سیلاب 367

سیلاب سےغذر کےگاوں بوبرمیں تباہی 7 افراد جان بحق، 2 لاپتہ


یاسین میں بھی تباہی، چکیداس کا دنیا سے رابطہ منقطع ، سیلابی ریلہ گھروں, کھیتوں، مویشی خانوں،اور باغات میں داخل؛ کھانے پینے کی اشیاء ختم، لوگ قحط کے شکار


بام جہاں رپورٹ

غذر : سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے   اگرچہ پورے  پاکستان سمیت گلگت بلتستان  بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ ہزاروں لوگ  جن میں زیادہ تر عورتیں، عمر رسیدہ لوگ اور بثے شامل ہیں،  سیلابی ریلوں کی نذر ہو رہے ہیں، تین کروڑ سے بھی زیادہ لوگ اپنے گھروں، مل مویشیوں، فصلوں اور باغات سے محروم ہو کر کھلےآسمان تلے  بھوک اور پیاس سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ی

گلگت بلتستان میں داریل تانگیر اور غذر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ غذر میں شیر قلعہ، بوبر، اشکومن اور یاسین بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

 سوشل میڈیا رپورٹوں کے مطابق بوبر میں جمعہ  کو  دریا میں طغیانی آنے سے حفاظتی بند  ٹوٹ گیا  اور  سیلابی ریلا گاؤں  میں  داخل ہوگیا  اور تباہی مچائی  ۔ جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد سمیت نو لوگوں کی جان لے لیں۔

گلگت بلتستان کے ضلع غذر کے گاوں بوبر میں سیلاب سے تباہی کے مناظر۔ فوٹو رحیم خان

 مرنے والوں میں نوشیر خان کی اہلیہ 45 سالہ حلیمہ،  12 سالہ بیٹا  ہاشیم،   پانچ  بیٹیاں   مرجان (۱8) ، مہک (۱5)،   سوہانہ (8)، اور نفال ( 5)، ایک اور بچی جس کی عمر دو سال بتائی  جاتی شامل ہیں۔

ان میں سے نوشیر خان کی دو بیٹیوں سوہانہ اور مرجان، اور  بیٹے ہاشم کی نعش مل گئی  ہیں؛  جبکہ  تین  بیٹیوں  اور اہلیہ سمیت  چار افراد کی نعشیں رات گئے تک نہیں مل سکی ہیں۔

   علاوہ ازین دیگر دو افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع بھی ہے۔ لاپتہ افراد میں 65 سالہ معراج  کی اہلیہ زرینہ اور 85 سالہ بڈولو شامل ہیں۔ ان دونوں کو دن کے تقریبا تین بجے دوران طغیانی محفوظ مقام کی جانب بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

 عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنما شیر نادر شاہی کا کہنا ہے کہ یاسین میں تھوئی رحیم آباد (چکیداس) کے پچاس سے زائد گھرانوں کا دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔

 شوٹ بر اور دریائے تھوئی میں طغیانی کی وجہ سے چکیداس کو دیگر علاقوں سے ملانے والی سڑک ٹوٹ چکی ہے اور پانی کا سطح بلند ہونے کے باعث عوام کے لئے دیگر علاقوں  کے ساتھ رابطہ ناممکن ہوچکا ہے، اس سے پہلے چکیداس کو کونو سے ملانے والا پیدل پل  طغیانی کی وجہ سے دریا برد ہوگیا ہے جس کے بعد عوام نے شوٹ پل سے آنے جانے کا انتظام کیا تھا لیکن اب سیلاب سے چکیداس کو شوٹ کے ساتھ ملانے والی سڑک بھی تباہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے چکیداس کے عوام گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور گاوں میں دکانیں نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں فاقہ  کی نوبت آگئی ہے۔

ضلع غذر کے گاوں بوبر میں سیلاب سے تباہی کے مناظر۔ فوٹو رحیم خان

 انہوں نے بام جہاں سے بات کرتے ہوئے گلگت بلتستان حکومت اور ضلعی  و تحصیل انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ   وہ عوام کو فی الفور  راحت کاری  اور امداد پہنچانے کے لئے جلد از جلد انتظامات کریں ، ورنہ عوام کی جان و مال کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ یاسین برکولتی میں موسلادھار بارش اور دریا کے بہاو میں اضافے کی وجہ سے پانی کئی گھروں میں داخل ہو چکے ہیں۔  لوگوں کے مکانات، مویشی خانے اور فصل،  زمینیں ، درخت اور پھل تباہ ہوچکے ہیں۔

 دریا کی شدت میں مزید اضافے سے برکولتی کے گاوں گاموئی میں مزید مکانات، مویشی خانوں ، فصلات اور درختوں کو شدید خطرات ہیں، برکولتی کے مقام پر دریا کے ارد گرد حفاظتی سربند دریا کے بہاو کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے جس کی وجہ سے مزید آبادی اور گھروں میں پانی داخل ہوجانے کا خدشہ ہے۔

 انہوں نے اس بات پر غم و غصے کا اظہار  کیا کہ  تحصیل انتظامیہ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے کارکنوں  اور منتخب عوامی نمائندوں  اور دیگر متعلقہ ادارے بالکل غائب ہیں اور عوام کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں ۔ انہوں نےحکومت  اور مخیر حضرات سے  اپیل کیاکہ  وہ مشکل کے اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں اور ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کا انتظام کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں