غذر ایکسپریس وے اور این ایچ اے کی چہیتی کمپنی


تحریر: فریاد فدائی


آر ڈی سی کمپنی کوہستان سے تعلق رکھنے والے مولانا بقی صاحب کے صاحبزادگان میں سے سجاد اللہ صاحب چلا رہے ہیں۔

موصوف اب ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر اور معاشی تعلقات رکھنے والے ٹھیکیدار کو بھی کمپنی کا شراکت دار بناچکاہے۔

 یوں یہ کمپنی گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں پھیل رہی ہے  یہ کمپنی گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کی سطح پر اپنی نوعیت کی بڑی کمپنی سمجھی جاتی ہے جو ملک کے چند مشہور کمپنیوں کے بعد  سیمنٹ ،سریا، اور تارکول کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

این ایچ اے حکام ہو یا مقتدر حلقے پاکستان کے نامی گرامی تعمیراتی کمپنیاں ہوں یا چین جیسے ممالک کے شی نائیوک جسیے بااثر کمپنیاں سب ان کے آگے بے بس رہیں۔

 بلکہ اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد بھی کسی بڑی کمپنی کی نسبت کافی حد تک زیادہ ہے یہ ٹھیکہ حاصل کرنے  میں کوئی بھی قیمت ادا کرنے سے نہیں کتراتی۔

 دو ہزار اکیس میں جب گلگت چترال روڈ کی تعمیر نو کی خبریں گردش میں آئی تو  اس دن سے مذکورہ کمپنی کے مالکان ہاتھ دھو کر اس ٹینڈر کے پیچھے پڑھ گئے۔

 انہوں نے ہر محاذ پر تیغ زنی کی جو بھی رکاوٹ ان کے راستے میں آئی یہ پیروں تلے روند ڈالے

 این ایچ اے حکام ہو یا مقتدر حلقے پاکستان کے نامی گرامی تعمیراتی کمپنیاں ہوں یا چین جیسے ممالک کے شی نائیوک جسیے بااثر کمپنیاں سب ان کے آگے بے بس رہیں۔

 یوں  طویل جدو جہد کے بعد انہوں نے پورے منصوبے کا تین چوتھائی حصہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

 کمپنی نے گلگت چترال روڈ کا ٹھیکہ جن مراحل سے گزر کر حاصل کئے وہ ایک الگ کہانی ہے اس پر پھر کسی موقع پر بات کریں گے۔

 سر دست میں آپ کو  اس کمپنی کی کارکردگی سے متعلق کچھ معلومات فراہم کررہا ہوں

 سال  دو ہزار بیس  میں ان کو چلاس تھور سے رائیکوٹ پل تک سڑک کی مرمت کا ٹھیکا ملا جو نہ صرف تاخیر کا شکار ہوا بلکہ ناقص میٹریل کا استعمال بھی دل کھول کر کیا گیا۔

 اس معاملے پر چلاس کے عوام سراپا احتجاج ہوئے جس پر کسی نے کان نہیں دھرا مقامی سمیت گلگت بلتستان بھر کی پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے کاکردگی اور تاخیری حربوں کی خبریں ایوانوں تک پہچایا تاہم حکام بالا نوٹس لینے تک سے گریزاں رہی۔

 سال  دو ہزار بیس  میں ان کو چلاس تھور سے رائیکوٹ پل تک سڑک کی مرمت کا ٹھیکا ملا جو نہ صرف تاخیر کا شکار ہوا بلکہ ناقص میٹریل کا استعمال بھی دل کھول کر کیا گیا۔

 ناران کاغان روڈ کی مرمت کا کام بھی آر ڈی سی کے حصے میں آیا وہاں بھی مذکورہ کمپنی نے جو کچھ کیا اس سے بھی گلگت بلتستان کا ہر شہری خوب واقف ہے۔

 وہاں ہنزہ مرتضیٰ آباد میں ایک ٹھیکہ آر ڈی سی کے جولی میں ڈال دیا گیا لیکن کارکردگی وہاں بھی صفر رہی۔

 القصہ اب تک گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان میں جہاں بھی ٹھیکا ملا وہاں صرف اور صرف ہٹ دھرمی کی داستاں رقم ہوئی۔

جہاں مکمل ہوا سالوں کی بجائے مہینوں میں وہ تعمیراتی منصوبے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔

تاہم یہ کمپنی آج بھی این ایچ کو اتنا ہی عزیز ہے جسیے والدین کو اولاد۔

 مجھے ان کی اثر رسوخ اور خوش قسمتی پر حیرت اس لئے ہے کہ گلگت بلتستان کے نامور ٹھیکیدار صاحبان جو چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں بروقت کام مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ان کے لائنسنس کنسل کئے گئے، بلات کی ادائیگی روک دی گئی جس کی وجہ سے وہ راہ راست پہ  آگئے۔

 لیکن اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ کارکردگی کے باوجود بھی آر ڈی سی آئے روز ملک میں ٹھیکہ لیتا ہے، تاہم ان کی کارکردگی ترقی کی بجائے زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے۔

 اس پر کوئی بھی بولنے کو تیار نہیں۔ یہ کمپنی ٹھیکہ لینے کے بعد آنکھ مچولی کے لئے مشنیری، سیمنٹ اور سریا پہنچا کر تعمیراتی اداروں کی یقین اور اعتماد حاصل کرلیتے ہیں

 اس کے بعد یہ منصوبے آسائش سے عذاب حتیٰ کہ قبرستان کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں۔ مگر  ان سے کوئی پوچھنے کی ہمت تک نہیں کرتا۔

مجھے گلگت چترال روڈ پر کام شروع ہونے سے اب تک صرف یہ تشویش ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ منصوبہ بھی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھے،

 کیوں کہ گلگت چترال روڈ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے لئے کئی حوالوں سے انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے۔

 اس منصوبے سے جہاں گلگت بلتستان کے باسیوں کو سفری اور تجارتی سہولیات میسر آئیں گے،

 وہی پر ضلع غذر اور چترال میں سیاحت کو فروغ ملے گا، جب سیاحت ترقی کرے گی تو روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے، جس سے غربت کی شرح میں کمی آئے گا۔

شندور کے اس پار چترال اور اس طرف ضلع غذر میں شرحِ غربت جس تیزی سے بڑھ رہی ہے وہ لمحہ فکریہ ہے ان دونوں علاقوں میں غربت کے خاتمے اور سیاحت کی فروغ کے لئے گلگت چترال روڈ انتہائی اہم ثابت ہوگا۔

  اگر اس منصوبے میں کوتاہی سے کام لیا گیا اور ہمارے ترجمان کام کی نگرانی کے بجائے این ایچ اے  ٹھکیدار صاحبان کو ڈرائیور بھرتی کروانے کے پیچھے پڑیں گے  

 تو پھر گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع اپر اور لوئر چترال کو پسماندگی سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ بلکہ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کی سیاحت پر بھی اس کے تباہ کن  اثرات مرتب ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں