141

زرد صحافت اور سرمایہ داری

شمعون ریاض


قدیم روم میں جوں ہی سلطنت کے سیاسی ڈھانچوں کی قانونی حیثیت مشکوک ہونے لگتی اور جرمن قبیلوں کے تخریب کار حملے شدت پکڑتے تو ان خطرات کے ابدی ملاپ کے ردعمل میں شہنشاہ روم کی طرف سے ’سرکس کے کھیلوں‘ میں اضافہ کر دیا جاتا۔ ان تفریحی سرگرمیوں کا مقصد عوام میں مقتدر اعلیٰ کی بابت تشکیل پاتی منفی رائے کا رخ موڑنا تھا۔ کیلیگولا سے لے کر کموڈس تک سب نے یہی طرزِ تسلط اختیار کیا۔ اسی حقیقت پر تبصرہ کرتے ہوئے رومی شاعر جووینل نے کہا تھا ’لوگ صرف دو چیزوں کے لیے بے چین ہیں ایک روٹی اور دوسرا سرکس‘۔ ان کھیلوں میں ایک مشہور کھیل رتھ کی دوڑ کا تھا جوکہ روم کے مشہور سرکس میکسیمس میں منعقد ہوتا تھا۔
تہذیبوں کے تغیر اور تاریخ کے سفر میں مختلف خطے اپنی جداگانہ حیثیت میں متنوع سیاسی و سماجی نظام رکھتے تھے لہٰذا ان پر حاکمیت قائم رکھنے کے لیے فرق فرق طرزِ حکمرانی اپنایا گیامگر ایک بات جو مستثنیات کی قبولت میں تاریخی سند کی اہل ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر جگہ لوگوں اور حکمران طبقے کی امنگوں کی تشریحات متضاد رہیں۔
اس انسانی ارتقائی یاترا کا اوج کمال بیسویں صدی میں نظر آنے لگا۔ اس عہد میں ہونے والی سیاسی و معاشی تبدیلیوں کے نتیجے میں سرمایہ دارانہ جمہوریت تیزی سے رائج ہوئی تو حکمران طبقے کے لیے رائے عامہ کا مسئلہ سر اٹھانے لگا۔ اپنے تسلط کو قائم رکھنے کے لیے ایک ایسے ذرائع کو مسخ کرنے کا آغاز ہوا جسے برطانوی تاریخ دان تھامس مکاولے نے دائرہ کار کی چوتھی اکائی کہا تھا اور جو بعد میں جمہوریت کا چوتھا ستون گردانا گیا یعنی صحافت اور اخبار۔ اس شعبے کی بنیاد میں جو متوازن معلومات کی فراہمی کا نصب العین شامل تھا اس پر پہلا مقبول داغ امریکہ میں ہونے والی زرد صحافت کی صورت میں لگا۔
انیسویں صدی کے آخر میں نیو یارک جرنل کے ولیم ہرسٹ اور نیو یارک ورلڈ کے جوزف پلٹزر نے اپنے اپنے پرچے کی خرید بڑھانے کے لیے خبروں میں سنسنی بھر کر تحقیق سے خالی کر دیا۔ کچھ تجزیوں کے مطابق مبالغے کی یہ جنگ امریکی ہسپانوی جنگ پر منتج ہوئی۔ سابقہ صدی میں سیاسی اشرافیہ اور سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے عوامی حلقے تنگ ہوتے گئے اور میڈیا کی مختلف شکلیں کاروباری پیچیدگیوں کے گرد گھومنے لگیں۔
میڈیا کمپنیوں نے ایک طرف اشتہاری صنعت کو اپنا محور بنایا تو دوسری طرف طاقت ور معاشرتی قوتوں کا ساتھ دیا۔ دولت اور پیداوار کی غیر مساوی تقسیم کے ساتھ ساتھ میڈیا کارپوریشنز بھی سکڑتی گئیں اور زیادہ سے زیادہ کمپنیاں ایک ہی مرکزی تنظیم کے زیر اثر واقعہ ہوئیں۔ بین بیگڈیکین نے اپنی کتاب ’میڈیا اجارہ داری‘ میں امریکی فرد کے جمہوریت میں کردار پر جو سوال اٹھائے ہیں وہ اسی حالت زار کا احاطہ کرتے ہیں۔
امریکہ میں سماجی رابطوں کے ذرائع ہوں یا نیوز میڈیا تنظیمیں سب ارب پتی دھڑے کی ملکیت ہیں۔ طوالت کے گمان سے چند ایک کا ذکر درکار ہو تو دی واشنگٹن پوسٹ جیف بیزوز، دی وال اسٹریٹ جرنل روپرٹ مرڈوک، بلومبرگ مائیکل بلومبرگ اور دی لاس ویگس ریویو جرنل شیلڈن ایڈلسن کی ملکیت ہے۔
اس حالت موجودہ کو برقرار رکھنے کے لیے مخصوص دانشوروں اور ماہر معاشیات کی جانب سے منطقی استدلال بھی پیش کیا گیا۔ ایڈورڈ ایس ہرمن اور نوم چومسکی اپنی کتاب ’تعمیر رضا مندی‘ میں لکھتے ہیں ’نیو لبرل نظریئے نے ان منصوبوں کے لیے منطقی جواز مہیا کیا ہے جن کی بدولت نشریاتی اسٹیشنوں، کیبل اور سیٹلائٹ کے مالکانہ حقوق کو نجی بین الاقوامی سرمایہ داروں کے لیے کھول دیا گیا ہے‘۔ اس دور کے معاشی نظام نے سیاسی سر پرستی میں میڈیا کے ذریعے ایسے بیانئے کی ترسیل کی جس کا مقصد منفعت کا استحکام تھا۔
بڑھتی عالمگیریت کے تناظر میں اگر پاکستان کے مقامی نشریاتی اداروں کی بات کی جائے تو معاملہ مندرجہ بالا صورت حال کی توسیع نظر آتا ہے۔ یہاں پر بھی میڈیا تجارت کاری کے سوا کچھ نہیں جو منڈی سے خود مختار دیگر خبری ذرائع کا وجود مشکل بنا دیتا ہے۔ چند بڑے چینل اور صحافی زرد صحافت کی باقیات کو اپنی وراثت سمجھ کر آج بھی سنسی میں لتھڑی ہوئی سرخیوں کو اپنی زینت بناتے ہیں اور کچھ نجی ادارے پڑوسی ملک کی سنسی سے مقابلے کے خواہاں ہیں۔
بغیر کسی تعجب کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مقامی میڈیا پر کاروباری لوگوں کی اجارہ داری ہے جو اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لئے مختلف حکومتوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ اے آر وائی کو بلین سونے کا کاروبار کرنے والے رزاق یعقوب نے قائم کیا، ایکسپریس کی بنیاد کاروباری اور میکڈونلڈ پاکستان کے مالک سلطان علی لاکھانی نے رکھی، بول کو سزا یافتہ مجرم اور تاجر شعیب شیخ نے بنایا اور حال ہی میں سما نیوز کو سیاست دان اور کاروباری شخصیت علیم خان نے خرید لیا۔ اسی طرح باقی میڈیا کی بنیاد یا تو کاروباری لوگوں نے رکھی یا پھر وہ آہستہ آہستہ اسی نشریاتی صنعتی کمپلیکس کا حصہ بن گئے یہاں اشارہ جیو اور دیگر کی طرف ہے۔ ان میں سے بعض لوگ براہ راست سیاست سے منسلک رہے اور بعض کو مختلف ادوار میں سیاسی پشت پناہی حاصل رہی۔ ان افراد کو قومی خادم کے طور پر پیش کرنا بھی معمول ہے۔ 2022ء میں سلمان اقبال کو ملنے والا ستارہ امتیاز اور 2012ء میں سلطان علی لاکھانی کو نوازے جانے والا ہلالِ امتیاز اسی سلسلے کی ایک کڑی معلوم ہوتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ نظام کے تضادات کی بات ہو تو ایک جانب آزاد منڈیوں کے حق میں لفاظی ہے تو دوسری جانب بڑے صنعتی ادارے مختلف کمپنیوں کو اپنے اندر شامل کر کے مارکیٹ پر اجارہ داری قائم کرتے ہیں۔ میڈیا بھی اسی مرکزیت کا شکار ہے۔ جیو اور دیگر ادارے اپنے کیبل چینل، اخبار، میگزین، نیوز چینل، پروڈکشن ہاوسز اور میڈیا کی مختلف شکلیں رکھتے ہیں۔ یہ سب ذرائع بڑھتی ہوئی اشتہاری جنگ کے پیش نظر مختلف پروڈکٹس کی تشہیر اور طرز زندگی کے موضوعات کے گرد گھومتے ہیں جو کہ سیاسی ذہن سازی بھی کرتے ہیں البتہ اثر انداز ہونے کی شدت میں فرق ہے۔ سابق فرانسیسی صدر چارلس ڈیگال نے اس معاملے کو ایک مرتبہ یوں بیان کیا ’اگر میرے دشمنوں کے پاس پریس ہے تو میرے پاس ٹیلی ویژن ہے‘۔
صحافی برادری کے بارے راقم سمجھتا ہے کہ ان کے اندر ایک مخصوص قسم کی ادارتی اخلاقیات پروان چڑھتی ہیں جو خبر کی اہمیت کا تعین کرتی ہیں۔ بہت سی خبریں کسی خاص مقصد یا دباؤ کی بنا پر راز رکھی جاتی ہیں اور بعض اوقات مجرمانہ مسکراہٹ لیے ’اندر کی بات‘ کہہ کر تحقیقی صحافت کو شرمندہ ہونے کا موقع دیا جاتا ہے۔ یہاں اچھے تجزیے کی معراج تخیلاتی گھوڑوں کی رفتار ہے جو اکثر معنی سے خالی ہوتا ہے۔ ایک محدود سی تنقید بھی پیش پیش ہے جو نظام کے بنیادی جبر کی مزاحمت کئے بغیر صحافت کو چار چاند لگاتی ہے۔ چند انفرادی صحافی اس سے مستثنیٰ ہیں مگر غالب صورت حال یہی ہے۔ والٹر گیبر نے اپنے ایک مشہور مضمون کا عنوان کچھ یوں طے کیا ’خبر وہی ہے جو خبر دینے والا اسے بنا دیتا ہے‘۔ یہ عنوان اس امر کی مفصل تجسیم کرتا ہے۔ آج کا وقت یہ تقاضا کرتا ہے کہ سماجی رابطوں کے موثر استعمال کے ساتھ ساتھ اس فریبِ نظر کو بے نقاب کرنے کی جدوجہد ہو جو اس دور کے فرد کا لاشعوری محاصرہ کئے ہوئے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں