ہمارا ریڈیو

شکور خان ایڈووکیٹ


یاسن کے آخری گورنر محبوب علی خان تھے۔ وہ ریڈیو خرید لائے تھے۔ 1966 میں فوت ہوئے تو ان کی اولاد نے ریڈیو درزی محمد کاظم تھاوس والے کو دیا۔ وہی ریڈیو میرے والد محمد کاظم مرحوم سےخرید لائے۔

ان دنوں اّس پڑوس میں کسی کے ہاں ریڈیو نہ تھا۔ میری نظر پہلی بار ریڈیو پر پڑی تو خوشی نہیں مایوسی ہوئی۔ ریڈیو کیا تھا صندوق نما لکڑی کا بوسیدہ ڈبہ تھا جس کے فریم کا رنگ جگہ جگہ سے اڑا ہوا تھا، کونے گِھسے ہوئے تھے، خارش زدہ کتے کی سی شکل بن گئی تھی، ہمیں وہ ذرا بھی اچھا نہ لگا۔

بجا کے دیکھا، مُوا بجتا خوب تھا۔ والد سے کہا وہ اتنی بے زیب، واہیات چیز کیوں اٹھا لائے، وہ بولے: بھئی شکل سے کیا لینا دینا، نہ بجتا ہو تو بتاو۔

والد کی غیر موجودگی میں فیصلہ ہوا کہ یہ بد ڈیزائن چیز محمد کاظم کو واپس دے آتے ہیں۔ قیمت آبا خود وصول کریں گے۔ اسے چادر میں لپیٹا، پیٹھ پہ لاد کر تھاوس کی طرف چل پڑا۔

ریڈیو پر نظر پڑتے ہی محمد کاظم کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ پیشانی پہ شکنیں نمودار ہر گئیں، پوچھا اسے کیوں لائے؟ کہا، جی، ہمیں پسند نہیں۔ بولے: تمہارے والد پسند کرکے لے گئے تھے پھر کیا ہوا؟ میں بولا: ماں، بھابی، بھانجے کو اور مجھے بھی پسند نہیں۔ یہ سن کر مرحوم نے لمبا سانس لیا، کہا: اچھا! والد نے بھیجا ہے؟ میں بولا نہیں وہ گھر پہ نہیں تھے۔ یہ سن کر پھر سے سر سے پاوں تک میرا جائزہ لیا، مسکرائے، بولے، بچے صبح اسے واپس لے جاو۔ آپ کے والد کو پسند نہ آئے تو وہ خود دے جائیں گے۔ رات ان کے ہاں گزاری صبح چارو ناچار ریڈیو واپس گھر لے آیا۔ پھر آہستہ آہستہ ہم اس کے عادی ہوگئے، بدصورتی سمیت اسے قبول کر لیا گیا۔

میرے چچازاد اٹھارہ سال کے دراز قد وجیہہ نوجوان تھے۔ وہ والد سے ناراض تھے، ہمارے گھر آنا جانا چھوڑ دیا تھا۔

اس کی ماں آتی جاتی تھی۔ ایک دن بولی: جب سے آپ کے گھر ریڈیو آیا ہے میرے بیٹے کو کچھ کچھ ہو گیا ہے۔ بات جہاں کہیں کی کہیئے بیچ میں ریڈیو کا ذکر لے آتا ہے۔ کہتا ہے تایا کے ہاں سے ریڈیو لے آو کچھ دیر سن کر واپس کر دیں گے۔ یوں چچی نے دبے لفظوں میں ریڈیو لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ماں نے ان کی بات سنی آن سنی کر دی۔

ہمارے صحن میں خوبانی اور شہتوت کے پیڑ تھے جن پر صبح صادق سے رات گئے تک طرح طرح کی چڑیاں اڑتی اترتی رہتی تھیں، ان کی چہچہاہٹ سے لطف اندوز ہوتے، کبھی غلیل سے پتھر اچھال اچھال کر انہیں اڑاتے۔ کچھ لڑکے بالے غلیل سے چڑیوں کا شکار کرتے۔

ایک صبح وہی چچاذات غلیل لیے شہتوت کے پیڑ کے قریب ٹہل رہا تھا۔ اسے دیکھ کے حیرت ہوئی، وہ ہم سے ناراض تھا آج کیسے ہمارے صحن تک آگیا! اس نے آبا کا پوچھا پھر ریڈیو کا پوچھا۔ میں بولا: ریڈیو گھر میں ہے آبا باہر گئے ہیں۔ بولے، ریڈیو لے آو۔ میں نے انہیں گھر آنے کی دعوت دی، ساتھ ہی سوچتا رہا اسے تجسس بہت ہے دراصل اس نے ہمارے ریڈیو کی شکل نہیں دیکھی، جب دیکھ لے گا سارا شوق کافور ہو جائے گا۔ سوچا کیوں نہ میں اسے پہلے ہی بتا دوں تاکہ ریڈیو پر نظر پڑتے ہی نہ دھچکا لگے نہ الٹے پاوں بھاگے۔
میں نے کہاں: بھائی جان، ریڈیو تو ہے لیکن "کوئی خاص ریڈیو نہیں ہے”۔ بولے: خاص ریڈیو کیا مطلب؟ میری ماں کہتی ہے بہت اچھا بجتا ہے!

میں نے کہا: ہاں بجتا خوب ہے۔ گھر داخل ہوتے وقت اس کے چہرے پہ تجسس اور خوشی کی ملی جلی کیفیت صاف نظر آرہی تھی جیسا کہ اپنی ہونے والی منگیتر کی جھلک دیکھنے آیا ہو۔ ہم گھر میں داخل ہو گئے۔ میں ریڈیو اٹھا لایا، میری نظریں اس کے چہرے پہ مرکوز تھیں، اس نے ریڈیو میرے ہاتھ سے لیا الٹ پلٹ کر دیکھا واپس مجھے تھما دیا، بولے: بجاو، میں نے بٹن گھما کر آن کیا، ایک چینل پر گانے لگے تھے پتا نہیں کس زبان میں تھے۔ چچا زاد کا چہرہ خوشی سے دھمک اٹھا۔ آن آف کرنا سوئی آگے پیچھے گھمانا مجھ سے سیکھ لیا۔ اس دن کے بعد روز آنے لگے ، والد سے ناراضی ختم کر دی۔ والد سے اجازت لے کر ریڈیو ساتھ لے جانا روز کا معمول بن گیا۔

ایک دن پاس والے گاوں کے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا دور پار سے موسیقی کی صدا سنائی دی، لڑکے کھیل چھوڑ کر اس طرف متوجہ ہوگئے، اتنے میں دیوار کی آڑ سے کزن ریڈیو لیے نمودار ہوا۔ تھوڑی دیر رکا، لڑکوں نے انہیں مزید رکنے کا کہا تاکہ وہ ریڈیو سن سکے، ان کی ایک نہ سنی، فل آواز سے ریڈیو بجاتا اگلے گاوں کی طرف روانہ ہوگیا۔

اس نے ہمارے ریڈیو کے لیے کمخواب کا پوشش بنایا تھا، سفید رومال جس پر نامعلوم دوشیزہ نے ایک طرف خوبصورت پھولوں کی کشیدہ کاری کی تھی دوسری طرف بیل بوٹے کاڑھے تھے، وہی رومال اس نے ریڈیو کے دستے کے ساتھ لپیٹ رکھا تھا، گلاب کے تازہ پھول ننھی کلیوں کے ساتھ چُن کر ریڈیو کے کمخواب والے غلاف میں پرویا تھا۔
چچیرا پھولا نہیں سماتا تھا ریڈیو کو لے کے، سارا سارا دن اسے لے کے گھومتا رہتا تھا۔

وہ بوسیدہ ریڈیو کو لے کر رقیب پہ روپ جمانا چاہتا تھا معشوقہ کا دل جیتنا چاہتا تھا یا مدھر سُروں کا شیدائی تھا اس کا صحیح اندازہ نہ ہو سکا۔

سالہا سال استعمال کے بعد ہمارا ریڈیو کباڑ ہونے کے قریب تھا، تواکل خان تھاوس والے کا اللہ بھلا کرے جس نے اسے خرید لیا۔ تواکل خان کے پاس نقد پیسے تھے نہ کوئی اور جنس، صرف ایک عمر رسیدہ گدھا تھا وہ ہم خوشی خوشی لے آئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں