374

غذر ایکسپریس وےحقائق اور کہانیاں


حصہ اول


تحریر: عنایت ابدالی


جب پہلی دفعہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں غذر روڑ تعمیر کیا گیا اس وقت سرفراز شاہ صاحب ناردن ایریاز قانون ساز کونسل کے ممبر تھے۔

 یقیناً غذر روڑ کی تعمیر سرفراز شاہ استاد اور اس وقت کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو کی کاوشوں کے سبب ممکن ہوا۔

 جنرل پرویز مشرف کو بخوبی علم تھا کہ افواج پاکستان میں گلگت بلتستان کے جوانوں کی کثیر تعداد موجود ہے شاہراہ قراقرم بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف دفاعی طور پر گلگت بلتستان کی اگلی پوسٹوں پر دفاعی سامان کی ترسیل مشکل مرحلہ ہے اور گلگت بلتستان کی لوکیشن دفاعی لحاظ سے انتہائی حساس ہے۔

 بلکہ گلگت بلتستان کی سرحدیں چین ، بھارت اوروسطی ایشیاء کے ساتھ لگی ہیں اور کہیں کہیں بہت زیادہ قریب ہیں۔ اس وجہ سے گلگت بلتستان گیٹ وے کی حثیت رکھتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح تھی کہ یہاں کی خوبصورتی اور رعنائیوں نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا سوئٹز لینڈ کا درجہ دلا چکی تھیں

 اور سیاحتی مواقع معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے

مگر قراقرم ہائی وے پر بدامنی کی وجہ سے سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد بھی گلگت بلتستان میں محصور ہوکر رہ جاتے تھے۔

ایسی صورت حال اور تناظر میں غذر روڑ تعمیر کیا گیا جو کبھی کبھار بد امن صورتحال میں شاہراہ قراقرم کا عارضی متبادل کے طور پر کام دیا۔

ضلع غذر کے باسیوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا اور پہلی بار غذر کے باسیوں کو آمدرفت کے مسائل میں کافی حد تک کمی آئی۔

جنرل مشرف کے بعد ہر حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ غذر روڑ کی تعمیر اور پہلے سے بہتر معیار کا روڑ بنا کر غذر میں سیاحت کے فروغ کے لیے راستے ہموار کرے گی مگر تمام دعوے صرف دعوے ہی ثابت ہوسکے۔ زیادہ دور نہیں جائیں گے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں یہ بات پھیلائی گئی کہ غذر روڑ کے لیے فنڈز مختص کی گئی ہے

 اس کے کئی ماہ بعد بالاورستان نیشنل فرنٹ کے قائد نواز خان ناجی، مسلم لیگ نواز کے رہنما سلطان مدد (مرحوم) اور کرنل ریٹائرڈ کریم نے ایک تحریک کا آغاز کر دیا کہ غذر روڑ کے میگا پروجیکٹ ختم کرکے بلتستان منتقل کیا گیا ہے۔

تحصیل پھنڈر میں بھی ایک احتجاج ہوا اس کے بعد نا معلوم وجوہات کی وجہ سے وہ اپنی تحریک آگے نہیں بڑھا سکیں۔

یوں حکومتیں بنتی اور ختم ہوتی گئی مگر غذر روڑ کی تعمیر کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

چند سال بعد مسلم لیگ نواز کی حکومت نے بھی اپنے پارٹی کی پانچ سالہ اقتدار کے دو سال بعد یہ دعویٰ کیا کہ وہ غذر ایکسپریس وے کی تعمیر کرےگی۔

مگر شور و غوغا کے بعد سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان غذر ایکسپریس وے کی جگہ نلتر ایکسپریس وے پر اپنی توانائیاں خرچ کیا

یوں نلتر ایکسپریس وے  ایکنک سے منظور ہوکر ٹینڈر کے مراحل سے گزر کر ناقص تعمیر تک پہنچ  گیا

مگر غذر ایکسپریس وے کے منصوبے پر ایک دفعہ پھر سے مٹی ڈال دی گئی۔

اس وقت مسلم لیگ نواز کے غذر سے وزیر سیاحت فدا خان فدا اور وزیر کے برابر مراغات یافتہ مشیر خوراک غلام محمد حکومت میں شامل تھے،

 مگر انہوں نے اس منصوبے کو ختم کرنے پر کوئی احتجاج تک نہیں کرسکے یوں ان کے منہ پہ تالے لگنے کی وجہ سے سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نلتر ایکسپریس وے کو غذر ایکسپریس وے پر فوقیت دی۔

وفاق میں ان کی حکومت گر گئی تو گلگت میں اُن کی حکومت صرف سی ٹی ایس پی کے تحت اقرباء کو نوکریاں بانٹنے تک محدود رہی اور مزید میگا پروجیکٹ پر ان کو کام کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔

 جس طرح اس دفعہ اسلام آباد میں عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد موجود حکومت کے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا حشر ہوا ہے۔

گلگت بلتستان الیکشن دو ہزار بیس میں غذر حلقہ دو  سے نذیر احمد ایڈووکیٹ بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد یہ طے کرلیا تھا کہ اپنے دور حکومت میں غذر چترال ایکسپریس وے کا میگا پروجیکٹ لانے میں اپنی توانائی صرف کرےگا۔

 شروع میں ہمیں بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس صورت حال میں غذر ایکسپریس وے کا منصوبہ منظور ہوگا مگر الیکشن جیتنے کے چند ماہ بعد ڈپٹی اسپیکر نے اسلام آباد کا رخ کیا اور تقریبا ایک سے دو ماہ کے دورانیے میں ایکسپریس وے کے حوالے سے تمام سٹیک ہولڈرز سے ملتے رہے

 ان کے بقول اس پروجیکٹ کے لیے کوششوں میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید بھی ذاتی دلچسپی رکھتے تھے۔

 ڈپٹی اسپیکر کے مطابق عمران خان کا وژن تھا کہ گلگت بلتستان میں آمدورفت کا نظام بہتر بنا کر گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔!

جگلوٹ اسکردو روڑ اور نلتر ایکسپریس کا کریڈٹ مسلم لیگ نواز کی حکومت، سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان اور ان کے ممبران کو نہ دی جائے تو یہ زیادتی ہوگی

 کیوں کہ یہ کام ان کے دور حکومت میں تقریباً نوے  سے پچھانوے فی صد مکمل ہوا تھا مگر جگلوٹ سکردو روڑ کا افتتاح عمران خان نے کیا۔

عمران خان کی  حکومت نے غذر ایکسپریس، استور روڑ، شاہراہ نگر کی منظوری دی لیکن سب سے تیز کام غذر ایکسپریس وے کے لئے ہمارے منتخب نمائندے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ نے کیا۔

غذر روڑ کو نیشنل ہائی وے کی حوالگی،  ایکنک سے منظوری، ٹینڈر کے مراحل کا کم وقت میں مکمل کرنے سمیت تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے کام کےآغاز میں ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی ذاتی کوششیں خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

 اس دوران حلقے کے نوجوانوں کی جانب سے کافی تنقید کی گئی کہ نمائندے اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں مگر جب یہ منصوبہ منظور ہوا، ٹینڈر کا عمل مکمل اور کام شروع ہوا تو تقریباً چند مخالفین کے علاوہ سب ڈپٹی اسپیکر کی کوششوں کو سراہنے لگے۔

اس تمام دورانیہ میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں میں چند ایک کا کردار انتہائی غلط رہا۔

 ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جب ایکنک سے منظوری ملی اس وقت سے اپوزیشن جماعتیں اراضیات ( آباد اور غیر آباد) کی مارکیٹ قیمت کے مطابق ادائیگیوں سمیت دیگر معاملات کو سامنے لاکر غذر کے منتخب نمائندوں، نیشنل ہائی وے اور ضلعی انتظامیہ سے ملاقاتیں کرتیں

 مگر ان کا زور صرف اس بات پر تھا کہ ڈپٹی اسپیکر ہوائی دعوے کر رہے ہیں کوئی غذر ایکسپریس وے کا منصوبہ اس کے بس کی بات نہیں ہے۔ اپوزیشن غلط سیاست میں لگی رہی اور غذر ایکسپریس وے کو ایک تقریب میں ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ اور بالاورستان نیشنل فرنٹ کے قائد و رکن اسمبلی نواز خان ناجی کی موجودگی میں  نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے حوالے کیا گیا۔

 ابتدائی آیام میں این ایچ  اے کی غفلت کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا رہا مگر اس کا یہ فاہدہ ہوا کہ این ایچ  اے کو حوالے ہونے کے بعد ٹینڈر ہوگیا اور تعمیراتی کام کا آغاز ہوا۔

جب کام کا آغاز ہوا تو دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے جھوٹ پہ جھوٹ بولنا شروع کیا،

 کسی نے کہا کہ یہ سی پیک کا پروجیکٹ ہے تو کسی نے غذر ایکسپریس وے کو میاں محمد نواز شریف اور حافظ حفیظ الرحمان کا تحفہ قرار دیتے رہے۔ مگر آج کی ٹیکنالوجی کے دور میں جھوٹ بولنا آسان نہیں ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں جگلوٹ اسکردو روڑ کی بات چلی مگر وہ اپنے دور اقتدار میں اس منصوبے کا ٹینڈر تک کرانے میں ناکام رہے

 یہی صورت حال غذر ایکسپریس وے کے ساتھ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے کی۔

 انہوں نے دعوے تو کئے  مگر عین وقت میں غذر ایکسپریس وے پر نلتر ایکسپریس کو ترجیح دی۔

 یوں مسلم لیگ نواز کی اسلام آباد اور گلگت بلتستان حکومت غذر ایکسپریس وے کو ختم کرکے عوام کے امیدوں پر پانی پھیرنے کا کام بخوبی انجام دئیے۔

جھوٹے دعوے کرنے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں سیاست دانوں کو جھوٹ بولنے کی مشین کہا جاتا ہے ہر جھوٹ بولنے اور فراڈ کرنے کے عمل کو سیاست کا نام دے کر سیاست کو گندہ کیا جاتا ہے۔

غذر کا ہر باشعور نوجوان جانتا ہے کہ یہ منصوبہ حلقے کے منتخب نمائندے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد ایڈووکیٹ کی کوششوں سے منظوری ہوئی ہے

 اور اس کا کریڈٹ موجودہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو جاتا ہے۔

یقیناً اس اہم منصوبے کا ایکنک سے پاس ہونا اور ٹینڈر کے بعد باقاعدہ کام کا آغاز ہونا خوش آئند ہے گلگت بلتستان بلعموم غذر بلخصوص ترقی کے منازل طے کرے گا۔

                                                    (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں