nasir abbas nayyar 119

نظریہ، وابستگی اور خوف

ناصر عباس نیر


تم جلد یا بدیر یہ جان لو گے کہ تمھیں جو بھی چیز عزیز ہے، اس کا عزیز ہونا ہی، اس کے کھو جانے کے خوف کی بنیاد ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ تم کسی شخص، گھر،دولت، عہدے، شہرت، اپنی انا کو عزیز از جان بھی رکھو اور اس کے کھوجانے کے ڈر سے آزاد بھی ہو۔ ٹھیک یہی خوف سب نظریات کے ضمن میں بھی ہوتا ہے، جن سے لوگ گہری وابستگی رکھتے ہیں۔ وابستگی ہی ، اس سے متعلق ہر طرح کے اندیشوں کی بنیاد ہے۔ نظریے یا تصور کے کھونے کا طریقہ ذرا مختلف ہےاور دل چسپ بات یہ ہے کہ ہم اس طریقے کا لاشعوری احساس رکھتے ہیں۔عزیز ترین چیزوں کو تو ہم دنیا سے چھپا کر رکھتے ہیں،ان کی حفاظت اپنی نجی زندگی کے ایک عظیم راز کے طور پر کرتے ہیں مگرنظریات کو چھپا نہیں سکتے؛ ان کی تو بقا ہی ان کے اظہار میں ہے۔ہم کوئی نظریہ قبول ہی اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مستند ، غیر مشتبہ اورہماری نجی اور سماجی زندگی میں کارآمد محسوس ہوتا ہے۔ہماری نفسی ووجودی الجھنوں کو سلجھاتا ہے؛ ہماری کمزوریوں کا مداوا کرتا ہے؛ہمیں ایک نوع کی ذہنی طاقت دینے کا امکان لیے ہوتا ہے؛ ہماری تنہائی ختم کرنے کا یقین ہمیں دلاتا ہے ۔کئی بار ہم نظریے کے ذریعے اپنی ذات کی توسیع کا سامان کرتے ہیں۔ایک نظریے کے سبب خود کوروزمرہ کی محدود دنیا سے ایک وسیع ذہنی دنیا میں خود کو محسوس کرتے ہیں ۔اس سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ نظریہ سیاسی ہے،قومی ہے یا ادبی۔ لیکن ہم مسلسل اس ڈر کا شکاررہتے ہیں کہ اگر کسی نے "ہمارے نظریے” کوغیر مستند ثابت کردیا یا مشتبہ بنادیا تو ؟اسی لاشعوری خوف کے سبب لوگ اپنے نظریے یا تصورات کا مسلسل ، موقع بے موقع ، راست یا بالواسطہ اظہار کرتے ہیں۔ چند مخصوص الفاظ کو دلائل کی مخصوص صورت کے ساتھ دہراتے چلے جانے میں انھیں قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ سچ تو یہ ہے کہ جہاں جہاں آواز پہنچتی ہے یا تحریر پہنچتی ہے، لوگ اپنے اپنے نظریات سے ان سب "جگہوں ” کو فتح کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔عام مشاہدےکی بات ہے کہ اگر کوئی ہمارے نظریے پر اعتراض کردے( کوئی نظریہ ایسا نہیں جس پر اعتراض نہ کیا جاسکتا ہو )توہم شمشیر بکف میدان میں اترنے میں دیر نہیں لگاتے۔ دو چار ایسے ہوں گے جو اس اعتراض کی روشنی میں اپنے نظریے کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ انسانی تہذیب انھی کے دم قدم سے باقی رہتی اور پھلتی پھولتی ہے۔
تم تاریخ میں اور خود اپنے زمانے میں نظریوں کی خاطر لوگوں کو ایک دوسرے کا خون بہاتے دیکھو گے۔ ادب کی تاریخ میں تمھیں نظریوں پر بے تعصب ،خالص علمی مباحث کم اورشخصی، نظریاتی جنگیں زیادہ نظر آئیں گی۔ جنگ کیا ہے؟ دلیل ،مباحثے ، مکالمے کو معطل کرکے ، بازواور بارود کی عفریت نما طاقت کا بے لگام استعمال۔ ایک اور چیز بھی تم حقیقی اور نظریاتی جنگوں میں مشترک دیکھو گے۔ ماضی کے ایک مخصوص تصور ، واقعے ، معنی سے شدت پسندانہ وابستگی۔ تمام نفسیاتی مریض ماضی کے کسی ایک واقعے کی دلدل میں پھنسے ہوتے ہیں۔ دلیل،مباحثے اور مکالمے کی جگہ لفظی ، عصبی یا حقیقی بارود استعمال کرنے والے ذہنی صحت مندی سے محروم ہوتے ہیں۔ کسی بھی نئے واقعے، نئی صورتِ حال اور نئے متن کو ماضی کے کسی نظریے ، معنی اور کینن سے ہٹ کر پڑھنا اسی لیے لازم ہے ۔ اور ایسا کرنے کا ایک مطلب تحفظ ، راحت اور آسائش کے چلے جانے کے خوف پر قابو پانا ہے۔تم کچھ تجربات ، نظریات، تصورات اور جذبات سے ملنے والی راحت وآسائش اور تحفظ کا تجزیہ بھی کرو اور یہ بھی دیکھو کہ ہم ان آسائشوں کی کتنی قیمت اداکرتے ہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں