indigenous people 131

ہنزہ میں وسائل پر جبری قبضے بند کر دیا جائے

آخون بایے اطہر


ہنزہ میں سیاحوں کی تعداد میں آئے روز اضافے کے ساتھ ساتھ یہاں کی زمینوں کی قدر بڑھتی جا رہی ہے لیکن باوجود اس کے کہ پورے ملک میں زمینوں کی سرکاری ریٹ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ ہے، گلگت بلتستان میں جہاں غیر مقامی کو خریدنے کا حق ہی نہیں یہاں سر کاری ریٹ مارکیٹ ریٹ سے انتہائی کم ہے۔ اور بعض اوقات جبرانہ دینے کی بات کرتے ہیں جبکہ اس قیمت اور جبرانہ ملا کر بھی مارکیٹ کی قیمت کے آدھی کے برابر بھی نہیں ہوتی ہے ستم بالائے ستم یہ ہے کہ دفاعی یا سول جس کسی سرکاری اداروں کو جب بھی زمین کی ضرورت پڑتی ہے یہ جھپٹ کر اسے مفت یا بہت کم قیمت پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں علی آباد میں ڈی سی سکریٹریٹ کے لیے کسی کی ملکیتی زمین پہ قبضہ کی کوشش، پھسو میں سی پیک پولیس سٹیشن، عسکری ادرے کی طرف سے دو سو کنال زمین کس کی قیمت ایک ارب روپے سے زیادہ بنتی ہے، کو صرف چھ کروڑ میں ہتھیانے اس وقت عطا آباد جھیل پہ دفع 144 کے ذریعے لوگوں کو تعمیرات سے روکنا اور جھیل پہ قبضے کی کوشش اور اس طرح کی سیکنڑوں مثالیں موجود ہیں۔
اس کے علاؤہ معدنیات کے لائسنس چند ہزار روپے کی فیسوں کے عوض من پسند سرمایہ داروں عنایت کی جاتی ہے جو نہ ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ کے اصول کو مانتے نہ مقامی لوگوں کو حصہ دینا گوارہ کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ناصر آباد ماربل، خیبر ماربل، چپورسن ملوںڈین ریزروائر کے معاملے میں جاری ہیں اور کئی جگہوں پہ پلیسر گولڈ کے معاملے میں بھی متعلقہ گاؤں کے عوام پہ دباؤ ڈال جاتا ہے کہ وہ سرمایہ دار کی شرائط پہ کام کنی کی اجازت دیں۔ کئی لیز ابھی پائپ لائن میں ہے اور فلحال رکے ہوے ہیں لیکن یہ پابندی ختم ہوتے ہی جبری قبضہ کا یہ سلسلہ پھر سے شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
اس لیے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ جس حد تک ممکن کچھ معدنیات کی کانکنی کر کے اس کے آمدن کو صوبے کی آمدن میں شامل کریں۔ ماحولیاتی تحفظ کے تمام اصولوں پر کار بند رہیں اور ہر کمپنی کو اس بات کا پابند کریں کہ وہ متعلقہ گاؤں کے لوگوں کی مرضی کے خلاف کام نہ کریں اور انہیں اس بات کا بھی پابند کریں کہ وہ کانکنی کی آمدن سے ایک معقول حصہ گاؤں کو دے تاکہ وہ اس پہ چھوٹے موٹے ترقیاتی کام کر سکیں۔
سرکار سے یہ بھی مطالبہ کی جاتی وہ جبرا کی زمینوں پر قبضوں کا سلسلہ بند کروا ۔ زمینوں کی سرکاری ریٹ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ کر دیں اور کس کسی بھی ادارے کو چاہے وہ تعلیمی ادارے ہوں یا صحت کی جب زمینوں کی ضرورت کسی بھی پراجکٹ کے لیے ہوں اس کا باقاعدہ معاوضہ ادا کر کے اسے اپنے استعمال میں لے آئے اور کسی بھی غیر مقامیوں کو زمین خریدنے کی اجازت نہ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں