193

خیبر پختونخوا مالی بحران کا شکار, پچپن ارب روپے کا اوور ڈرافٹ لے لیا


رپورٹ: کریم اللہ


خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کم و بیش ساڑھے نو سال ہوچکے ہیں اور ان نو سالوں کی کارکردگی اب یوں سامنے آگئی ہے کہ صوبہ مکمل طور پر مالی بحران کا شکار ہے۔

جس کی وجہ سے سرکاری امور کو چلانے کے لئے بھی خزانے میں پیسے نہیں۔ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔

خیبر پختونخوا کا موقر اخبار روزنامہ مشرق نے اپنے ذرائع کی توسط سے دعوی کیا ہے کہ  اس وقت خیبر پختونخوا مکمل طور پر مالی بحران کا شکار ہے جس سے نمٹنے کے لئے محکمہ مالیات نے حکومتی امور چلانے کے لئے جی پی آئی فنڈ سے دس ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون میں منتقل کر دئیے ہیں۔

اخبار کے ذرائع کے مطابق روان مالی سال کے ابتداء ہی سے صوبائی حکومت مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے رواں مالی سال میں جولائی اور اگست میں مالی مشکلات کی وجہ سے وفاقی حکومت سے پچپن ارب روپے کا اوور ڈرافٹ لیا ہے، جبکہ صوبائی حکومت سمتبر میں بھی اوور ڈرافٹ پر چل رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لئے فنانس ڈریپارٹمنٹ نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم فنڈز بورڈ سے اجازت لے کر جی پی آئی فنڈ سے دس ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون میں ٹرانسفر کئے ہیں تاکہ صوبائی حکومت کے امور چلائے جاسکیں۔


اس وقت خیبر پختونخوا مکمل طور پر مالی بحران کا شکار ہے جس سے نمٹنے کے لئے محکمہ مالیات نے حکومتی امور چلانے کے لئے جی پی آئی فنڈ سے دس ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون میں منتقل کر دئیے ہیں


ذرائع کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران بھی صوبائی حکومت مالی مشکلات سے دو چار تھی جس کی وجہ گزشہ مالی سال کے دوران صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے ایک سو بہتر ارب روپے کا اوور ڈرافٹ لیا تھا جب کہ سرکاری ملازمین کے پنشن فنڈ سے سولہ ارپ روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کئے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران صوبائی حکومت کے مالی بحران کی سب سے بڑی وجہ سالانہ ترقیاتی پروگرام ( اے ڈی پی) کے لئے مکمل فنڈز مالی سال کے ابتدا ہی میں جاری کرنا ہے۔ روزنامہ مشرق کے مطابق صوبے کی مالی مشکلات کی وجوہات اور اس صورت حال سے نکلنے کے لئے حکومت کے اقدامات کے بارے میں جاننے کے لئے صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا ، اسپیشل سیکرٹری خزانہ اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے فنڈز انچارچ سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہ ہوسکا۔


صوبائی حکومت کی مالی مشکلات پر قابو پانے کے لئے فنانس ڈریپارٹمنٹ نے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں قائم فنڈز بورڈ سے اجازت لے کر جی پی آئی فنڈ سے دس ارب روپے صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ ون میں ٹرانسفر کئے ہیں تاکہ صوبائی حکومت کے امور چلائے جاسکیں


اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ ماہ اکتوبر کی تین تاریخ کو بھی صوبے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں انہیں نہیں ملی ہیں۔ جو اس بحران کو مزید واضح کررہی ہے۔ جبکہ صوبائی حکومت نے چند روز قبل بغیر پوچھے صوبے کے سارے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں چھ دن کی کٹوئی کی ہے جسے سیلاب متاثرین فنڈ میں جمع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ ملک پورا دیوالیہ پن کے دہانے پر کھڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں