ہی ساتھ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر پی ٹی آئی مخالف ہیں، یہ غیرملکی فنڈنگ کیس نہیں باہر بیٹھے پاکستانیوں نے پیسے بھیجے۔بقول ان کے اس طرح تو پورا پاکستان غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہا ہے، اصل میں یہ کیس فنڈنگ کا ہے۔بقول ان کے ہم کہہ رہے ہیں کہ تینوں جماعتوں کے کیسوں کا موازنہ کریں۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ حکومت میں بڑے سبق سیکھے ہیں، بقول ان کے اتحادی سارا وقت بلیک میل کرتے تھے۔ اتحادی حکومت کی وجہ سے قانون سازی میں مشکلات تھیں۔ اس دوران عمران خان کے بارے میں توشہ خانہ کے مال کے بارے میں جو فیصلہ عدلیہ کی جانب سے آیا ہے ، کو ہر طرف سراہا جارہاہے تو ساتھ ہی ساتھ تحریک انصاف کا ایک ماہ کے اندر فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کرنے کے خلاف عدالت میں جانااس با ت کا اعتراف ہے کہ یہ کیس مبنی بر حقیقت ہے ، اس کے امریکی کانگریس کی ممبر کے ملاقات بارے عمران خان کے ماضی قریب کے بیانیے کی روشنی میں پوچا جارہا ہے کہ امریکی عہدیداروں سے ملاقات کسی سازش یا پاکستان میں مداخلت کے لئے کی گئی ہے ۔ اس سوال پر تحریک انصاف کا جوابی بریگیڈخاموش نظر آرہا ہے ۔ جس سے محسوس ہورہا کہ اب کوئی سازش ہو رہی ہے ۔ کینکہ جہاں تحریک انصاف نے امریکہ سے توپوں کا رخ ہٹا دیا ہے وہاں امریکہ نے بھی روابط کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ اس وجہ سے لک کا سیاسی منظر تیزی روز تبدیلی کے مراحل سے گزرہا ہے ۔ جس کی وجہ سے سب کو محتاط انداز میں چکان ہوگا ۔ کیونکہ سابقہ حکومت کے بیانیے سے ملک کو خارجہ حوالے سے تنہائی کا شکار اور ہر ریاست کے ڈیپلومیٹ کے لئے ناقابل بھروسہ ہوگیا ۔ اب جبکہ محسوس کیا جارہے کہ عزائم کیا ہے تو پھر حکمت عملی بنانا کوئی مشکل کا نہیں ہے ۔اس وقت تمام سیاسی جماعتیں اپنا بیانیہ ریاست کے مفادات کے مطابق بنانا ہوگا ۔ اس سلسلے میں حقیقی سیاسی قوتوں کا ایک پیج پر آنا انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ مگر اس عمل کو جاری رکھنے کے لئے ہر جماعت کو قربانی کے جذبے سے سرشار ہونا پڑے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں