135

موسمیاتی تبدیلی: قدرتی آفات سے نمٹنے میں ناکامی پر گلگت بلتستان حکومت تنقید کی زد میں۔


ویب ڈیسک


گلگت بلتستان اور چترال میں موسمیاتی تبدیلی اور مناسب حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی اور بد انتظامی اور غفلت کی وجہ سے قدرتی اور انسانی آفات میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ جس کی تازہ ترین مثال شسپر گلیشر کے جھیل کے پھٹنے سے انفراسٹرکچر اور آبادی کے نقصانات ہیں۔

گلگت بلتستان میں گلیشیرز کو پگلنے سے روکنے اور مزید گلیشیرز پیدا کرنے کے لئے منظور شدہ پراجیکٹ گلاف ون اور گلاف ٹو کی کارکردگی نہایت ناقص رہی ہے۔ اربوں روپے کا پراجیکٹ مبینہ طور پر چند مفاد پرست عناصر نے اپنی عیاشیوں پر خرچ کیا۔

اس واقعہ کے بعد حکومتی اداروں، اور بین القوامی ادارون کی ناقص کارکردگی اور نااہلی بے نقاب ہو گیا۔ اس پر خطے کے سیسی و سماجی حلقوں اور سماجی رابطی کے متحرک کارکنون نے شدید تنقید کیا ۔

گلگت بلتستان کے ممتاز سیاسی و سماجی رہنما نجف علی نے ایک بیان میں گلگت بلتستان کی حکومت اور بین الاقوامی اداروں پر ماحولیاتی پراجیکٹس کی ناقص کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گلاف پراجیکٹ کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی نہ کی گئی تو شدید احتجاج کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلاف ون اور گلاف ٹو کے نام پر اربوں روپے کی بندر بانٹ کا حساب لیا جائے۔

"جس جس فرد یا ادارے کو گلگت بلتستان میں کام کرنے کا موقع ملا ہے انہوں نے مال بٹورنے عیاشیوں کرنے اور اپنوں کو نوازنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ گلاف پراجیکٹ کے پیسے اگر درست طریقے سے خرچ کرتے تو شیسپر گلیشیر کبھی نہ ٹوٹتے، گلگت بلتستان کے تمام پراجیکٹ پر شفاف تحقیقات کرکے عوامی پیسے عوام کے مفاد والے منصوبوں پر خرچ کیا جائے۔”

دوسری طرف وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے حسن آباد نالے میں طغیانی سے متاثرہ شیر آباد کا خصوصی دورہ کیا۔ وزیراعلی کے ہمراہ سینئر صوبائی وزیر کرنل (ر) عبید اللہ بیگ، صوبائی وزیر حاجی گلبر خان، صوبائی وزیر راجہ ناصر علی خان، صوبائی وزیر مشتاق حسین، صوبائی وزیر حاجی عبدالحمید، صوبائی وزیر میثم کاظم، پارلیمانی سیکرٹری دلشاد بانو، پارلیمانی سیکرٹری ثریا زمان و دیگر اعلی حکام موجود تھے۔

دورے کے موقع پر وزیراعلی نے متاثرین سے خطاب کیا اور ان کے مسائل سنے۔ وزیراعلی نے متاثرہ مکانات اور منہدم حسن آباد پل کی سائٹ کا بھی معائینہ کیا۔ وزیراعلی نے متاثرین کی امداد کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔ دورے کے موقع پر وزیراعلی خالد خورشید نے اہم اعلانات کئے۔

انہوں نے وعدہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی کے املاک کے نقصانات کا صحیح تخمینہ لگاکر کمپنسیش ادا کیا جائیگا۔ این ایچ اے 6 ماہ کے اندر نیا آرسی سی بریج تعمیر کریگا اور متاثرہ خاندانوں کو عارضی طور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لئے 24 گھنٹوں میں انتظامات کیے جائیں گے۔

دریں اثنا مشیر امور کشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ہے کہ وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ریسک مینجمنٹ فنڈ کے تعاون سے علاقے کی تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے اور رپورٹ میں اس قدرتی آفت کے حوالے سے خطرناک پوائنٹس کی نشاندھی کی جائے۔ انہوں نے عارضی پل کی تعمیر 15دنوں کے اندر جب کہ مستقل پل کی تعمیر چھ مہینے کے اندر کرنے کا حکم دیا۔

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان محی الدین وانی نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گیارہ گھروں کو احتیاط کے طور پر خالی کروایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کی چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ جاری ہے ، متاثرہ علاقے میں خوراک اور تیل کا مکمل سٹاک موجود ہے اور بجلی کے متبادل انتظام کے لیے ڈیزل جنریٹر پہنچا دیے گئے ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے سربراہ باباجان، ضلع ہنزہ کے صدر ظہور الہی اور سابق امیدوار آصف سخی نے کہا ہے کہ حسن آباد کا پل آج ششپر گلیشر پھٹنے کی وجہ سے نقصان کا شکار ہوچکا ہے، جس کے لئے فوری طور پر متبادل پل اور راستے کا بندوبست کیا جائے۔

ریاستی اداروں کو معلوم ہونے اور مختلف ماہرین کی جانب سے ششپر گلیشر کے پھٹنے کا خدشہ ظاہر کرنے اور بی بی سی جیسی عالمی میڈیا میں خبر چلنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ، صوبائی حکومت و دیگر ریاستی اداروں کا ٹس سے مس تک نہیں ہونا ہنزہ کے عوام سے دشمی اور اس خطے کے غیور عوام کو نظر انداز کے مترادف ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ششپر گلیشر کا مسئلہ ایک دن یا ایک سال سے نہیں ہے، یہ کئی سالوں سے جاری ہے جس پر فوری اقدامات نہ آٹھانے سے سی پیک روٹ کو بند کروانا یہی ریاستی اداروں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے منہ پر تمانچہ ہے۔

ان اداروں، حکومت اور انتظامیہ کو چاہئے تھا کہ فوری طور پر کئی سال پہلے ہی اس کا متبادل روڈ اور پل بناتے اور متاثرہ زمینوں کا معاوضہ ادا کر کے انہیں کہیں اور منتقل کرتے لیکن افسوس کہ ہمیشہ کی طرح ریاست پاکستان کے ادارے اور حکومت ہنزہ سے اپنی دشمنی نبھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماؤں نے گلگت بلتستان حکومت ضلعی انتظامیہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے اور تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ششپر گلیشئر کے پھٹنے سے متاثر ہونے والے آس پاس کے لوگوں کی زمینوں جن کی زمینیں اس سیلابے ریلے کے زد میں آئیں ہیں کو معاوضہ ادا کرے اور ان کےلئے متبادل زمین دیا جائے۔

گلگت بلتستان ورکنگ ویمن فورم کے کارکنوں نے بھی متاثرہ گاوں کا دورہ کیا اور نقصانات اور تباہی کی ان الفاظ میں تصویر کشی کی ہے۔ "مقامی لوگوں کی اداسی ، بے بسی اور سب سے بڑھ کر حکومتی اداروں پر عدم اعتماد جو کہ سرکاری دوروں تک اور اعلانات تک ہی دلچسپی دکھائی دیتی ہے۔””

"اس آفت سے بسے بسائے تقریباً نو گھر تباہ ہوئے ہیں۔ زمینوں کو نقصان پہنچا ہے؛ انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہےاور پاور ہاؤس تباہ ہونے سے پورے علاقے میں بجلی کا نظام طویل مدت کے لیے منقطع ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ پانی کا نظام بھی تباہ ہوا ہے۔ اسماعیلی کونسل کی طرف سے کھیتوں میں کچھ ٹینٹ لگائے گئے ہیں۔ جہاں لوگ رہ رہے ہیں؛ لیکن مناسب انتظامات کی ضرورت ہے۔ صرف ٹینٹ کافی نہیں ہیں جہاں چھوٹے بچے، بوڑھے اور عورتیں مشکلات کا شکار ہو سکتیں ہیں۔

"اس کے علاوہ نفسیاتی طور پر متاثرین کی دیکھ بھال اور حوصلہ افزائی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر وزیٹرز، سیاسی جماعتیں اور عہدہ دار اپنے دورے کی مارکیٹنگ کے لیے فوٹو سیشن سے گریز کریں۔ مقامی لوگ حادثاتی طور پر اس کسمپرسی کی حالت میں آئے ہیں ان کی عزت نفس کا خیال رکھیں۔ ان کی بات تحمل سے سنئیے۔ ان کا غصے میں آنا اور گلے کرنا جائز ہے؛ انہیں احساس دلائے کہ وہ محفوظ ہیں اور عوام اور حکومت ان کے ساتھ ہیں۔”

ویمن فورم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جلد از جلد انفراسٹرکچر کو بحال کریں۔ متاثرین کے متبادل رہائش کا بندوبست کریں۔ ان کے نقصانات کا ازالہ کریں۔

انہوں نے مقامی لوگوں اور سول سوسائٹی کی طرف سے اس مطالبہ کی بھی حمائیت کیا گیا کہ سیلابی پانی کا رخ جان بوجھ کر ندی کے ایک طرف منتقل کیا گیا جس سے زیادہ نقصانات ہوئے ہیں، اس کی تحقیقات ہونا چاہئے۔

فورم کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی جس کی خراب کارکردگی اور ناہلی روندو میں زلزلہ اور ہنزہ کی تباہ کاریوں میں عیاں ہوئی ہے، ان کا احتساب ہونا چاہئے اور ذمہ داروں کو کٹہرے میں لانا چاہیے۔ حکومت ان کی کارکردگی کا جائزہ لے اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

مقامی لوگوں کی چاردیواری کی تقدس کا خیال رکھےرضاکاروں کی مدد سے ضروریات اور نقصانات کی نشاندہی کریں اور امداد اور بحالی کابندوبست کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں