149

غیر سودی معاشی نظام: ہم اس وقت کیا کرسکتے ہیں؟

ممتاز حسین بشکریہ ڈان نیوز


گزشتہ دنوں وفاقی شرعی عدالت نے بالآخر اس پرانے مقدمے کا فیصلہ سنا دیا جس کا مقصد معیشت سے سود کا خاتمہ تھا۔ چونکہ اسلامی شریعت میں سود کی حرمت پر کوئی اختلاف نہیں اس لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ عدالت نے حکومت کو واضح ہدایت کردی ہے کہ وہ سودی نظام کو غیر سودی نظام سے تبدیل کرے اس لیے اب معاملے کو مزید نہیں ٹالا جاسکتا۔
تاہم یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ اسے ایک عدالتی فیصلے کے ذریعے حل کیا جاسکے۔ عدالت حکم تو دے سکتی ہے لیکن متبادل نظام بنا کر نہیں دے سکتی۔ غالباً مقدمے کے مدعیوں نے عدالت سے کسی متبادل نظام کی نشاندہی کی درخواست بھی نہیں کی تھی۔ فرض یہ کیا گیا ہے کہ متبادل نظام موجود ہے، جس کے نفاذ میں حکومت لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔
ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ سود کا کوئی متبادل نہیں لیکن متبادل کا موجود ہونا اور اس کی بنیاد پر ایک مکمل معاشی ڈھانچہ کھڑا کرنا 2 مختلف چیزیں ہیں۔ سوشلسٹ نظام مارکس اور انجیل کی کتابوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ موجود تھا لیکن اسے کسی ملک پر قابلِ عمل طور پر نافذ کرنے میں کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور آخر میں اس کے ساتھ کیا ہوا، یہ سب جانتے ہیں۔ بالکل اسی طرح اسلامی نظم معیشت کے بنیادی خدوخال اور اصول ہماری کتابوں میں وضاحت کے ساتھ موجود ہیں، لیکن ان کی بنیاد پر ایک ایسا فعال نظام جو فوری طور پر موجودہ نظام کی جگہ لے سکے، موجود نہیں۔
انسانی معاشرہ ہر دم تغیر پذیر رہتا ہے اور اس کے ادارے بھی ساتھ ساتھ ارتقا کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ چند صدیوں کے دوران معاشرتی تغیر کی رفتار بے حد تیز ہوگئی ہے اور قسم قسم کے نئے ادارے وجود میں آگئے ہیں۔ بینک بھی ان اداروں میں سے ایک ہے۔ اس جدید معاشرے (جو ساری دنیا میں پھیلا ہے) کے سارے ادارے ایک دوسرے سے منسلک بلکہ بُری طرح الجھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو تبدیل کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم دیگر اداروں پر بھی اثر انداز نہ ہوں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ادارے راتوں رات وجود میں نہیں آتے بلکہ رفتہ رفتہ تشکیل پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آج کی دنیا میں ایک ملک دوسرے ممالک اور اداروں سے کٹ کر نہیں رہ سکتا۔ جن چند ممالک نے ایسی کوئی کوشش کی ہے ان کی صورتحال بھی ہمارے سامنے ہے۔ موجودہ دور میں اس کی مثال شمالی کوریا کی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں اور عالمی معاشرے کے بہاؤ پر بہتے جائیں۔ ہمیں اپنے مقامی معاشرے کو اپنے مذہب اور ثقافت کے مطابق استوار کرنے کی کوشش کرتے رہنی چاہیے۔ یہ کوشش صرف سیاسی اور قانونی جدوجہد سے ممکن نہیں بلکہ اس کی بنیاد علمی تحقیق ہی بن سکتی ہے۔ ہمیں متبادل نظام کو نہ صرف نظری طور پر ثابت کرنا ہوگا بلکہ اس کے پائلٹ پروجیکٹ بنا کر عملاً نافذ کرکے اسے ٹیسٹ کرنا بھی ضروری ہے۔
مروجہ اسلامی بینکنگ
گزشتہ کافی عرصے سے ‘اسلامک بینکنگ’ کے نام سے ایک متبادل نظام کے خدوخال ابھر رہے ہیں۔ اس کی ابتدا عرب ممالک میں ہوئی۔ یہ نظام کافی تیز رفتاری سے ترقی کر رہا ہے اور عرب ممالک کے علاوہ ترکی اور ملائشیا میں بھی کافی بینک یہ خدمات مہیا کر رہے ہیں۔ اب پاکستان میں بھی اس طریقہ کار کا تجربہ کافی کامیاب جا رہا ہے۔
اسلامی بینکنگ پر علمائے دیوبند کا مؤقف
پاکستان میں اس نظام کو متعارف کرنے اور کامیاب بنانے میں مفتی محمد تقی عثمانی اور ان کے ادارے دارالعلوم کراچی کورنگی کا کردار بنیادی ہے۔ مفتی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے بینکنگ اور معاشیات کے اسلامی پہلوؤں پر کافی تحقیق کی ہے اور وہی بینکوں کو اسلامی امور میں مشاورت فراہم کرتے ہیں۔ بیشتر بینک اپنی خدمات کے لیے انہی کے فتاویٰ پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کی کوششوں سے پاکستان میں اسلامی بینکوں کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس وقت اسلامی بینکوں کے پاس مجموعی بینکنگ سیکٹر کے اثاثوں کا تقریباً 18 فیصد ہے۔ بینکنگ سیکٹر کے اثاثوں اور ڈپازٹس میں اسلامی بینکوں کا حصہ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اندازہ ہے کہ 2025ء تک یہ 30 فیصد تک پہنچ جائیں گے۔ یہ یقیناً بڑی کامیابی ہے۔
لیکن دیگر بہت سے دیوبندی علماء اس نظام کے اسلامی اصولوں پر پورا اترنے کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان کی سربراہی میں پاکستان کے 30 سے زیادہ دیوبندی علماء کا فتویٰ موجود ہے کہ مروجہ اسلامی بینکنگ اپنی حقیقت میں عام سودی بینکنگ سے کسی طور مختلف نہیں۔
ان کا کہنا ہے مروجہ اسلامی بینکوں میں مضاربت اور مشارکت کے اسلامی اصولوں کے مطابق کوئی لین دین نہیں ہوتا بلکہ وہ مرابحہ اور اجارہ کی اصطلاحات استعمال کرکے قرضوں پر متعین شرح سے اضافی رقوم وصول کر رہے ہیں، جو درحقیقت سود ہی ہے۔ ان علماء کے مطابق مزعومہ اسلامی بینک لین دین میں اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کا انتظام کرتے ہیں جو سودی لین دین کی خصوصیت ہے۔ (تفصیل مدرسہ بنوری ٹاون کی ویب سائیٹ پر موجود ہے)۔
جہاں تک دیگر مسالک کا تعلق ہے تو صرف اہلِ حدیث علماء کا ایک متفقہ فتویٰ اس نظام کے خلاف موجود ہے۔
اسلامی بینکوں کی جانب سے پیش کی جانے والی خدمات
پاکستان میں کچھ بینک تو خالصتاً اس نئے نظام کے تحت قائم ہوئے ہیں اور کچھ عام بینک بھی ضمنی طور پر یہ خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ اس نظام کے تحت بینک قرض کے بجائے فنانسنگ کی کچھ دیگر مصنوعات پیش کرتے ہیں جیسے مضاربہ، مشارکہ، لیزنگ اور مرابحہ وغیرہ۔ ان خدمات کا مختصر تعارف کچھ یوں ہے:
مضاربہ
یہ ایسا کاروبار ہے جس میں ایک فریق سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس کے ذریعے کاروبار کرے۔ بینک یہاں پر کاروبار کے لیے قرض دے کر اس پر مقرر شرح سے سود لینے کے بجائے کاروبار کرنے والے کو رقم دے کر اس کے کاروبار میں شریک ہوگا۔ مقررہ وقت پر کاروبار کے نفع نقصان اور اس میں سے بینک کے حصے کا تعین ہوگا۔ کاروبار کا نفع زیادہ ہوگا تو بینک کو بھی زیادہ حصہ ملے گا اور نقصان کی صورت میں بینک بھی نقصان اٹھائے گا۔
مشارکہ
ایسا کاروبار جس میں ایک سے زیادہ فریق سرمایہ فراہم کریں۔ یہ اس صورت میں ہوگا اگر کاروبار کرنے والا کچھ سرمایہ خود لگائے اور کچھ بینک فراہم کرے گا۔ یہاں بھی کاروبار کے منافع کا حساب کرکے اس میں سے دونوں فریقوں کا حصہ ان کے سرمائے کے تناسب سے نکالا جائے گا۔
اجارہ
مثلاً کوئی شخص گاڑی خریدنے کے لیے بینک سے قرض لیتا ہے۔ اجارہ کی صورت میں بینک گاڑی خرید کر گاہک کو دے گا اور وہ گاڑی کی قیمت اور ایک مقررہ کرایہ بینک کو ادا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اصل قیمت ادا نہ ہوجائے۔
مرابحہ
آپ کوئی چیز خریدنے کے لیے فنانسنگ حاصل کرنا چاہیں تو بینک وہ چیز خرید کر آگے آپ کو ایک خاص منافع پر فروخت کرے گا۔ گاہک اصل قیمت اور منافع قسطوں کی صورت میں بینک کو ادا کرتا رہے گا جب تک دونوں ختم نہیں ہو جاتیں۔ اس دوران اگر گاہک کچھ قسطیں نہ دے سکے تو بینک اس سے کچھ اضافی رقم عطیے کے طور پر وصول کرے گا۔ یہ عطیہ بینک فلاحی کاموں میں استعمال کرے گا۔ عملاً بینک جاکر مطلوبہ چیز خود نہیں خریدتا بلکہ گاہک کو اپنی طرف سے مختار کرتا ہے کہ بینک کے نام پر خریدے اور پھر بینک سے اپنے لیے خریدے۔ اس سلسلے میں مختلف قسم کے معاہدے کیے جاتے ہیں۔ ان میں بینک کی طرف سے مرابحہ کا بنیادی معاہدہ، بینک کی طرف سے گاہک کو مختار بنانے کا معاہدہ کہ وہ مطلوبہ چیز بینک کے لیے خریدے اور بینک کی طرف سے مطلوبہ چیز گاہک کو فروخت کرنے کا بیع نامہ شامل ہوتا ہے۔
آج کل اسلامی بینکوں میں فنانسنگ بیشتر مرابحہ اور کسی قدر اجارہ کی صورت میں ہوتی ہے۔ مضاربہ اور مشارکہ کے طریقے شاید ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بینک کسی گاہک پر اعتبار کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہے کہ وہ کاروبار کا دیانتداری سے حساب رکھ کر بینک کو اتنا منافع دے گا کہ اسے خسارہ نہ ہو۔ شاید ہی کوئی نیک نفس انسان ہوگا جو منافع لاکر بینک کو دے۔ اکثریت تو نقصان کا رونا ہی روئے گی۔ خود گاہک بھی اپنے کاروبار کا حساب کتاب بینک کے سامنے رکھنے پر مشکل ہی سے تیار ہوگا۔ یہ مفروضہ نہیں بلکہ اس کا کچھ تجربہ ہوچکا ہے۔
جنرل ضیا کی کوششیں
جنرل ضیا نے اسلامائزیشن کی جو کوششیں کی تھیں ان میں ایک کوشش بینکنگ کو اسلامی بنانے کی بھی تھی۔ اس کے تحت بینک سے لفظ interest کو profit سے تبدیل کیا گیا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ بینکوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ڈپازٹ رکھنے والوں کو ایک مخصوص شرح سے سود ادا کرنے کے بجائے اپنے نفع نقصان میں شریک کریں۔ تب سے بینک اپنا سالانہ حساب کتاب کرکے جو منافع آتا ہے اس کا ایک حصہ ڈپازٹ رکھنے والوں کو دیتے ہیں۔ ڈپازٹ سائیڈ پر بینکوں سے سود کا خاتمہ ہوچکا ہے، لیکن مسئلہ فنانسنگ یعنی قرض دینے کا ہے۔ اس کے لیے بھی اس وقت گنجائش رکھی گئی تھی کہ قرض لینے والا اگر چاہے تو نفع نقصان کی شراکت کی بنیاد پر یہ سہولت حاصل کر سکتا ہے۔
میری پہلی ملازمت ایک سرکاری مالیاتی ادارے میں تھی جو چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کی فنانسنگ کرتی تھی۔ چونکہ اس زمانے میں اسلامائزیشن کا بڑا شہرہ تھا اس لیے ہماری ٹریننگ میں غیر سودی فنانسنگ پر کافی توجہ دی گئی۔ جب عملی طور پر ہمارا سامنا گاہکوں سے ہوا تو معلوم ہوا کہ ان میں بھی اسلامی طریقے سے قرض لینے کی خواہش بہت ہے۔ تقریباً ہر گاہک کی پہلی ڈیمانڈ یہ ہوتی تھی کہ اسے غیر سودی قرض ملے، لیکن جب اسے بتایا جاتا کہ اسے کاروبار کا باقاعدہ اکاؤنٹ رکھنا پڑے گا جس کا ہم ششماہی آڈٹ کریں گے اور اپنی فنانسنگ کے تناسب سے منافع میں سے حصہ لیں گے، تو ان کے جذبے پر اوس پڑ جاتی اور کہتے کہ پرانے طریقے پر ہی قرض دے دیں۔
میں نے 4 سال اس ادارے میں گزارے اور کسی ایک گاہک کو بھی نفع نقصان میں شراکت پر راضی ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر گاہک اس پر راضی ہو بھی جاتے تو قرض دینے والے ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ ہزاروں گاہکوں کے کاروبار کا آڈٹ کرے، ان کا تفصیلی حساب کتاب رکھے اور ہر ایک کے منافع کا تعین کرکے اپنا حصہ نکالے۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کا مؤقف
میکگل یونیورسٹی کے اسکالر ڈاکٹر فضل الرحمٰن کو ایوب خان نے پاکستان بلایا تھا تاکہ مذہبی معاملات میں ان سے استفادہ کریں۔ تاہم وہ اپنے کچھ خیالات کی وجہ سے تنقید کی زد میں رہے اور واپس چلے گئے۔
دیگر مسائل کی طرح انہوں نے سود اور بینکنگ پر بھی کافی کام کیا تھا۔ ایک تو وہ بینکوں کی طرف سے قرضوں پر لیے جانے والی اضافی رقم کو حقیقی معنوں میں سود نہیں سمجھتے تھے۔ تاہم وہ سمجھتے تھے کہ اس کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ قرضوں پر لیا جانے والا سود یکدم ختم نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اسے بتدریج کم کرکے صفر تک لایا جاسکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ معیشت کو ترقی دینے سے سرمائے کی طلب کم ہوتی جائے گی اور ایک وقت آئے گا کہ ملک میں اتنا سرمایہ موجود ہوگا جو قرض لینے والوں کی ضرورت سے زیادہ ہوگا۔ ایسی صورت میں لوگ اپنے سرمایے کی حفاظت کے لیے اسے بغیر منافع کے بینک میں رکھیں گے اور بینک بغیر منافع کے لوگوں کو قرض دیں گے۔ ایسی معیشت میں بغیر سود قرض دینے والے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ کرنسی کی ویلیو وقت گزرنے کے ساتھ کم نہیں ہوگی۔
ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی رائے میں ایک ترقی پذیر ملک میں جہاں سرمائے کی شدید قلت ہوتی ہے اور کرنسی کی قدر گھٹتی جاتی ہے وہاں بلا سود کے قرض دینا ممکن ہی نہیں ہوگا۔
مولانا مودودی کا مؤقف
سود کی حرمت اور اس سے پاک معیشت پر مولانا مودودی نے گہرا تدبر کیا ہے۔ چونکہ ان کا نقطہ نظر کلّی(Holistic) ہے اس لیے وہ ملک کے معاشی اور سیاسی نظام کو مکمل اسلامی اصولوں پر استوار کیے بغیر سود کے خاتمے کو ممکن نہیں سمجھتے۔ وہ بینکنگ کے متبادل کے طور پر مضاربہ، مشارکہ جیسے طریقوں کا ذکر تو کرتے ہیں لیکن ان کا اصل مطمح نظر ایک ایسا فلاحی معاشرہ ہے جہاں اوّل تو کسی کو قرض کی ضرورت ہی نہ پڑے اور اگر پڑے تو حکومت اور معاشرے کی طرف سے اسے بلا سود قرض آسانی سے دستیاب ہو۔ وہ بینکوں کا جو نظام تجویز کرتے ہیں اس میں نہ تو قرضوں پر کسی بھی نام سے اضافی رقم لینے کی گنجائش ہے اور نہ بینک میں رکھے گئے ڈپازٹس پر بینک کوئی منافع دے سکیں گے۔
وہ تجویز کرتے ہیں کہ لوگ اپنی بچتیں رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کریں یا ضروت مندوں کو قرض حسنہ دیں۔ بینکوں میں وہ رکھیں گے تو صرف حفاظت کے لیے۔ جب لوگ بینکوں سے ڈپازٹس پر منافع نہیں لیں گے تو بینک بھی ضرورت مندوں کو قرض حسنہ دے سکیں گے۔ تاہم جو لوگ بینکوں کے ذریعے منافع حاصل کرنا چاہیں وہ اپنا سرمایہ بینکوں کے ذریعے کسی کاروبار میں شرکت کی بنیاد پر لگائیں گے اور اس کاروبار کے منافع میں شریک ہوں گے۔
مولانا مودودی سود کو سرمائے کے ارتکاز کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جاتا ہے۔ وہ سرمائے کی فراہمی کے ہر اس طریقے کو سود سمجھتے ہیں جس میں ایک فریق کا منافع متعین ہو۔ چنانچہ مروجہ اسلامی بینکنگ کا ان کے اصولوں پر پورا اترنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ ان کا مؤقف اس معاملے میں کسی بھی دوسرے عالم سے سخت ہے اور وہ کسی بھی حیلے یا تاویل کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
ہمارے پاس اس وقت کیا آپشنز ہیں؟
جہاں تک ڈاکٹر فضل الرحمٰن کی تجویز کا تعلق ہے تو اس کے مطابق سود کا خاتمہ معیشت کی بہتری پر منحصر ہے۔ چونکہ ہمارے ہاں فوری طور پر معیشت میں کوئی انقلابی بہتری کے امکانات نظر نہیں آتے اس لیے ان کی تجاویز ناقابلِ غور ہیں۔
مولانا مودودی بھی پوری معیشت بلکہ معاشرت اور سیاست کو از سرِ نو ترتیب دے کر سود کے خاتمے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا قول مشہور ہے کہ ’میں داغ دوزی (patchwork) پر نہیں بلکہ کلی تعمیر پر یقین رکھتا ہوں‘۔ ان کے تجویز کردہ نظامِ معیشت کو نافذ کرنے کے لیے نہ صرف صالح قیادت بلکہ صالح عوام کی بھی ضرورت ہے۔ یعنی ایسے لوگ جو نفع اندوزی کے بجائے نفع رسانی پر یقین رکھتے ہوں۔ ظاہر ہے ایسے معاشرے اور ایسی قیادت کے جلد یا بدیر دستیاب ہونے کے امکانات اتنے روشن نہیں۔
ان حالات میں لے دے کے مروجہ اسلامی بینکنگ ہی رہتی ہے جسے مفتی محمد تقی عثمانی کی تائید حاصل ہے۔ حکومت بینکنگ کے پورے موجودہ نظام کو مروجہ اسلامی بینکنگ سے تبدیل کرسکتی ہے۔ اس طرح عدالت کی منشا پوری ہوجائے گی۔ اگر اس پر کسی کو اعتراض ہے (اور بہت سے علماء کو ہے) تو ان کو چاہیے کہ وہ اس پر تحقیق کرکے متبادل نظام وضع کریں اور اس کی بنیاد پر ایک بینک قائم کرکے دیکھا جائے کہ آیا یہ قابلِ عمل ہے بھی یا نہیں۔ موجودہ حالات میں فوری طور پر ممکن العمل یہی ایک طریقہ ہے جس پر علمی اور عملی کام ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں