مأں کا عالمی دن 133

ماؤں کا عالمی دن: چھ بچوں کو کاروبار کرانے والی ماں کی کہانی

فاطمہ علی، انڈپینڈنٹ اردو


’میری جدو جہد اسی روز شروع ہو گئی تھی جس دن میرے شوہر اس دنیا سے گزر گئے تھے۔ میں نے ان ان لوگوں کے چہرے اور رویے بدلتے دیکھے جن کے بارے میں مجھے لگتا تھا کہ ان سے بڑھ کر ہمارے لیے کوئی نہیں۔‘

یہ کہانی ہے روبینہ جاوید کی جو 17 برس پہلے 36 برس کی عمر میں بیوہ ہو گئی تھیں اور ان کے ساتھ تھے ان کے چھ بچے۔

روبینہ اس وقت اپنا بیوٹی پارلر چلا رہی ہیں اور انہوں نے اپنے چھ کے چھ بچوں کو مختلف کاروبار شروع کروا دیے ہیں اور انہیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا ہے۔

روبینہ کے بقول یہاں تک پہنچنے کا سفر آسان نہیں تھا۔ روبینہ نے بتایا کہ ان کے شوہر شیخ جاوید نوکری بھی کرتے تھے اور کچھ کاروبار بھی۔ جوائنٹ فیملی سسٹم تھا اور روبینہ گھر کی بڑی بہو تھیں۔

روبینہ نے بتایا کہ جب ان کے شوہر کا انتقال جگر کے کینسر سے ہوا تو حالات چند ہی دنوں میں تبدیل ہوگئے، نہ صرف مالی بلکہ رویے بھی تبدیل ہوگئے۔

’مجھے لگتا تھا جیسے ہر کوئی مجھے اور میرے بچوں کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کہاں جانا ہے کہاں نہیں جانا، کس سے ملنا ہے کس سے نہیں ملنا یہاں تک کہ بچوں کو آگے پڑھانا ہے یا نہیں۔‘

روبینہ کے شوہر جو کاروبار چلا رہے تھے وہ بھی ان کے جانے کے بعد بند ہو گیا۔ ان کے پاس کوئی جمع پونجی تو تھی نہیں اس لیے انہیں دوسروں پر انحصار کرنا پڑا جو ان کے لیے تکلیف دہ تھا۔

’میرا میکہ بھی اتنا مضبوط نہیں تھا کیوں کہ میری والدہ نے بھی میرے والد کے انتقال کے بعد ہمیں اکیلے ہی پالا تھا۔ میں ان سے بھی مالی مدد نہیں مانگ سکتی تھی۔ نہ واپس ان کے پاس جا سکتی تھی۔‘

روبینہ نے البتہ یہ تسلیم کیا کہ ’جاوید کے بعد جب کوئی ہمارے ساتھ نہیں کھڑا تھا تب میری ساس اور جاوید کی بہن نے ہماری ہمت بڑھانے کے لیے ہمارا بہت ساتھ دیا۔‘

روبینہ کہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر کا انتقال ہوا تو ان کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے تھے جن میں سے ان کا بڑا بیٹا 17 برس کا اور چھوٹا بیٹا پانچ سال کا تھا۔

’جاوید کے ہوتے ہوئے میں کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی وہ سب ہی کچھ گھر پر ہی لا کر دے دیتے تھے لیکن ان کے جانے کے بعد اپنے بچوں کے چھوٹے موٹے کاموں کے لیے مجھے گھر سے باہر نکلنا پڑتا تھا۔ بیٹے نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ ایک نجی کمپنی میں مارکٹنگ کا کام شروع کیا تو کچھ آسرا ہوا۔‘

’ایک دن میں اپنی بیٹی کے ساتھ مارکیٹ تک گئی تو وہاں مجھے میری سہیلی ثمرین ملی۔ وہ وہیں ایک بیوٹی پارلر چلاتی تھی۔ میں ان کے ساتھ ان کے بیوٹی پارلر گئی اور ان سے اپنی کہانی بیان کی۔انہوں نے مجھے بیوٹی پارلر کے کام کا مشورہ دیا مگر مجھے نہ کوئی تجربہ تھا نہ ہی میرے پاس کوئی سرمایہ تھا۔ مجھے  میک اپ وغیرہ تو آتا تھا لیکن کام کیسے شروع کرتی۔‘

روبینہ کی اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ تصویر (فوٹو: رابعہ حماد بیٹی روبینہ)

’میرا یقین اس بات پر بھی اس دوران مزید پختہ ہو گیا کہ جب کوئی مشکل آتی ہے تو اللہ اس مشکل سے نکالنے کا راستہ بھی خود بناتا ہے۔‘

روبینہ نے بتایا کہ ان کی سہیلی جس کا سیلون تھا اور انہوں نے روبینہ کو اس میں کام شروع کرنے کو کہا جہاں انہوں نے کام سیکھا۔ پھر ان کی سہیلی کا واپس دبئی جانے کا پروگرام بن گیا تو انہوں نے روبینہ کو کہیں اور کام تلاش کرنے کا مشورہ دیا کیوں کہ وہ اپنا کاروبار بیچنا چاہتیں تھیں۔

روبینہ نے بتایا کہ ’میں نے ان سے وہ سیٹ اپ خرید لیا۔ حالاں کہ میرے پاس اس وقت کوئی پیسے نہیں تھے۔ میں نے اپنے دوستوں رشتے داروں سے کچھ پیسے ادھار لیے میری بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی تھی اور وہ لندن میں تھی اس نے میری مدد کی اور میں نے اپنی سہیلی سے پوری رقم ادا کرنے کے لیے دو تین ماہ کا وقت مانگا اور اس طرح ایک چلتا ہوا سیلون میں نے خرید لیا اور کام شروع کر دیا۔‘

روبینہ کے مطابق ان کی بیٹی رابعہ کو جم کا شوق تھا اور انہوں نے خود بھی اپنا وزن ایکسرسائزئز کر کے کافی حد تک کم کیا تھا تو اس نے اسی سیلون کے اندر جم بھی کھول لیا جو اچھا چل پڑا اور بعد میں ایک ایک کر کے انہوں نے مختلف مشینیں خرید لیں لیکن بعد میں اسے بند کرنا پڑا۔

روبینہ نے اپنی آپ بیتی سناتے ہوئے بتایا کہ ’سیلون کے بزنس میں کوئی منافع نہیں ہو رہا تھا کیوں کہ جو آرہا تھا وہ لگ بھی رہا تھا اور ادھار بھی اتارنا تھا لیکن اب میں خود کما رہی تھی اور بچوں کو اپنے بل بوتے پر پال رہی تھی۔ اور پڑہا رہی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان کی بیٹی رابعہ کی بھی شادی کر دی جنہوں نے بعد میں فیشن ڈیزائننگ کا کام شروع کیا۔ روبینہ نے اپنی باقی دو بیٹیوں کو بھی سیلون کا کام سکھا یا۔ جبکہ ان کے بڑے بیٹے جو ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کر رہے تھے ان کو کیٹرنگ کا بزنس شروع کروایا جبکہ دو چھوٹے بچوں ایک بیٹی اور بیٹے کو ایونٹ مینجمنٹ کا شوق تھا تو انہیں ان کے اس کام میں حوصلہ افزائی کی اور اس طرح آہستہ آہستہ انہوں نے بڑی عقل مندی کے ساتھ اپنے چھ کے چھ بچوں کو کاروبار کے گر سکھائے۔

تصویر: رابعہ حماد صاحبزادی روبینہ

اس وقت روبینہ جہاں اپنا سیلون چلا رہی ہیں وہیں ان کی دو بیٹیاں لاہور کے مختلف علاقوں میں اپنا اپنا سیلون چلا رہی ہیں۔ ان کے بیٹے کی اپنی کیٹرنگ کمپنی ہے جبکہ دو بچے ایونٹ مینجمنٹ کا کام کر رہے ہیں۔ اور ان کی ایک بیٹی ڈریس ڈیزائنر ہیں۔

روبینہ اس ساری جدوجہد کے دوران دو سے تین کرائے کے گھر تبدیل کر چکی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے اب تک وہ اپنا خود کا گھر نہیں بنا سکیں جس کی انہیں خواہش ہے۔

روبینہ کی صاحبزادی رابعہ نے جو فیشن ڈیزائنر ہیں انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں یاد ہے کہ ان کی والدہ نے کتنا مشکل وقت گزارا۔

’ہم بہنیں اور بھائی بہت بڑے تو نہیں  تھیں لیکن ہمیں احساس تھا کہ ہماری والدہ مشکل سے گزر رہی ہیں اور ہمیں ہر طرح ان کا ساتھ دینا ہے اور خود سمبھالنا ہے۔ بس ہم امی کے کہنے پر عمل کرتے گئے اور آج نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ جو لوگ ایک زمانے میں ہمیں ترس کی نگاہوں سے دیکھ کر کہتے تھے کہ جاوید کے بچوں کا کیا بنے گا اب وہ ہمیں دیکھ کر رشک سے کہتے ہیں کہ یہ جاوید اور روبینہ کے بچے ہیں۔‘

رابعہ کہتی ہیں: ’البتہ میری اب ایک خواہش ہے کہ میں کسی بھی طرح اپنی امی کے لیے ایک گھر بنواؤں جسے میری ماں اپنا کہہ سکیں۔ آخر انہوں نے ہمارے لیے اتنا کچھ کیا تو اب ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم ان کے لیے کچھ کریں۔‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں