188

نظام بے نقاب ہوچکا ہے

عنایت بیگ


اس سرمایہ دارانہ طرز حکومت میں تمام سیاسی جماعتیں ملکی معیشت کی خستہ حالی کا حل نوے فیصد غریب عوام کو مزید مہنگائی سے گزارنے میں تلاش رہی ہیں۔ سرمایہ دارانہ معیشت دان بھی مہنگائی کو ہی نظام کو بچانے کا حل سمجھتی ہیں۔

مسلہ یہ ہے کہ ہر حکومت نے کھربوں پتی صنعت کاروں کو اربوں کی ایمنسٹی سکیموں سے ہمیشہ نوازا ہے۔ بالادست طبقے کو ٹیکس میں بڑی چھوٹ حاصل ہے۔ اگر دس فیصد سرمایہ دار طبقے سے جائز ٹیکس ہی وصول کیا جائے تو اس بحران میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔

ملکی خزانے کے ایک بڑے حصے کو کرپشن کی نذر کیا گیا ہے، اگر کرپشن کے پیسے کی واپسی ہو تو نہ صرف یہ بحران ختم ہو سکتا ہے، بلکہ ملک مزید معاشی بہتری کی طرف سفر کر سکتا ہے۔ عمران خان نے اسی نعرے پر عوام کو امید دلائی تھی، مگر اس کے اپنے دور حکومت میں کرپشن، ایمنسٹی سکیموں اور اقربا پروری کی نئی مثالیں قائم ہو گئیں۔

اتحادی حکومت نے اس نئے بحران سے نجات کو نعرہ بنایا اور اقتدار میں آتے ہی مفلوک الحال عوام کی مفلوک الحالی کو مزید بڑھا دیا۔

اس تمام بحران کا حل چہرے بدلنے سے زیادہ نظام بدلنے پر ہے۔ مگر یہی نعرہ اسٹبلشمنٹ کا بھی ہے، کیونکہ وہ اس نظام کے متبادل ایک صدارتی نظام دیکھ رہے ہیں، مگر اس نظام میں سرمایہ پرست بالادست طبقے کی اجارہ داری اور زیادہ مضبوط ہوگی۔

فی الحال حل صرف ایک مضبوط اشتراکی جمہوریہ کے قیام کے لئے از سر نو جدوجہد کرنے پر ہے۔ سوشلزم ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس بے لگام اور خون ریز سرمایہ داری کی اجارہ داری کو ختم کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان، پاکستان میں موجود محکوم قومیتیں اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر و گلگت بلتستان میں بھی محنت کش طبقے کو حقیقی آزادی میسر ہو سکتی ہے۔

!سوشلزم یا بربریت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں