114

طالبان کی بیٹیاں بیرون ملک پڑھتی ہیں، فٹبال کھیلتی ہیں

فاروق سلہریا بشکریہ روزنامہ جدوجہد


افغان طالبان نے افغان خواتین پر برقعہ پہننے کی پابندی لگا دی ہے دوسری جانب طالبان کی منافقت ایک مرتبہ پھر عالمی موضوع بنی ہوئی ہے۔ تین روز قبل ایک ویڈیو وائرل ہوا جس میں معروف برطانوی اینکر پرسن پیرز مورگن طالبان کے ترجمان سہیل شاہین سے پوچھتے ہیں کہ کیا ان کی دو بیٹیاں بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہی ہیں تو سہیل شاہین کا جواب تھا وہ حجاب پہنتی ہیں۔

ادھر بھارت کے معروف صحافی پراوین سوامی نے خبر دی ہے کہ سہیل شاہین کی دو بیٹیاں اور تین بیٹے دوحہ میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی ایک بیٹی اسکول کی فٹ بال ٹیم میں بھی کھیلتی ہے۔

اسی طرح ڈپٹی وزیر خارجہ شیر عباس ستنکزئی کی بیٹی دوحہ میں ڈاکٹر بن رہی ہے۔ وزیر صحت قلندر عباد کی بیٹی اسلام آباد میں ڈاکٹر ہیں۔ قلندر عباس خود بھی میڈیکل کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

طالبان کے اساتذہ یعنی ’مجاہدین‘ جو پاکستان میں قائم مہاجر کیمپوں میں لڑکیوں کے اسکول نہیں کھولنے دیتے تھے، ان میں سے بعض کی اپنی بیٹیاں یورپ میں پڑھ رہی تھیں یا رہ رہی ہیں۔ ان مجاہدین کو سی آئی اے اور اختر عبدلرحمن یا حمید گل جیسے جرنیلوں کی سرپرستی حاصل تھی۔ اختر عبدلارحمن اور حمید گل کی اپنی اولادیں بھی ملک اور بیرون ملک بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ حمید گل کی بیٹی نے تو ایک ٹرانسپورٹ کمپنی بھی چلائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں