pak army in politics 147

کراچی یونیورسٹی خودکش حملے پر سوشل میڈیا صارفین کا تبصرہ

گزشتہ روز جامعہ کراچی میں چینی اساتذہ کو لے جانے والی وین پر ایک خاتون حملہ آور نے خودکش حملہ کیا جس کے نتیجے میں تین چینیوں سمیت چار افراد جان بحق ہوئے۔ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی کی علحیدگی پسند تنظیم کے مجید بریگیڈ نے قبول کی۔ کراچی حملے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا جنہوں نے اس واقعے کی مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست کی بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسی اور رویہ تبدیل کرنے پر بھی زور دیا۔

ترقی پسند دانشور اور صحافی حیدر جاوید سید نے لکھا ہے کہ کسی کو اچھا لگے یا برا کڑواسچ یہی ہے کہ فیڈریشن میں آباد قوموں اور ریاست کے درمیان مکالمے میں جتنی تاخیر ہوگی نقصان اتنا ہی زیادہ ہوگا ریاست کو فاتحین والا تکبر ترک کر کے اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ فیڈریشن کے اصل مالک یہاں بسنے والے زمین زادے ہی ہیں انہیں وسائل اور حق حکمرانی سے محروم رکھ کر مسلط راج پاٹ زیادہ
دیر نہیں چلتا یہی انسانی تاریخ کا سبق ہے۔

گلگت بلتستان کے ترقی پسند کارکن عنائیت بیگ نے اپنے فیس بک وال پہ کراچی سانحہ پہ کچھ یوں تبصرہ کیا ہے: "جبر کو لگام دینا ضروری ہے اورسیاسی جدوجہد میں صحیح سمت کا تعین لازمی ہے۔

"جب جبر بے قابو ہو جائے اور جدوجہد میں فہم و ادراک پر جذباتیت غالب آ جائے تو ایسے سانحے رونما ہوتے ہیں جو آج کراچی یونیورسٹی میں ہوا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے آزادی و علحیدگی حاصل کرنا بچھلی صدی تک کے لئے شاید متعقہ تھا، مگر موجودہ صدی عدم تشدد پر مبنی شعور، ہمت اور استقامت کا تقاضا کرتی ہے۔

پروفیسر طاہر ملک نے لکھا کہ "اعلی تعلیم یافتہ بلوچ اسکول ٹیچر نے خودکش حملہ کیوں کیا، اس پر ہمارے پالیسی سازوں کو سوچنا ہوگا۔
بلوچ نوجوانوں میں احساس محرومی ہے جسے پاکستان کے دشمن استعمال کرتے ہیں اور ہم 20 سال سے بلوچستان کے احساس محرومی کا رسمی تذکرہ تو کرتے ہیں لیکن اسے دور کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کرتے طاقتور اشرافیہ کو صرف اپنے اقتدار اپنی نوکری اپنے پلاٹوں فارم ہاوسز سے غرض ہے وہ صرف اپنے بچوں کا مستقبل بنانے میں مصروف ہیں۔

شاعر رحمان فارس نے اس واقعہ پر یوں منظوم تبصرہ کیاہے۔

زیتون کی جو شاخ تھی، تلوار کیوں بنی ؟
خود زندگی اجل کی مددگار کیوں بنی ؟
چُپ چاپ سوچیے گا کبھی بیٹھ کر جناب
عورت جو ایک ماں بھی تھی، بمبار کیوں بنی ؟

بزرگ بلوچ سیاستدان اور عوامی ورکرز پارٹی کے صدر یوسف مستی خان نے اپنے ٹیوٹر اکاؤنٹ پہ لکھا ہے کہ "کئی دہائیوں سے بلوچ عوام کی نسل کشی اور قتل عام اور نوجوانوں کی جبری گمشدگی جاری ہے۔ اس ریاستی جبر سے تنگ آکر بلوچ ماوں نے اپنی زندگیوں کو قربان کرکے اپنے بیٹوں کی زندگیوں کو بچانے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اسلئے ریاستی جبر اور تشدد کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

فہد رضوان لکھتے نے اس ایشو پر چند سوالات اٹھائے، وہ لکھتے ہیں "یہ کتابیں پڑھنے والی ماں خودک ش حملہ آور کیسے بن گئی؟ ہمارا قومی شعور مسخ نا ہو چکا ہوتا تو اس وقت پورے قومی میڈیا پر بلوچستان زیربحث ہوتا۔ ہمارے اخباروں پر، ہمارے نیشنل ٹیلیویژن پر ایک گرینڈ ڈیبیٹ، ایک ہمہ گیر بحث کا آغاز ہوتا۔ وہ بلوچ دھڑے جو وفاق سے علیحدگی چاھتے ھیں، انکا موقف کیا ھے؛ وہ جو وفاق کے اندر رھتے اصلاحات چاھتے ھیں انکا موقف کیا ھے؟ مسنگ پرسنز کا مسئلہ کیا ھے؟ جو پنجابی آبادکار بلوچستان اور کوئٹہ میں چن چن کر بےگناہ قتل کیے گئے، انکا جرم کیا تھا؟ جنکی مسخ لاشیں مل رھی ھیں، انکا جرم کیا ھے؟ پاکستانی فوج اور سیکیورٹی فورسز کا موقف کیا ھے؟ ھماری بڑی سیاسی پارٹیوں نے لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے پاس کیا حل اور روٹ میپ ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں