احسان جان چلے گئے

ذولفقار احمد زولفی


احسان الحق جان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے ان کے چاہنے والے گزشتہ دو دن سے جب سے امریکہ میں ان کی ناگہانی موت کی خبر علاقے میں پہنچی ہے، اپنے اپنے تجربات کی بنیاد پر اظہار رائے کر رہے ہیں۔ ان کے چاہنے والے تو دنیا بھر میں موجود ہیں۔ آج سوشل میڈیا پر ان کے کئی دوستوں نے جن کا تعلق دنیا کے دوسرے ملکوں سے ہے ان کی زندگی پر روشنی ڈالی اور انکو بہترین الفاظ سے یاد کیے۔ جان لال کے بہترین درجات کے لئے ہم سب دعا گو ہیں اور اس مشکل گھڑی میں پورے خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔
جان لال سے ہماری شناسائی اس وقت سے ہے جب وہ پشاور میں بی ایس سی کررہے تھے۔ بونی کے معراج الدین اور احسان جان ہم جماعت تھے۔ اور ہم سکول میں ہوتے تھے۔ اس زمانے میں علاقے میں گنے چنے چند لوگ ہی اعلی تعلیم یافتہ تھے خصوصاً سائنسی مضامین کو پڑھانے والے لوگ خال خال ملتے تھے۔ ایسے حالات میں یہ دو نوجوان احسان الحق جان اور معراج الدین چھٹیوں میں گھر آتے اور اس وقت سائنس اسٹوڈنٹس کے لئے فری ٹیوشن سنٹر کا اہتمام کرتے۔ جس سے سینکڑوں طلباء و طالبات مستفید ہوئے۔ یہی نہیں ان دونوں کے گھروں میں بھی سکول اور کالج کے اسٹوڈنٹس پڑھائی کے لئے آ یا کرتے تھے۔
الکریم ویلفیئر سوسائٹی کا قیام بھی احسان جان کے سر جاتا ہے۔ وہ جب تک زندہ رہے اسی سوسائٹی کے سرپرست اعلیٰ چیف پیٹریین رہے۔ آپ جب تک پاکستان میں تھے تو سوسائٹی ایک انتہائی فعال طریقے سے کام کرتی رہی۔ اس سوسائٹی کے بہت سے کاموں میں الکریم کمپیوٹر لٹریسی سنٹر کا قیام ہے۔ آپ نے اس علاقے میں آج سے تقریباً 30 سال پہلے کمپیوٹر ایجوکیشن کی بنیاد رکھ لی۔ یہ سنٹر آج بھی ایڈوانس کمپیوٹر ٹریننگ مہیا کرتاہے۔
احسان الحق جان ایک بہترین پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی تھے۔ مشکل سے مشکل وقت میں ان کے چہرے کی مسکراہٹ کبھی ماند نہیں پڑی۔ اپنی قابلیت اور بہترین صلاحیتوں کے بل بوتے پر آپ نے اقوامِ متحدہ جیسے ادارے میں اپنا لوہا منوایا اور انتہائی مشکل ممالک میں خدمات انجام دی۔ آ غاخان رورل سپورٹ پروگرام میں کچھ عرصہ خدمات انجام دینے کے بعد آپ نے اقوامِ متحدہ جوائن کیا۔ گزشتہ کئی سالوں سے بال بچوں کے ہمراہ امریکہ میں مقیم تھے۔
موسیقی، کھیلوں اور دوسری صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دینا ان کا جنون تھا۔ پاکستان میں قیام کے دوران آپ پولو بھی کھیلا کرتا تھا۔ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے آپ نے ایک اور تنظیم کی بنیاد رکھنے میں مدد کی۔ یہ تنظیم سپورٹس اینڈ میوزیکل ہیریٹیج ایسوسی ایشن کے نام سے ہے۔
کامیابیوں اور کامرانیوں کا یہ سفر گزشتہ دنوں اس وقت اختتام پایا جب آپ امریکہ میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
احسان لال کی ناگہانی موت پورے علاقے کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ ان کے دل میں پوری انسانیت کے لئے ایک درد تھا۔ ان کے لواحقین سے قوی امید ہے کہ آ پ کی میراث کو جاری رکھیں گے۔ یہی کام اُن کی روح کو سب سے زیادہ سکون دے گا۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائےگا سَر، گر ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ’جاؤں؟‘
مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو ’قیامت کو ملیں گے‘
کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

غالبؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں