عنایت ابدالی 187

سیلاب کی تباہ کاری اور گلگت بلتستان کی مہمان نوازی


تحریر: عنایت الرحمان ابدالی

 پاکستان میں عموماً بحرانوں کے دوران یہ دیکھا گیا ہے کہ جب بھی خورد ونوش یا ضروریات زندگی  کی قلت پیدا ہوتی ہے یا مصنوعی قلت پیدا کیا جاتاہے اور خاص طور پر بڑے آڑھتی یا کاروباری طبقہ ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کرتے ہیں اور لوگوں کی مجبوریوں سے غلط فائدہ آٹھاتے ہیں۔

لیکن کچھ خطے ایسے بھی ہیں جہاں ابھی تک انسانیت باقی ہے اور لوگ منافع سے زیادہ اپنے روایات کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہیں۔ گلگت بلتستان بھی ان چند خطوں میں سے جہاں ابھی لوگ اپنی اچھی روایات اور انسان دوستی کو دیگر مفادات پر فوقیت دیتے ہیں ۔اس کی تازہ مثال حالیہ غیر معمولی بارشوں اور اس کے نتیجے میں سیلابوں سے سڑکوں اور پلوں کے ٹوٹنے اور بہیہ  جانے سے  ہزاروں لوگ مختلیف جگہوں پہ پھنس گئے۔ بہت سے سیاح گلگت بلتستان میں شاہراہ ریشم اور کاغان ہائی وے کے ٹوٹنے سے پھنس گئے تھے۔


انسان دوستی کی ایک اچھی مثال


گلگت بلتستان سیاحت کے لیے مشہور ہے ان دنوں  پاکستان کے مخلتف شہروں سے سینکڑوں سیاح ان علاقوں  میں  موجود ہیں ۔  بارشوں کی وجہ سے مختلف علاقوں کے سڑکیں جگہ جگہ بند ہو نے کی وجہ سے وہ واپس اپنے شہرون میں جا پا رہے تھے ۔

جب بھی کوئی ہنگامی صورتحال ہو تو سیاحوں اور عام لوگوں کی یہ شکایت ہوتی ہے کہ ہوٹل مالکان منافع خوری  کر تے ہیں ۔ اس غیر معمولی بحران میں بھی پاکستان کے شہروں میں سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئی  ہے۔

 لیکن اس دفعہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کے ہوٹل مالکان  انسان دوستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل کھول کر سیاحوں کی خدمت کرنے کےلیے تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔سیاحوں کی جنت تحصیل پھنڈر کے شیر فراز صاحب نے فیس بک  وال   پر لکھا ہے کہ ” جو مسافر اور سیاح پھنڈر ویلی میں بارش کی وجہ  سے پھنس چکے ہیں وہ پھنڈر گارڈن ان میں مفت قیام کرسکتے ہیں۔ ان کے لیے ناشتے کا بھی بندوست کیا جائے گا۔”

پھنڈر ویو ہوٹل کے مالک نے بھی لکھا ہے کہ "پھنڈر میں پھنسے ہوئے سیاحوں کےلیے مفت قیام کا بندوست کیا گیا ہے”۔

راشد احمد لکھتے ہیں کہ "جو مسافر اور سیا ح حضرات شاہراہ ریشم بلاک ہونے کی وجہ سے ہنزہ نگر میں پھنسے ہیں  انہیں’ہنزہ بلو سم ان’  میں  مفت رہائش دی جا سکتی ہے” ۔

سٹی ہوٹل کے منیجر نے لکھا ہے کہ "جو  بھی مسافر گلگت میں سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پھنس گیا ہے وہ سٹی ہوٹل گلگت میں مفت رہائش حاصل کر  سکتا ہے”۔

فضل کریم نامی فیس بک کے ایک صارف نے اپنے اکاؤنٹ سے پیغام بھیجا ہے کہ "گھوڑا چوک الفضل مارکیٹ کے قریب گاہکوچ پائی میں غیر مقامی افراد  اور سیاحوں کے لیے مفت کمرے دستیاب ہیں”۔

ان موسموں میں سیاح مری، سوات اور دیگر علاقوں میں جاکر جب منزل کی جانب رواں ہونے سے رہ جاتے ہیں تو ہوٹل مالکان منہ مانگے دام لیتے ہیں مگر گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں میں ہوٹل مالکان سیاحوں اور غیر مقامی افراد کےلیے مفت کھانے پینے اور رہنے کےلیے اپنے ہوٹلز کھلے رکھ کر انسانیت کی واضح مثال قائم کی ہے۔

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ صرف پیسے ہی سب کچھ نہیں ہوتے ہیں بلکہ پیسے کسی حد تک اہم ہے سب سے اہم اور لازمی بات یہ ہے کہ آپ مشکل کے وقت کسی کی مدد کریں خواہ وہ کسی بھی علاقے ، مذہب، رنگ،نسل، زبان یا ذات سے ہو۔

سٹی ہوٹل کے منیجر نے لکھا ہے کہ ” کوئی بھی جو گلگت میں سیلاب/ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پھنس گیا ہے وہ سٹی ہوٹل گلگت میں مفت رہائش حاصل کر سکتا ہے۔”

فضل کریم نامی فیس بک کے ایک صارف نے اپنے اکاؤنٹ سے پیغام بھیجا ہے کہ ” گھوڑا چوک الفضل مارکیٹ کے قریب گاہکوچ پائین میں غیر مقامی افراد  اور سیاحوں کے لیے مفت کمرے دستیاب ہیں۔”

ان موسموں میں سیاح مری، سوات اور دیگر علاقوں میں جاکر جب منزل کی جانب رواں ہونے سے رہ جاتے ہیں تو ہوٹل مالکان منہ مانگے دام لیتے ہیں مگر گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں میں ہوٹل مالکان سیاحوں اور غیر مقامی افراد کےلیے مفت کھانے پینے اور رہنے کےلیے اپنے ہوٹلز کھلے رکھ کر انسانیت کی واضح مثال قائم کی ہے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ صرف پیسے ہی سب کچھ نہیں ہوتے ہیں بلکہ پیسے کسی حد تک اہم ہے سب سے اہم اور لازمی بات یہ ہے کہ آپ مشکل کے وقت کسی کی مدد کریں خواہ وہ کسی بھی علاقے ، مذہب، رنگ،نسل، زبان یا ذات سے ہو۔ عنایت ابدالی فری لائنس جرنسلٹ ہیں اور ان سے  ان کے ٹیوٹر اکاؤنٹ پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔


سیلاب سے تباہی


 گلگت بلتستان کا ضلع غذر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ ضلع غذر کے سب سے قدیم گاؤں بوبر میں سیلابی ریلے سے تقریباً سو کے قریب گھرانے بے گھر ہوگئے ہیں جبکہ ایک عبادت خانہ مکمل طور پر سیلاب کے اندر دب گیا ہے۔ ایک ہائی اسکول بھی جزوی طور پر متاثر ہواہے۔اس سانحہ کا سب سے دلخراش پہلو یہ ہے کی اس میں ایک ہی خاندان کے سات افراد سمیت ایک عمر رسیدہ بزرگ سیلاب کے خونین موجوں کی نذر ہو گئے ۔

تحصیل اشکومن  ا کے کئی علاقوں کاگزشتہ ایک ہفتے سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر گاہکوچ سے زمینی راستہ منقطع ہوگیا ہے اور کئی خاندان  سیلاب سے بےگھر ہوگئے ہیں۔ سب ڈویژن یاسین میں طاؤس میں کئی  لوگ متاثر ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب تحصیل گوپس کے گاؤں داہیمل میں بھی سیلاب سے چند گھرانے متاثر ہوئے ہیں۔

مشہور سیاحتی مقام تحصیل پھنڈر میں بارشوں سے کسی قسم کا جانی نقصان تو نہیں ہوا ہے لیکن لوگوں کی سال بھر کی محنت سے تیار شدہ گندم اور دیگر فصلیں مکمل طور پر ضائع ہوگئیں ہیں۔ بالائی علاقوں میں اس موسم میں گندم کی کٹائی جاری ہے اس دوران بارشوں کی وجہ سے ان علاقوں بلخصوص تحصیل پھنڈر، یاسین اور اشکومن کے بالائی علاقوں کے لوگ سال بھر کی محنت سے تیار فصلوں کو سمیٹنے والے تھے کہ بارش نے ان کو ناقابلِ استعمال بنا دیا ہے۔

سیلاب نے دیامر ڈویژن کے  وادئی تانگیر کے کئی علاقوں  میں تباہی پھیلائی ہے اور  ۵۴ گھر مکمل تباہ اور تقریبا ۲۰۰ گھروں کو جزوی نقصان پہنچایا ہے۔

ضلع نگر کے ہوپر وادی  اور جگلوٹ گورو میں بھی کافی نقصانات ہوئے ہیں۔  ان پریشان کن اور مایوس کن صورتحال میں کچھ امید افزا اور حوصلہ  بخش خبریں بھی آرہی ہے  جس سے انسانیت پر یقین قائم رہتا ہے۔


عنایت ابدالی

ؑعنائیت الرحمٰن ابدالی شعبہ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ وہ سیاسی و سماجی کارکن بھی ہیں اورعوامی مسائل پر مختلیف اخبارات میںکالم لکھتے ہیں۔


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں