206

خان صاحب کی خوش فہمیاں

محمد خان ابڑو بشکریہ روزنامہ جنگ


امریکہ نے عمران خان حکومت کے خلاف سازش کر کے اسے گھر بھیج دیا۔ اس نے شروع دن سے عمران خان کو کام نہیں کرنے دیا۔ان کی حکومت بننے کے بعد ترقی کی شرح منفی ہوگئی جس میں امریکہ کا مرکزی کردار تھا۔ 2018کے انتخابات میں دوسری جماعتوں کے امیدواروں کیخلاف کھڑے ہونے والے پی ٹی آئی امیدواروں کو شکست دینے کیلئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگاتا رہا مگر وہ ناکام ہوگیا کیونکہ بقول عمران خان ان کوکامیاب کرانے کیلئے امریکہ مخالف قوتیں اس بات پر متفق تھیں کہ پاکستان میں امریکہ مخالف حکومت کا قیام ضروری ہے تاکہ خطے میں طالبان اور انکے حامیوں کی حکومتیں قائم کی جاسکیں، مزید یہ کہ وہ امریکی سازش کا شکار ہونے والے پہلے رہنما نہیں ، اس سے پہلے بھی پاکستان میں بہت سے رہنما امریکی سازش کا شکارہوئے ،کسی نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام دیا تھا، کسی نے میزائل ٹیکنالوجی، کسی نے ایٹمی دھماکے کئےتھے۔ جوامریکہ کو ناگوار گزرے اور اس نے پاکستان کے اس وقت کے وزرائے اعظم کو سازش کے ذریعے فارغ کروادیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ عمران خان نے ایسا کیا کیا کہ امریکہ کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ محسوس ہوا ؟ عمران خان نے افغانستان سے جانے والے امریکی فوجیوں کو انخلا کے وقت اسلام آباد ائیرپورٹ فراہم کیا، امریکی فوجیوں کیلئے اسلام آباد اور کراچی کے تمام بڑے ہوٹل خالی کروا ئے تاکہ وہ کابل سے واپس امریکہ جاتے وقت اسلام آباد اور کراچی میں کچھ راتیں سکون کی نیند سو سکیں، پھر بھی ہمارے خان کیخلاف امریکہ سازش کرنے سے باز نہ آیا۔ ہمارے خان صاحب کا قصور سمجھ میں نہیں آتا کہ امریکہ نے ان کے خلاف سازش کیوں کی ؟ خان صاحب کو سازش کے ذریعے اقتدار سے نکال کر امریکہ کو کیا ملا ؟ اس نے عمران خان کے خلاف اتنی بڑی سازش کر کے اپنے کون سے مفادات کاتحفظ کیا ؟ کیونکہ ہمارے خان صاحب نے تو پاک چین راہداری پر حکومت میں آنے کے بعد جاری کام بھی بند کروادیا تھا،چینی سرمایہ کاری کے حامل منصوبوںپر مزید کام کرنے سے بھی انکار کردیا تھا، اسٹیل ملز میں جب چینی اور روسی سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کی تو اس کی بھی مخالفت کی، تو پھر خان صاحب کو کیوں نکال دیا گیا ؟ خان صاحب نے معیشت کو 6فیصد سے منفی تک پہنچا کر ہمیں آئی ایم ایف اور امریکہ کا دست نگر بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تاکہ ہم ہمیشہ ان کے محتاج رہیں، بجلی کا مصنوعی بحران پیدا کر کے اداروں کو بند کروانے میں بھی انہوں نے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا، پھر بھی ان کے خلاف امریکہ نے سازش کی ؟ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں 500فیصد اضافہ کیا، انہوں نے حکومت میں آنے سےپہلے 50 لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کیا تھا اس پر بھی عمل درآمد نہیںکیا، ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ پورا نہیں کیا ، ادویات ساز کمپنیوں کو قیمتوں میں 700 فیصد سے زائد اضافے کی اجازت دی، کورونا فنڈمیں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی،مہنگائی کی شرح 18 فیصد تک ہمارے خان صاحب نے کی، جس جس طرح شہریوں پر مہنگائی کو مسلط کیا جاسکتا تھا ہر وہ کام انہوں نے کیا، لیکن اس کے باوجود بقول ان کےامریکہ نے وفا نہ کی اور ان کی بے پناہ خدمات کے باوجود ان کی حکومت کو سازش کر کے ہٹا دیا۔ ثابت ہوگیا کہ امریکہ نے خان صاحب کی خدمات کا اعتراف نہیں کیا۔ چار سال خان ہر وہ کام کرتا رہا جس سے امریکہ کی خوشنودی حاصل ہوسکے اور بدلے میں ہمیں کیا ملا ؟ خان صاحب کی حکومت سے پہلے گھی 230 روپےفی کلوتھا جو بعدازاں530روپے فی کلو ہوگیا، آٹا ہو دالیں ہوں سب کی قیمت میں 600 فیصد اضافہ کیا گیا، 55روپے فی کلو والی چینی 130 روپے میں بھی دستیاب نہیں تھی۔اب تو دعا یہ ہےکہ ہر کام پاکستان کے حق میں ہو، عمران خان نے جتنے بیرونی قرضے لئے ، اتنے 75سالہ تاریخ میں نہیں لئے گئے۔ آنے والی حکومتوں کو اب یہ قرضے اور ان پر سود واپس کرنا ہے جبکہ ان قرضوں سے خان صاحب کی حکومت نے نہ کوئی سڑک بنائی نہ کوئی اہم عوامی منصوبہ تو پھر یہ اربوں ڈالر کاقرضہ کیوں لیا گیا اور یہ رقم کہاں گئی؟خان صاحب کےان بیانات کو ہم’’خان صاحب کی خوش فہمیاں ہی کہہ سکتے ہیں‘‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں