History 145

ارنستو چےگویرا حقائق اور افسانہ


تحریر: ڈاکٹر صولت ناگی


چند روز قبل وجاہت مسعود کی چے گویرا پر کوئی تحریر سامنے آئی تھی اس پر کافی تنازعہ کھڑا ہو۔ اس کے جواب میں ڈاکٹر صولت ناگی نے انگریزی میں ایک مضمون لکھا، جس کا اردو ترجمہ خالد محمود نے کیا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

اینتونی نے سیزر کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر رومیوں سے کہا تھا ”اے  حکمت فیصلہ تم وحشی درندے کے پاس بھاگ گئی ہے  اور آدمی اپنی عقل کھو چکے ہیں“۔۔۔  تاہم بروٹس نے اسے تسلی دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا،”میں سیزر سے محبت نہیں کرتا تھا  لیکن  مجھے  روم سے زیادہ محبت تھی“۔  بروٹس نے جو کیا وہ شعوری عمل تھا نہ کہ پاگل پن۔ حتیٰ کہ پاگل پن کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، اور بورژوا  میڈیا اپنے طبقے کی خدمت میں اس کا استعمال بڑی مہارت سے،جھوٹ پھیلا کر،مسلسل تلقین سے لوگوں کے اذہان کی آبیاری کر کے،ان میں صدمے اور خوف  سے بے یقینی پیدا کر کے ایک متبادل حقیقت کو پیش کرتا ہے بھلے وہ کتنی ہی غیر منطقی کیوں نہ ہو۔  روس کو سامراجی طاقت قرار دینے سے لے کر،اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کے اصرار سے لے کر،فلسطینیوں کی جنگِ آزادی کو دہشت گردی قرار دینے تک،یہ منتر اپنی پوری طاقت سے  پھونکا جا رہا ہے۔مارک ٹوین نے طنزیہ انداز میں بورژوازی کو مشورہ دیا تھا کہ،”کہ پہلے حقائق حاصل کریں اور بعد میں انہیں مسخ کریں“۔

 فحاشی ایک اصطلاح ہے جو حکمران طبقے کی طرف سے اس کے ذاتی کردار اور اصولوں  پر نہیں بلکہ اپنے مخالفین کے اعمال پر لاگو ہوتی ہے۔ وہ عورت فحش نہیں ہے جس  کی ناف کے نیچے بال نظر آئیں بلکہ فحش وہ جرنیل ہے جو جنگ میں جیتنے والے تمغے پہن کر  عوام میں دکھائے، شہوت انگیز اشارے کنائے فحاشی نہیں، بلکہ تاریخ کو مسخ کرنا بدترین فحاشی ہے۔

 یہ مغربی میڈیا کا خاصہ ہے؛ گوئبلز اور آرویل کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اس خصلت کو اب مختلف ممالک میں،ان کے وفادار بونوں اپنایا ہوا ہے۔

 گرامچی کا کہنا ہے کہ ہر طبقہ اپنے دانشور وں کی تخلیق کرتا ہے  جو نہ صرف اپنے طبقے کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ مشکل اوقات میں اس طبقے کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ایک کمزور پاکستانی بورژوازی، اپنے نامیاتی دانشوروں کو  پیدا کرنے سے معذور ہے۔  حالانکہ اس نے شیطان کے کئی  وکیل پیدا کئے ہیں جو کبھی نوسر بازوں  اور مداریوں کی طرح اور کبھی سلالوں  یا  وفادار پوڈلز کی طرح  سے اس کی ننگی وحشت پر پردہ ڈالنے کے لئے دادرا تال میں اچھلتے کودتے ہیں۔

 ہم اکثر سٹالن کی دہشت گردی، ماؤ کے لگاتار تشدد اور کمیونسٹوں کے ہاتھوں بے شمار  ہلاکتوں اور قتل عام پر،بنا کسی مستند حوالے کے  ڈھول پیٹنے کی آوازیں سنتے ہیں جو ان ممالک  میں رہنے والے لوگوں کی کل تعداد سے کہیں زیادہ ہے جہاں خون کی ہولی کھیلی گئی تھی۔ 

 اندھی نفرت  سے ان کے ذہنوں میں بسی پسندیدہ تخیلاتی شخصیات کو  زہریلے طریقے سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک ایسے شخص کی یک رُخی سوچ پیش کرتا ہے جو مغرب کی ہر طرف پھیلی وسیع بربریت کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے۔  عراق سے لیبیا تک، ویت نام سے چلی تک،اس کی فکر کے پلّے کچھ نہیں پڑتا ہے۔کیونکہ آسکر وائلڈ کے بقول نفرت کمزوری اور سوکھے پن کی شکل ہے۔فینن نے مزید کہا تھا:  کہ اپنے تسلیم شدہ جرم کے احساس کی  گرہیں چھپانے کے لئے،  نفرت  ایجاد کرنی پڑتی ہے اور نفرت کو  ایک وجود دینا پڑتا ہے۔جو نفرت کرتا ہے اُس پر اپنے اعمال اور رویے سے نفرت  چھلکانا لازم ہے۔اُسے بذاتِ خود ایک ِ نفرت کے پیکر میں ڈھلنا پڑتا ہے۔

 نفرت اور محبت سماجی جذبے ہیں جو من و سلویٰ کی طرح آسمان سے نہیں  اتارے جاتے ہیں،یہ معاشرتی حالات کی پیداوار ہیں۔   بلا مقصد کوئی بھی نفرت نہیں کرتا ہے۔  نازیوں کی یہودیوں کے خلاف نفرت،  پہلے سے طے شدہ منظم  سماجی جذبہ تھا۔  حکمران طبقہ انقلابی بحران سے بچنے کے لئے سرمایہ دارانہ  طوائف الملوکی  کے دوران،  اپنی پیٹی بورژوازی کے ایک طبقے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔  سرمایہ داری کے پاس کوئی مفت لنچ اورخیر سگالی کا کوئی مفت جذبہ نہیں  ہوتا؛ یہ ہمیشہ اپنے آپ کو  پیٹی بورژوازی کے نامرد طبقے سے جوڑتا ہے۔  جسے اس کے دماغ میں پیوست  فاشسٹ سنگ ریزوں کی تسکین کے لئے  تیار کیا جاتا ہے۔ اس کے ممبران  اس کے گھناؤنے جرائم کے دھوبی بن جاتے ہیں۔

 چرچل سے ہٹلر تک انصاف  بورژوازی دھوکہ بازوں کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔  چرچل جو ایک نسل پرست وزیرِ اعظم تھا جس نے بنگال میں مصنوعی قحط پیدا کرنے میں کلیدی اور مرکزی کردار ادا کیا تھا، وہ گاندھی کی موت کا بھی منتظر تھا۔  اور ہٹلر جسے روزویلٹ کی پشت پناہی حاصل تھی، اسے جرمن قوم کی منصفانہ آباد کاری کے لئے لیبن سرام کی ضرورت تھی۔دونوں نے دنیا کو دوسری جنگِ عظیم میں دھکیل دیا تھا۔  مارکس کے نزدیک انصاف کسی  معاشرے  کے معاشی ڈھانچے سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اور مغربی انصاف نے  ابوغریب،گوانتانامو بے جیل میں اپنی رُوبنائی کی ہے۔  اور  جولین اسانج جیسے ضمیر کے قیدی کو بیلمارش جیل میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتاہے۔

چے گوارا کا ہندوستان آمد پر استقبال کیا جا رہا ہے۔

 دنیا کو بدلنے  والے خیالات بورژوازی کا  پسندیدہ موضوع ہے، وہ ایک میکانکی قوت بن سکتے  ہیں مگر یہ آتے کہاں سے ہیں؟ انسان پیداوار کے ذرائع سے نئے خیالات کا پتہ لگاتا ہے نہ کہ اس کے برعکس۔قرون وسطیٰ کا دور اپنے حکماء  کے انقلابی نظریات کے پیدا کرنے کے باوجود  اپنے وحشیوں  کی تعداد کم نہیں کر سکا کیونکہ وہ پیدواری ذرائع کو تبدیل  کرنے پر قادر نہ تھے۔  ”نیولبرل ازم“   نے ”ایتھنا“ کی طرح زیوس کے سر سے جنم نہیں لیا تھا۔حکمرانی کے نظریات،معروضی  زمینی حقائق کے ساتھ ساتھ  تاریخی حالات کی پیداوار تھے۔  1970 کی دہائی کا محنت کش طبقہ طاقتور ہو گیا تھا جو کام کے اوقات کم کرنے، اجرت بڑھانے، کام کے حالات کو بہتر بنانے  اور ایک انسانی معاشرے کی تعمیر کے لئے بے چین تھا۔ تھیچر اور کلنٹن دونوں نے کارکنوں پر حملے شروع کر دیے تھے۔ تھیچر نے فاک لینڈ  کا  جنگجو لباس زیب تن کیا اور  برطانیہ کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین کو ختم کرنے کے لئے گھر پر مزدوروں کے خلاف  جنگ چھیڑ دی تھی۔

 کرسٹوفرمارلوکے  ”فاسٹس“ نے  ایک شہوت انگیز اورعیش پرست وجدانی زندگی کے لئے لوسیفر کو اپنی روح بیچ ڈالی تھی۔ سرمایہ داری جدید دور کا ”لوسیفر“ ہے جس کی خدمت میں کئی فاسٹس موجود ہیں۔ یہ انسانی محنت کو تجارتی جنس میں تبدیل کرتے ہیں، بیگانگی  کے اسیر انسانی جسم میں  جب خیالات کے خلاف ایک مصنوعی قوتِ مدافعت پیدا کر دی جاتی ہے تواُسے ایک خودکار مشین کی طرح پرزہ بنا دیا جاتا ہے۔ اس طرز کی پیروی میں ذہن ایک دھوبی بن جاتا ہے۔ 

حال ہی میں افتادگانِ خاک کا سورما چے گویرا،شیطانی غرور اوربورژوازوں کے خوفناک دھوکہ بازوں کی تاریک مایوسی کا شکار ہوا ہے۔ اُس کی زندگی کے آخری چند  لمحات کو متنازعہ بنا کر،بہادر جنگجو کو بزدل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

 نطشے نے کہا تھا،”ہمیں تاریخ کی ضرورت ہے مگر اس طرح نہیں  جس طرح علم کے باغ میں ایک بگڑے ہوئے کاہل کو اس کی ضرورت ہے۔ 

ریکارڈ کی درستگی کے لئے جان لی اینڈرسن کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جو چے گویرا کا  سب سے مستند سوانح نگار ہے۔  نیویارک ٹائمز کے بک ریویو نے چے پر اینڈرسن کی صداقت کی توثیق  کرتے ہوئے کہا تھا، ”بہت اچھا۔۔۔۔چے کے کردار کو افسانہ سے الگ کرنے میں اینڈرسن  نے مہارت سے کام کیا ہے۔اینڈرسن نے بہترین قابل تحسین دیانت داری اور حیران کن تحقیق سے کام لیا تھا۔ لاس اینجلس ٹائمز نے مزید لکھا،”کہ اس بات کا کوئی  امکان نہیں کہ اینڈرسن کا مطالعہ کئیے بغیر چے گویرا کے بارے میں اچھی جانکاری ملے گی“۔

 اینڈرسن لکھتا ہے،”ارنستو چے گویرا  بیسویں صدی کا سب سے بڑا انقلابی شہید تھا۔ وہ اپنی زندگی میں ہی ایک افسانہ بن چکا  تھا۔  وہ ایک  انقلابی جنگجو، فوجی حکمت ساز، ایک ماہرِ اقتصادیات، ایک ڈاکٹر اور فیڈل کاسترو کا قابلِ اعتماد دوست تھا۔ چے گویرا کا خواب ایک  جنگی خواب تھا۔ مسلح انقلاب کے ذریعے لاطینی امریکہ اور باقی ترقی پذیر ممالک کو متحد کرنا،اور تمام غربت، ناانصافی اور جھوٹی قوم پرستی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا تھا جس نے صدیوں سے انسانوں کا خون بہایا تھا۔ آخر میں گو کہ چے اپنی تلاش میں ناکام رہا مگر وہ لاکھوں میں سے ایک ایسی شخصیت کے طور پہچانا جاتا ہے اگر وہ بچ نکلتا تو وہی اسے کر پاتا۔

 اسے کیوبراڈا ڈیل یورو میں متعدد ذخمیوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا جسے فوجیوں نے گھیر لیا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا،”گولی نہ چلانا،میں چے گویرا ہوں اور تمہارے لئے میری زندہ حیثیت مردہ سے زیادہ ہے“۔ یہ جاننا مشکل ہے کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا لیکن یقیناً موت نہیں تھی۔ وہ میدانِ جنگ میں تھا اور میدانِ جنگ اور موت مترادف ہیں۔ شاید اس نے کسی جنگی ٹرائل کا سوچا ہو جس میں اس کے لئے انقلاب کو فروغ دینے کا موقع بھی ہو سکتا تھا۔ وہ ایک پیکرِ انقلاب تھا جو  اپنی تقریروں سے لاکھوں لوگوں کے سینوں میں انقلاب کے دہکتے شعلوں کو بھڑکا سکتا تھا جوگراوٹ کے خلاف نبرد آزما تھے۔ 

 جب سارجنٹ جیمی ٹیران چے کو قتل کرنے گیا تو اس نے اسے دیوار کے سہارے کھڑا پایا۔چے نے اُسے انتظار کرنے کو کہا تاکہ وہ ٹھیک سے کھڑا ہو سکے۔ ٹیران خوفزدہ ہوکے بھاگ گیا اور کرنل سیلیچ اور کرنل زینٹینو نے اسے واپس جانے کا حکم دیا تھا۔ ٹیران کانپتا ہوا واپس آیا اور چے  کے چہرے کی طرف دیکھے بغیر اس کے سینے اور پہلو پر گولی چلا دی۔ چے نے ٹیران سے جو آخری الفاظ بولے تھے وہ یہ تھے،”مجھے پتہ ہے کہ تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ چلاؤ گولی تم صرف ایک آدمی کو مارنے آئے ہو۔ ٹیران نے چے کے بازؤں،ٹانگوں اور سینے میں گولیاں مار دی تھیں۔چے کے پھیپھڑے خون سے بھر گئے تھے(اینڈرسن796)۔

 یہ ایک ماورائے عدالت قتل تھا جو اگر کسی سوشلسٹ ریاست کے ہاتھوں ہوا ہوتا تو بورژوازی معذرت خواہ اسے انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے چیخ رہے ہوتے، جو کہ ان کی فحش آزادی کا ایک اور ننگا ناچ ہوتا۔ 

نطشے نے بڑے اختصار سے کہا تھا کہ، "وہ جو اپنے اندر کا شیطان باہر نکالنے کی جستجو میں تھے وہ خود سوروں میں داخل ہو گئے تھے۔

فرانسیسی دانشور ژاں پال سارتر کے نزدیک چے ہمارے دور کا سب سے کامل انسان تھا۔ فیدل کاسترو نے کہا تھا کہ ہم اپنے بچوں کو چے گویرا بنانا چاہتے ہیں۔ دنیا بھر کے بلند پایہ لوگ یک زبان ہو کر چے کی تعریف کر رہے تھے۔ کیا سرمایہ داری کے بھوت پریت کسی  کے لئے غور کے قابل ہیں؟ وہ پہلے ہی وہیں موجود ہیں جہاں ٹراٹسکی انہیں تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنا چاہتا تھا۔

صولت ناگی آسٹریلیا میں مقیم ہیں ۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر ہیں۔ وہ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز میں کالم لکھتے ہیں ۔ وہ چھ کتابوں کے مصنف ہیں  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں