عورتوں کی زندگیوں کا محور

ندا اسحاق


"تمہارا گلی والی سارہ کے ساتھ کیا سین چل رہا ہے؟ تم کیوں اس سے اتنا مذاق کرتے ہو؟”
"ارے بھئی! وہ خود ہی مجھ سے فری ہوتی ہے، اب بات بھی نہ کروں اس سے؟ یارررر! تم رو کیوں رہی ہو اب؟”
یوں کسی کی ذاتی گفتگو سننا اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا لیکن انگریزوں کی ایجاد کردہ تنگ و چھوٹی کافی شاپ میں آس پاس والوں کی گفتگو سماعتوں سے نہ ٹکرائے یہ ممکن نہیں. جناب نہ چاہتے ہوئے بھی میرے کانوں نے مندرجہ بالا گفتگو کو سنا. سیاہ برقعہ اوڑھے ایک لڑکی سامنے بیٹھے لڑکے سے گڑگڑانے والے انداز میں پوچھ رہی تھی کیونکر وہ گلی والی سارہ سے فرینک ہوتا ہے. لڑکے نے مغرورانہ انداز میں جواباً سمجھانے کی کوشش کی اگر وہ لڑکی اس سے قریب ہونے کے بہانے تلاشتی ہے تو وہ کیا کر سکتا ہے (آخر مرد جو ٹہرا)۔
صوفے نما کرسی پر براجمان بظاہر میں اخبار پڑھتے ہوئے دکھائی دے رہی تھی لیکن در حقیقت میرے کان اور دھیان اس جوڑے کی جانب تھے۔
لڑکی کو روتا دیکھ کچھ دیر کے لیے میرے دل میں آیا کہ آٹھ کھڑی ہوکر مخاطب کرکے بولوں:
"ارے بہن! آخر کیا کمی ہے تم میں جو آدھے گھنٹے سے اس آلو بخارے سی شکل والے لڑکے کے سامنے یوں رو رہی ہو.” (لیکن یہ جرات ہم سے نہ ہو سکی)۔
اسی دوران میری دائیں جانب پڑی ٹیبل پر دو سہیلیاں آ بیٹھیں، میں اخبار پڑھنے کی جدوجہد میں کوشاں ہی تھی کہ لڑکیوں کی آپ بیتی میری سماعتوں سے گزری. وہ بھی اپنے ریلیشن شپ کو لے کر ایک دوسرے کے ساتھ دل ہلکا کر رہی تھیں. میں نے اکتا کر سوچا آخر ان لڑکوں اور لڑکیوں کو عشق و محبت کے سوا کوئی اور کام نہیں؟ لیکن جونہی منٹو سرکار کی لکھی بات یاد آئی "مرد کے اعصاب پر عورتیں سوار نہ ہوں تو کیا ہاتھی گھوڑے سوار ہوں”
میں عرض کرتی ہوں کہ "عورتوں کے ذہنوں پر مرد سوار نہ ہوں تو کیا گدھے سوار ہوں”، بے اختیار ہنس پڑی۔
دراصل مجھے روتی، گڑگڑاتی اور شکایت کرتی ہوئی خواتین کبھی پسند نہیں رہیں (اور یقیناً ایسی خواتین مردوں کو بھی پسند نہیں). مرد کے آگے جھکنا اور اسکی خوشامد کرنا میری عزتِ نفس کو کبھی گوارا نہ گزرا. بچپن سے شوہر کا فرمانبردار رہنے کے گر سکھائے جاتے ہیں لیکن اس فرمانبرداری اور قربانی کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوتا.
شوہر ہو یا بوائے فرینڈ، خواتین کی زندگی کا دائرہ انہی کے گرد گھومتا ہے. خواتین اپنی شناخت یا پہچان کیوں نہیں بناتیں؟ اپنی پوری زندگی کو صرف ایک مرد کے لیے وقف کردینا بری بات نہیں لیکن اس پوری مدت میں اپنے آپ کو نظر انداز کرنا سراسر بیوقوفی ہے. اپنی عزتِ نفس اور ذوق و شوق کو ایک طرف رکھ کر محض مرد کو ہی اپنی زندگی کا محور قرار دینے سے ہم اپنا وقت اور وقار دونوں ہی کھو دیتے ہیں. ہر وقت اپنے شوہر یا بوائے فرینڈ کے سر پر سوار رہنا آپکے ریلیشن شپ کو اکتاہٹ کا شکار کر دیتا ہے. ضرورت سے زیادہ وقت ساتھ گزارنے سے خواتین مردوں کی نظر میں اپنا چارم کھو دیتی ہیں، اپنی خود کی سوشل لائف اور سرگرمیوں کو کسی کی خاطر ترک کرنے کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوتا. اپنی شخصیت کا احترام کریں، کسی کی منظوری حاصل کرنے کی خاطر اپنے قیمتی وقت اور توانائی کو ضائع نہ کریں، یقین جانیے آلو بخارے اور آم جیسی شکلوں والے حضرات آپکی قدر کرنے کے ساتھ ساتھ آپکی قربت کو بھی ترسیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں