سیلاب سے تباہی 161

چترال:وادی گولین ایک بار پھر سیلاب کی تباہی کا شکار


انفراسٹرکچر تباہ، سیاحتی وادی کا دیگر علاقوں سے سلسلہ منقطع؛ ہزاروں لوگ وادی کے اندر محصور


رپورٹ: گل حماد فاروقی

چترال کی خوبصورت سیاحتی مقام  گولین ایک بار پھر سیلاب کی تباہی کا شکار ہوا ہے۔ سیلاب نے انفراسٹرکچر کو تباہ اور وادی کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع کیا ہے۔ اہم پل ٹوٹنے سے ہزاروں لوگ ایک ہفتہ سے وادی کے اندر محصور ہو ئے ہیں۔ لیکن ابھی تک صوبائی حکومت کیا جانب سے انہیں کوئی امدادی سامان نہیں پہنچایا گیا ہے۔

رابطہ پل ٹوٹنے کی وجہ سے وادی گولین پچھلے ایک ہفتے  سے دیگر علاقوں سے رابطہ منقطع ہے اور لوگوں کے پاس آشیائے خوردونوش کی شدید قلعت پیدا ہوئی ہے۔ وادی میں محصور ہزاروں لوگ امداد کے منتظرہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کی جان و  مال کو شدید حطرہ ہے اور وہ اب مزید یہاں نہیں رہنا چاہتے۔

سیاحتی مقام وادی گولین حالیہ بارشوں اور مسلسل سیلاب کہ وجہ سے  بری طرح متاثر ہوا ہے، 15 گھر مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں جبکہ 40 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ سیلاب کی وجہ سے بیرموغ، استور اور جنگل گاؤں کا راستہ پچھلے دو ہفتوں سے کٹ چکا ہے۔ جنگل سے آگے پہاڑی چراگاہوں پر گوجر برادری کے 100 گھرانوں سے ابھی تک رابطہ نہ ہوسکا۔

مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت رسی اور لکڑیوں سے عارضی طور پر ایک جھولا پل بنا یا ہوا ہے جو نہایت حطرناک ہے۔ متاثرہ لوگ انتہائی ذہنی دباؤ اور خوف کے شکار ہیں اور اپنے گھریلو سامان آسمان تلے رکھ کر خود بھی کھلے میدان میں رات گزرتے ہیں۔

علاقے کے معمر حضرات  نے بتایا کہ یہاں 1930, 1946, 1977 اور 2019 میں بھی سیلاب آیا تھا آج کل سیلاب آبادی کا رح کرتا ہے اس کی بنیادی وجہ انہوں نے محکمہ واپڈا کی غلط منصوبہ بندی اور دریا کے بہاو ک کی کھدائی ہے۔ محمکہ نے 107 میگا واٹ پن بجلی گھر  کیلئے اس وادی میں پانی کو زخیرہ کرنے کےلئے تالاب بنایا ہے اس کیلئے ٹھیکدار نے نالہ سے ہٹ کر آبادی کی جانب زمین کو کی کھدائی کرکے اسے ناہموار بنایا جس کی وجہ سے پانی کا رخ آبادی کی جانب ہوتا ہے اور اس کے بعد اب مسلسل یہاں سیلاب آتا ہے۔

بار بار سیلابوں کی وجہ سے علاقے کے خواتین اور بچے بھی  نہایت ڈرے ہوئے ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں کسی محفوظ جگہہ منتقل کیا جائے کیونکہ اب ان کی جان و مال یہاں محفوظ نہیں ہیں۔

بام جہاں اور ہائی ایشیاء ہیرالڈ کے نمائندے نے اس وادی کا دورہ کیا اور انتہائی حطرناک رسیوں کے پل پر سے گزر کر آگے سیلابی پانی میں جانا پڑا۔ جاتے وقت راستے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک مسجد کے نیچے راستہ صاف تھا مگر جب وہ واپس آئے تو مسجد کے اندر سے سیلاب کا پانی بہہ رہا تھا اور چند ہی لمحوں میں مسجد سیلابی ریلے میں بہ گیا۔

راستوں کا نام و نشان نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا ٹیم سیلابی ریلے کے بیچ میں پھنس گئے جنہیں دیکھ کر آس پاس کھڑی خواتین نےچیخ وپکار شروع کیں۔ میڈیا ٹیم نے بمشکل سیلابی ریلے جان بچا کر محفوظ مقام کی جانب بھاگ گئے۔

وادی میں جن لوگوں کے گھر تباہ ہوئے ہیں ان کے خواتین، بچوں اور بوڑھوں نے ایک مقامی قبرستان میں پناہ لی ہے جو قدرے اونچائی پر ہے۔ ان خواتین نے بتایا کہ یہاں چیونٹی،  بچھوں، سانپ اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے ان کو حطرہ ہے۔

سیلاب کی وجہ سے دو مساجد بھی شہید ہوئے ہیں۔ ایک مسجد کے پیش امام نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اب تو باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے بھی جگہہ نہیں بچا ہے۔  راستے اور پلوں کے ٹوٹنے کی وجہ سے وادی میں ہر قسم کا ٹریفک  مکمل طور پر بند ہے۔ لوگ کندھوں پر  خوراک کا سامان اور پینے کا پانی  اٹھاکر کئی کلومیٹر لے جانے پر مجبور ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کا مواصلاتی نظام  اسی طرح منقطع رہا تو  خدشہ ہے کہ ان کے پاس کھانے پینے کیلئے کچھ بھی نہیں بچے گا۔

جن لوگوں کے گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوا ان کے اندر اب بھی سامان ملبے تلے پھنسا ہوا ہے مگر ان کو نکال نہیں سکتے۔ امدادی کیمپوں میں ایسے بچے بھی دیکھے گئے جو مکئی کا بھٹہ کھا کر اس پر گزارہ کر رہے ہیں۔

متاثرہ لوگوں نے حکومتی اداروں  سے مطالبہ کیا  کہ یا تو سیلاب سے بثانے کے لئے گاوں کے کے گرد حفاظتی پشتے بنیا جائے یا پھر ان کو کسی محفوظ جگہ میں منتقل کرکے ان کے زمین کے برابر ان کو زمین دیا جائے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ فوری طور پر مالی مدد کی جائے  تاکہ لوگ سردیاں آنے سے پہلے اپنے تباہ شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کر سکیں اور ان کے راستے بھی بحال کیا جائے۔ تاکہ لوگ بھوک و پیاس کا شکار نہ ہوں ۔

امدادی کیمپ میں ایک خاتون بیٹھی تھی جن کی آنکھ سیلاب کے دوران دوڑتی ہوئی لکڑی سے ٹکرا کر زحمی ہوئی تھی مگر وہ راستہ نہ ہونے کی وجہ ہسپتال نہیں جاسکتی۔ کئی دل کے مریض بھی ایسے ہیں جن کے پاس ادویات ختم ہو چکے ہیں اور وہ زمینی رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے ہسپتال جانے سے قاصر ہیں۔

حالیہ بارشوں اور مسلسل سیلاب کی وجہ سے وادی کی سڑک، تین پل بہہ چکے ہیں جس کی وجہ سے ان لوگوں کا ملک کے دیگر حصوںاور چترال سے بھی زمینی رابطہ منقطع ہے۔ متاثرین کئی کلومیٹر پیدل چل کر کھانے پینے کے سامان اور پینے کا پانی  لے جاتے ہیں۔ کیونکہ سیلاب کی وجہ سے پینے اور آبپاشی دونوں قسم کے پائپ لائن بھی تباہ ہو ئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں