عوامی ایکشن کمیٹی کا 21  اکتوبر سے گلگت میں دھرنے کا اعلان


سیاسی و مذہبی جماعتوں، تاجران اور  اور سول سوسائٹی کےگرینڈ جرگہ نے فیصلہ کیا کہ ان کے مطالبات  بشمول گندم کی رعائتی قیمت پر فراہمی کی بحالی اور ٹیکس کے مجوزہ قانون کی واپسی اور بجلی کی بلوں میں اضافہ کی واپسی کے لئے جلد تحریک شروع کی جائیگی۔


نمائندہ خصوصی

عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام ۱۲ اکتوبر کو ہونے والی گرینڈ جرگہ کے شرکاء ہاتھ اٹھا کر اتحاد کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلاء محنت کشوں اور تاجروں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گندم کی رعائتی قیمت پر فراہمی اور مجوزہ ٹیکس قوانین سمیت دیگر مطالبات کے حق میں 21 اکتوبر سے اتحاد چوک گلگت میں دھرنا دین گے۔

اگر مقامی حکومت نے ان کے مطالبات منظور نہیں کئے تو وہ2014 کے طرز پر تحریک چلائیں گے۔

یہ فیصلہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ گرینڈ جرگہ میں کیا گیا جو ایک مقامی ہوٹل میں بدھ ۱۲ اکتوبر کو منعقد ہوا۔ جس میں عوامی ورکر پارٹی گلگت بلتستان، ریڈ ورکرز فرنٹ، مرکزی انجمن تاجران، پختون ویلفئیرآرگنائزیشن، نگر سپریم کونسل، پشتنی باشندگان، سول سوسائٹی حلقہ ٣، شاپنگ مالز ایسوسی ایشن، قراقر نیشنل موومینٹ، ہائی کورٹ بار، انجمن حسینیہ نگر، جماعت اسلامی، فلور ملز ایسوسی ایشن سمیت دیگر تنظیموں کے رہنماوں و عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں متفقہ طور پرفیصلہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں گندم کی رعائتی قیمت پر فراہمی کی پالیسی کو ختم کرنے، ریونیو ایکٹ 2022, بجلی کے نرخوں میں بے جا اضافہ کے خلاف اور نئے تعلیمی بورڈ کے قیام کے حق میں 21 اکتوبر سے اتحاد چوک میں احتجاجی دھرنا دیں گے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین فداحسین، بانی چیئرمین احسان علی ایڈوکیٹ، سابق چیئرمین سلطان رئیس، عوامی ورکرز پارٹی کے سربراہ کامریڈ بابا جان، شیخ شبیر حکیمی، مولانا تنویر ، کے این ایم کے سابق چیئرمین ممتاز نگری، گلگت بلتستان یونائٹیڈ موومینٹ کے رہنما فدا ایثار و دیگر نے کہا کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے۔ یہاں پر ٹیکسز کا نفاز، گندم سبسڈی کا خاتمہ اور دیگر کالے قوانین غیر قانونی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے زمینوں، دریاوں، معدنیات، چراگاہوں اور پہاڑوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے اور غیر قانونی طریقے سے لوٹا جارہا ہے جس کے نتیجے میں عوام کو اپنی دھرتی پر اجنبی بنانے کی کوشش کی جارہی۔

گلگت بلتستان کے ۲۰ لاکھ عوام اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ موجودہ اسمبلی ایک جعلی اسمبلی ہے جو عوام کے حقوق کی تحفظ کے بجائے اسلام آباد کے حکمرانوں کے مفادات کی حفاظت کررہی ہے۔ اس اسمبلی سے عوام کے حق میں کوئی بات نہیں ہوتی بلکہ یہ ممبران اسلام آباد سے مل کر اپنے عوام کے گردن پر چھری چلاتے ہیں۔

اب گلگت بلتستان کے عوام کو فرقوں اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کر کے آپس میں نہیں لڑایا جاسکتا کیونکہ عوام اب باشعور ہوچکے ہیں اور اپنے حقوق کے لئے لڑنا جانتے ہیں۔

بام جہاں سے بات کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں بابا جان اور شیر نادر شاہی نے کہا کہ ان کی پارٹی موجودہ سلیکٹیڈ حکومت کی جانب سے مجوزہ روینیو ایکٹ ۲۰۲۲ کے بل پر شدید  تحفظات کا اظہار کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انہیں فورا واپس  لیا جائے۔

"ہم سمجھتے ہیں کہ مجوزہ بل کی آڑ میں گلگت بلتستان کی متنازعہ  حیثیت کو ختم کرکے اسلام آباد سرکار اس خطے پر پچھتر سالہ نوآبادیاتی بیوروکریسی کی گرفت کو مزید مضبوط کرنا چاہتی ہے۔

ان رہنماوں کا کہنا تھا کہ اس ایکٹ کے ذریعے مقامی حکمران طبقہ ایک طرف عوام کے ترقیاتی فنڈ کی بندر بانٹ، لوٹ کھسوٹ میں مصروف ہے تو دوسری طرف پورے خطے کی معدنی، آبی وسائل،خوبصورت سیاحتی مقامات اور پی ٹی ڈی سی کے اربوں مالیت کے موٹیلز اور اثاثہ جات اونے پونے داموں اپنے من پشند غیر مقامی سرمایہ داروں کو بیچنا چاہتی ہے جس کی ہم بھر پور مزاحمت کریں گے۔

موجودہ حکومت نےعوامی مزاحمت کو روکنے اور ان کا توجہ ہٹانے کے لئے شراب اور افیون کے کاروبار کو قانونی حیثیت دینے پربحث کو شروع کروایا۔

گلگت بلتستان رینیو ایکٹ بل ۲۰۲۲ میں منشیات پر ٹیکس لگا کر قانونی درجہ دینے  اور زراعت، تجارت اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ ہر قسم کے گھر، جائداد دکان، اور ہر چیز پر ٹیکس لاگو کیا گیا۔ حالانکہ یہاں کے عوام کھانے پینے کی اشیاء ادویات اور ہر  اس شے پر جو دیگر صوبوں سے یہاں لائی جاتی ہے، پر سیلز ٹیکس پہلے ہی دیتے ہیں۔ چین سے سرحدی تجارت پر کسٹم ڈیوٹی دیتے ہیں۔

با با جان نے کہا کہ گلگت بلتستان کی سابقہ  حکومت نے معدنیات، آبی وسائل اور جنگلات کی بیدردری سے لوٹ کھسوٹ کے لئے مافیہ کو دھڑا دھڑ  لیز دینے اور آبی وسائل کو غیر مقامی مافیہ کے ہاتھوں فروخت کرنے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ایک غیر آئینی ادارہ قائم کیا اور اب زبردستی سیکشن 4 کے ذریعے لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک عالمی مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مہذب، جمہوری معاشرہ میں سب سے پہلے عوام کے بنیا دی انسانی، جمہوری، آئینی حقوق بشمول حق حکمرانی کے حق کو یقینی بنایا جاتا اور اس کے بعد ٹیکس کا نفاز کیا جاتا ہے۔

  شیر نادر شاہی کا کہنا تھا کہ ٹیکس کا نفاذ تب ممکن ہے جب گلگت بلتستان کی ایک خود مختار آئین ساز اسمبلی بنے جو اس خطے کے لئے آئین بنائےاور مقامی حکومت کے ذریعےعوام کے ٹیکس عوام پر خرچ  کرنے کا اختیار ہو۔

 ہم سمجھتے ہیں کہ ان مشکل حالات میں حکمران پہلے اپنی تنخواہیں مراعات، بیروکریسی کے شاہانہ اخراجات کو ختم کرکے عوام کو ریلیف اور انہں اندرونی خود مختاری دے، آزاد عدلیہ قائم کرے اس کے بعد عوام پر ٹیکس لگا دے۔

ان رہنماوں نے خبردار کیا کہ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان عوامی مفادات کے بر عکس کسی بھی اقدام کے خلاف یہاں کے تمام وطن دوست، ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کر بھرپور مزاحمت کرےگی اور یہاں کے 20 لاکھ عوام کےجمہوری،سیاسی،معاشی اور آئینی حقوق کے حصول کے لئے مشترکہ طور پر پرامن جدوجہد کی جائے گی جس کے لئے تمام مقامی اور عالمی فورمز کو استعمال کیا جائے گا۔

یاد رہے وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی مقامی حکومت نے گندم پر دی جانے والی سبسڈی کا خاتمہ اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ دومہنوں سے احتجاج کر رہی ہے اور گلگت بلتستان کے مختلیف ضلعوں میں عوامی احتجاجی رابطہ مہوم کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں